ہمایوں کا مقبرہ: جہاں آخری مغل شہنشاہ کو اس کے بیٹوں کے سر پیش کیے گئے


آج کے دن میں نے دہلی میں موجود چند تاریخی مقامات پر جانے کا پروگرام بنایا۔ میری پہلی منزل ہمایوں کا مقبرہ تھا۔ ہمایوں کا پورا نام نصیر الدین محمد ہمایوں ہے۔ آپ کی پیدائش 1508 ء میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ بچپن میں سخت بیمار ہو گئے تھے۔ آپ کے والد، ظہیرالدین بابر جو ہندوستان میں مغل سلطنت کے بانی ہیں، نے منت مانی کہ ان کی زندگی ان کے بیٹے کو لگ جائے۔ ظہیرالدین بابر بیمار ہو کر فوت گئے اور نصیر الدین محمد ہمایوں ٹھیک ہو گئے۔

کہانی اسی طرح سے مشہور ہے۔ ظہیرالدین بابر کی جلد موت کی وجہ سے 22 سال کی عمر میں ہمایوں کو سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنا پڑی۔ بائیس سال کا ناتجربہ کار نوجوان اتنی بڑی سلطنت کو سنبھال نہ سکا۔ مغل فوج میں بہت سارے افغان جرنیل تھے، جن میں شیر شاہ سوری اور اس کے والد بھی شامل تھے۔ ان افغان سرداروں نے شیر شاہ سوری کی قیادت میں بغاوت کردی اور بنگال سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ مغلوں کی پوری سلطنت پر قبضہ کر لیا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہندوستان سے مغل سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ پندرہ سال تک ہمایوں اپنے چند سو ساتھیوں کے ہمراہ دلی چھوڑ کر سندھ، بلوچستان، افغانستان اور ایران کے علاقوں میں پھرتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا جب ہمایوں نے مغلوں کے وفادار لوگوں کی فوج اور ایران کے حکمرانوں کی مدد سے شیر شاہ سوری کی موت کے بعد اس کے بیٹوں سے جنگ کر کے اپنی سلطنت واپس لے لی اور دلی واپس آ گیا اور مغل سلطنت کی نئے سرے سے شروعات کی۔ اس دربدری کے دور میں سندھ کے ایک عام سے قلعہ میں جہاں ہمایوں نے پناہ لی ہوئی تھی، اکبر کی پیدائش ہوئی۔

میں آج اسی بادشاہ کے مقبرے پر جا رہا تھا جس نے نئے سرے سے مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ایک لحاظ سے ہمایوں کا مقبرہ وہ پہلی بڑی عمارت تھی جو مغلوں نے ہندوستان میں بنائی۔ اس عمارت کی تعمیر میں پہلی بار سرخ پتھر کا استعمال کیا گیا۔ یہ مقبرہ اور اس سے ملحقہ باغات، ہمایوں کی بیوی حاجن بیگہ بیگم نے اپنے شوہر کی یاد میں بنوائی تھی۔ پھر اس کے بعد بہت ساری بیگمات نے اپنے شوہروں اور بہت سارے شوہروں نے اپنی بیگمات کے مزارات بنوائے، جیسے لاہور میں جہانگیر کا مقبرہ اس کی بیگم نے بنوایا۔ اسی طرح سے تاج محل، ممتاز محل کے خاوند شاہجہاں نے بنوایا اور یوں مغلوں میں یہ رواج عام ہو گیا۔

مغلوں نے مقبرے کو صرف مقبرہ ہی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کے اردگرد اتنے خوبصورت باغات بنوائے کہ وہ باقاعدہ تفریحی مقامات بن گئے۔ ان میں سے تاج محل نے ایسی شہرت حاصل کی کہ وہ دنیا کے عجائبات میں شامل ہو گیا۔

اگر آپ کا لاہور میں موجود جہانگیر کے مقبرہ پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہمایوں کا مقبرہ کیسا ہو گا؟ دونوں کے طرز تعمیر میں خاصی مماثلت ہے البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ ہمایوں کا مقبرہ اپنی وسعت کے اعتبار سے جہانگیر کے مقبرے سے زیادہ بڑا ہے۔ اس مقبرے کی تعمیر اکبر کے دور میں ہوئی لیکن اس کی تعمیر کی تمام تر نگرانی ہمایوں کی بیوی حاجن بیگم نے کی اور اس کا خرچ بھی خود ہی برداشت کیا تھا۔

اس مقبرے سے ایک اور دلچسپ کہانی بھی جڑی ہوئی ہے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بہادر شاہ ظفر نے یہاں آ کر پناہ لی اور پھر یہیں سے ان کی گرفتاری بھی ہوئی۔ ان کے ساتھ جو بھی ظلم ہوئے وہ زیادہ تر اسی مقام پر ہوئے۔

