پنجابی زبان اور کیلنڈر


دنیا بھر میں 21 فروری مادری زبانوں کے دن طور پہ منایا جاتا ہے زبان کسی بھی قوم کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے زبان اقوام عالم کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسی کے ذریعے لوگ اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں ہر ملک خواہ وہ امریکہ ہو، چین ہو، جاپان ہو یا روس، ہندوستان ہو یا پاکستان ان تمام ممالک کی ایک قومی زبان ہے جو سرکاری طور پہ استعمال ہوتی ہے اسی طرح ہر ملک میں بسنے والے لوگوں کی ایک مادری زبان ہوتی ہے جسے (ماں بولی) کہتے ہیں

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ پنجاب ہے جس کی آبادی دنیا کے دس ممالک سے زائد نفوس پہ مشتمل ہے مگر افسوس کی بات ہے پنجاب کے لوگ اپنی زبان کو کم تر سمجھ کر اس کا بولنا ترک کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کو اردو اور انگلش کی طرف راغب کر رہے ہیں حالانکہ پنجابی انگلش اور اردو سے قدیم زبان ہے

پنجابی زبان میں بھی انگریزی کیلنڈر کی طرح بارہ مہینے ہیں اور 365 دنوں پہ مشتمل ایک سال ہے بلکہ پنجابی کیلنڈر انگریزی کیلنڈر سے سو سال قدیم ہے اس کا آغاز 100 قبل از مسیح ”راجہ بکرم اجیت“ کے دور میں ہوا جو اس وقت ہندوستان کا بادشاہ تھا یہ کیلنڈر راجہ بکرم اجیت کے نام سے ہی منسوب ہے جسے ”بکرمی کیلنڈر“ کہتے ہیں جسے ہم دیسی کیلنڈر یا پنجابی کیلنڈر بھی کہتے ہیں اس کا پہلا مہینہ چیت /چیتر ہوتا ہے جو بہار کی ٹھنڈی ہواؤں سے بھرپور ہوتا ہے

دوسرا مہینہ بیساکھ /وساکھ کا ہوتا ہے جو سنہری کھیتوں کی شان بڑھاتا ہے اور گندم کی فصل کے پک جانے اور کٹائی کا موسم ہوتا ہے۔

تیسرا مہینہ جیٹھ ہے جو گرم تھپیڑوں کی نوید سناتا ہے
چوتھا مہینہ ہاڑ کا ہوتا ہے جو گرم لو والا ہوتا ہے جو سب کچھ ”ساڑ“ کے رکھ دیتا ہے
پانچواں مہینہ ساون کا ہوتا ہے جو گرم حبس زدہ اور مون سون پہ مشتمل ہوتا ہے
چھٹا مہینہ بھادوں / بھدریں گرم اور برسات والا ہوتا ہے
ساتواں مہینہ آ سو /اسیں کا ہوتا ہے جو قدرے معتدل ہوتا ہے آٹھواں مہینہ کاتک /کتیں بھی معتدل ہوتا ہے
نواں مہینہ مگھر جاڑے کی آمد کا اعلان کرتا ہے
دسواں مہینہ پوہ اور گیارہواں مہینہ ماگھ سخت سرد اور دھند سے بھرپور ہوتے ہیں
بارہواں مہینہ پھاگن /پھگنڑ کا ہوتا ہے جو خشک سرد ہواؤں والا ہوتا ہے

پنجابی کیلنڈر کے 9 مہینے تیس دنوں پہ مشتمل ہوتے ہیں ایک مہینہ بیساکھ اکتیس اور دو مہینے جیٹھ ہاڑ بتیس دنوں پہ مشتمل ہوتے ہیں

اسی طرح پنجابی زبان نے دن کو بھی بہت خوبصورتی سے آٹھ پہروں پہ تقسیم کر رکھا ہے جو سورج کے طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے تک کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں دن کے پہلے پہر کو دھمی /تڑکے دا ویلا /چڑدے دا ویلا کہتے ہیں جو صبح 6 بجے سے لے کر 9 بجے تک کا وقت ہوتا ہے

دوسرا پہر :دوپہر /چھاہ دا ویلا ہوتا ہے جو صبح 9 بجے سے دن 12 بجے تک کا وقت ہوتا ہے
تیسرا پہر پیشی دا ویلا کہلاتا ہے جو دن 12 بجے سے 3 بجے تک کا وقت ہوتا ہے
چوتھا پہر ڈیگر /ڈیگریں دا ویلا کہلاتا ہے جو دن 3 سے لے کر 6 بجے تک کا وقت ہوتا ہے

پانچواں پہر نماشاں /شاماں دا ویلا کہلاتا ہے جو شام 6 بجے سے لے کر 9 بجے تک کا وقت ہوتا ہے چھٹا پہر کفتاں دا ویلا/سوتے دا ویلا ہوتا ہے جو رات 9 بجے سے 12 بجے تک کا وقت ہوتا ہے ساتواں پہر ادھ رات /ادھی راتیں دا ویلا ہوتا ہے جو رات 12 بجے سے لے کر سحر 3 بجے تک کا وقت ہوتا ہے اور آٹھواں پہر سرگی دا ویلا /بانگاں دا ویلا ہوتا ہے جو سحری کے وقت 3 بجے سے لے کر 6 بجے تک کا وقت ہوتا ہے

پنجابی زبان بھی اپنے اندر چاشنی اور خوبصورت رنگ اوڑھے ہوئے ہے سو جہاں پاکستان کے دیگر صوبوں کے لوگ جن میں سندھی بلوچی اور پٹھان شامل ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو اپنی مادری زبانوں میں گفتگو کرنے پہ فخر محسوس کرتے ہیں تو پنجابی کیوں نہیں ہمیں بھی سنجیدہ ہو کر سوچنا چاہیے اور اپنی مادری زبان کی ترویج اور اس کی بقا کے لئے اسے اپنانا چاہیے ہمیں پنجابی زبان کو اپنے رہن سہن میں شامل کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کو ماں بولی ہر قیمت پہ سکھانی چاہیے کیونکہ بقول عطا الحق قاسمی کے ”جیڑے ماں بولی نوں بھل جاندے نے ککھاں وانگوں رل جاندے نے“

جس طرح اردو اور انگلش گھروں میں بولی جا رہی ہے اسی طرح والدین گھر میں پنجابی بھی بولیں اور اپنے بچوں کو سکھائیں کہ پنجابی کتنی حسین اور میٹھی زبان ہے کیونکہ جتنا زور ہم دوسری زبانوں کو سیکھے پہ دے رہے ہیں اتنا ہی پنجابی پہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ باقی زبانیں تو معاشرہ سکول کالج یونیورسٹی سکھا دیں گے مگر ماں بولی صرف والدین ہی سکھا سکتے ہیں اسی کے ساتھ کم ازکم پرائمری لیول سے لے مڈل تک اسے لازمی مضمون کے طور پہ سکولوں میں رائج کرنا چاہیے تاکہ ہمارے بچے کو پنجابی کی اہمیت سے روشناس کروایا جا سکے اور ان کو ان کی ماں بولی سکھائی جا سکے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “پنجابی زبان اور کیلنڈر

  • 20/02/2022 at 2:49 شام
    Permalink

    Wah first time aisi information mli about punjabji calendar
    Great work

  • 20/02/2022 at 6:34 شام
    Permalink

    واه واه زبردست کیا خوبصورتى سے دن کے8 پهروں کے بارے میں بات کى هے

Comments are closed.