اس جگہ کو مقبرہ کہنا درست نہیں ہے کیونکہ مقبرے میں تو کسی جگہ کے اوپر ایک قبر ہوتی ہے۔ یہ جگہ تو درحقیقت ایک وسیع باغ ہے جس کے اردگرد ایک اونچی چاردیواری ہے۔ باغ میں چاروں طرف پانی کے تالاب ہیں اور بے شمار فوارے موجود ہیں جو ہر وقت پانی ہوا میں اچھال رہے ہوتے ہیں۔ عام طور پر مقبرے عبرت کی جگہ ہوتے ہیں، لیکن یہ تو ایک تفریح کی جگہ ہے۔ یہاں پر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے کم اور تفریح کے لیے زیادہ آتے ہیں۔ اگر میں اس جگہ کو ایک کمپلیکس کا نام دوں، تو زیادہ مناسب ہو گا۔

انھی احساسات کے ساتھ میں اس عظیم عمارت کو دیکھنے چلا گیا۔ جب میں ایک بہت بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ کئی سو فٹ کے فاصلہ پر دوسرا بڑا گیٹ تھا۔ ان دونوں گیٹس کے درمیان ایک وسیع میدان تھا جس میں بے شمار درخت لگے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں یہ جگہ ایک طرح سے پارکنگ اور استقبالیہ کے لیے بنائی گئی ہوگی۔ دوسرے بڑے گیٹ کے بعد ایک بہت بڑے میدان کے درمیان میں وہ عمارت تھی جہاں ہمایوں کی قبر کے علاوہ اور بھی کئی قبریں ہیں۔

دور سے دیکھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ درمیان میں واقع عمارت مقبرہ نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی خوبصورت محل ہے۔ جس کے چاروں طرف سے آپ اندر جا سکتے ہیں۔ یہ عمارت ایک وسیع میدان کے درمیان میں بنائی گئی ہے۔ اس کے چاروں طرف خوبصورت باغ اور باغیچے انتہائی خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔ تاریخ سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس عمارت کے آرکیٹیکٹ کا تعلق ایران سے تھا۔

نا جانے کیوں مجھے ان باغات، باغیچوں اور بلند و بالا عمارتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ میری دلچسپی ان عمارتوں سے جڑی داستانوں میں ہوتی ہے، البتہ میں ان کاریگروں کے فن کی تعریف ضرور کرتا ہوں جنھوں نے یہ کار نامے سر انجام دیے ہوتے ہیں۔ میں ان کے فن کی داد دیے بغیر نہیں رہتا۔ یہاں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔

ایک کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے، مجھے گائیڈ نے بتایا کہ یہ وہ کمرہ ہے جہاں بہادر شاہ ظفر نے لال قلعہ سے آ کر پناہ لی اور وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کئی دن تک اس چھوٹے سے کمرے میں مقیم رہے۔ اب یہ کمرہ میرے لیے کمرہ نہیں رہا بلکہ تاریخ کا ایک گواہ بن گیا اور میں چشم تصور سے اس کمرے میں ایک تاریخی واقعہ دیکھتا رہا۔ جب ایک عظیم سلطنت کا سورج غروب ہو رہا تھا اور سات سمندر پار سے آ کر انگریز قوم کا ایک نمائندہ ہڈسن، آخری مغل بادشاہ کو گرفتار کرتا ہے اور تھال میں اس کے بیٹوں کے سر پیش کرتا ہے۔

مجھے یہ بھی یاد آیا کہ جس کا یہ مقبرہ ہے حکومت چھن جانے کے باوجود اس نے بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔ وہ پندرہ سال تک ویران جنگلوں میں پھرتا رہا لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ پھر ایک دن اس نے اپنا کھویا ہوا تخت واپس لے لیا اور مغل سلطنت کو دوبارہ سے زندہ کیا۔ اس نے ان افغانوں کو شکست دی جو کبھی اس کے ملازم تھے اور بعد میں اس کے دشمن بن گئے۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ شیر شاہ سوری ایک جنگ میں مارا جا چکا تھا اور اس کے بچوں میں اتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

ہمایوں نے صرف تخت واپس ہی نہیں لیا بلکہ اس نے مغلیہ سلطنت کی نئے سرے سے بنیاد رکھی جو تین سو سال سے بھی زیادہ اس علاقے میں قائم رہی۔ اس دوران مغل حکمرانوں نے ہندوستان میں بہت سے کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ کامیاب حکمرانوں میں چند نمایاں نام اکبر، جہانگیر، شاہ جہان، عالمگیر کے ہیں اور آخری حکمران بہادر شاہ ظفر تھا۔ جنگ، آزادی کی ناکامی کے نتیجہ میں 1857 ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔

پھر ایک فارسی کہاوت کے مطابق
ہر کمالے را زوالے

ہمایوں کے ساتھ بد قسمتی یہ ہوئی کہ دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے بعد وہ صرف ایک سال تک زندہ رہا۔ یہ سب دیکھ کر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمایوں، مغلوں کے لیے دوسرا بابر ثابت ہوا۔ ہمایوں کے پاس واپس اپنے آبائی شہر فرزانہ، ازبکستان جانے کا موقع تھا اور یہی شیر شاہ سوری کی خواہش بھی تھی۔ لیکن ہمایوں نے دربدر ہونا تو پسند کیا لیکن ہندوستان کو چھوڑ کر جانے کا نہ سوچا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شیر شاہ سوری مسلسل ہمایوں کا پیچھا کرتا رہا اور اس دوران وہ خوشاب تک آیا۔ اس کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس دوران بنگال میں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی اور اسے واپس جانا پڑا، ورنہ وہ ہمایوں کو ہندوستان سے ضرور باہر کر دیتا۔ اسے اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کے خواب نے ہی تباہ کیا۔

یہ کمپلیکس ہمایوں سے اس کی بیوی کی بے مثال محبت کی ایک نشانی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس مقبرے نے ہندوستان میں مغلوں کے ایک منفرد طرز تعمیر کی بنیاد رکھی۔ جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔

یہ کمپلیکس اسی ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس جگہ کے انتخاب میں دو باتیں پیش نظر رکھی گئیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے قریب دریا بہتا ہے اور دوسرا درگاہ نظام الدین کی قربت۔ اس کمپلیکس کے ایک کونے میں وہ جگہ اب بھی محفوظ ہے جہاں پر حضرت نظام الدین اولیاء نے چلہ کاٹا تھا۔ یہ مغلوں کی مسلمان صوفیہ سے محبت کا ایک اظہار ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ مغلوں کی اکثر عمارتیں دریاؤں کے کنارے ہوتی ہیں جو ان کی دریاؤں سے محبت ظاہر کرتی ہیں۔

میں فاتحہ خوانی کے بعد مقبرے کی مین بلڈنگ سے باہر نکلا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور کمپلیکس بھی تھا جس میں ایک بہت ہی خوبصورت عمارت تھی۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہ بھی ایک مقبرہ ہے اور اس میں دفن شخص کا نام عیسیٰ خان نیازی ہے۔ عیسیٰ خان نیازی، شیر شاہ سوری کے دربار کا ایک اہم فرد تھا۔ اس کا مقبرہ بھی شیر شاہ سوری نے ہی بنوایا تھا۔ یہ عمارت بھی بے حد شاندار اور قابل دید ہے لیکن ہمایوں کے مقبرے کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ عیسیٰ خان نیازی کا تعلق میانوالی کے علاقہ کالا باغ، عیسیٰ خیل میں بسنے والے نیازی قبیلہ سے ہی ہے۔ مجھے یقین تو نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کہیں پڑھا ہے کی عیسیٰ خیل شہر کا نام بھی لودھی اور شیرشاہ سوری کے دربار سے تعلق رکھنے والے عیسیٰ خان نیازی کے نام پر ہی رکھا گیا ہے، لیکن ایسا ممکن ہے۔

میں کچھ دیر کے لیے دور ایک بنچ پر بیٹھ گیا اور یہ دیکھتا رہا کہ میرے دائیں طرف ایک افغان اور میرے بائیں طرف وسطی ایشیا سے آنے والے تیمور کی اولاد کا ایک مغل ہے۔ دونوں کا ایک ہی مقصد تھا، ہندوستان پر حکومت کرنا۔ دونوں باری باری ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ آٹھ سو سال کے طویل عرصے میں شمالی اور وسطی ہندوستان کے علاقے میں شاید ہی کسی مقامی فرد کو کبھی حکومت کرنے کا موقع ملا ہو۔ حکومت کرنے کا حق صرف مغلوں، ترکوں، غوریوں، غزنویوں یا پختونوں کا تھا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے خیال میں اس کی وجہ ان لوگوں کا جنگجویانہ رویہ تھا۔ یہ جنگجو دور دراز علاقوں سے آتے تھے۔

یہاں انھیں مذہبی یا قومی بنیاد پر کسی بھی طرح کی مقامی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اس علاقے پر قابض ہو گئے اور ایک طویل عرصہ تک حکمرانی کی۔ مقامی لوگوں کی ایک واضح اکثریت نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے اور ان کے درباری بن کر بیٹھے۔ پھر ایک اور صاحب سات سمندر پار سے تشریف لاتے ہیں اور آخری حکمرانوں کو باہر نکال کر اپنی حکومت قائم کرتے ہیں، ان کو ہم انگریز صاحب بہادر کے نام سے پکارتے ہیں۔ وہ بھی چار سو سال تک ہندوستان میں رہا۔ اس نے اپنی حکومت کا آغاز چند تجارتی کوٹھیوں سے کیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ وہ ہندوستان کے طول و عرض پر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

بالآخر پھر مقامی لوگوں نے جمہوری طریقے سے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لیا اور آج اس خطے پر مقامی لوگ حکمران ہیں۔ بہت سے مقامی حکمرانوں کا تعلق بھی انھی سابقہ حکمرانوں کی نسلوں سے ہے۔

Facebook Comments HS