جب مجھے رات کو نیند نہیں آتی
رات کے دو بج رہے ہیں، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ یا اللہ مجھے نیند کیوں نہیں آ رہی؟ میں اپنا سر تکیے پر رکھتی ہوں اور دوبارہ آنکھیں بند کرتی ہوں۔ کاش میں ابھی نیند کی وادی میں کھو جاؤں، لیکن نہیں! میرا ذہن تمام پریشانیوں، پریشانیوں اور سوچنے کے اضطراب کے ساتھ پوری طرح بیدار ہے۔ میرا خوبصورت دماغ، ان تمام خیالات کے ساتھ، مجھے مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ میں اس اینرجی کو کسی اچھے وقت میں استعمال کرنے کی نیت رکھتی ہوں، جب ضرورت ہوتی ہے تو یہ ہونق بن جاتا ہے۔ لیکن جو خیال ابھی دماغ میں دوڑ رہے ہیں، ان پر بھی میں میرا جی چاہتا ہے کہ نظر ثانی کروں، تاکہ ان کا حل ڈھونڈ سکوں۔
میرے دماغ میں کیسا مکالمہ چلتا ہے ہو سکتا ہے آپ کو مانوس لگے۔ ہو سکتا ہے آپ کو پڑھ کر ہنسی بھی آئے، دماغ جب تنگ کر نے پر آتا ہے تو چاہے رات کے دو بج رہے ہوں یا دن کے دس، یہ شروع ہو جاتا ہے۔
دماغ:ہیلو
میں نے کہا، میں ناں سونے کی کوشش کر رہی ہوں اس لئے منہ بند رکھو اور مجھے سونے دو۔
دماغ:میں تو بس اس رشتے کا پوچھنے آیا تھا، کیا بنا؟ گھر والوں کو کیا جواب دینا ہے؟
ہاں میں نے سوچ لیا ہے!
دماغ:کیا سوچ لیا ہے؟ انکار کرنے لگی ہو؟
ہاں تو کیا ہے؟ مجھے نہیں پسند!
دماغ:پھر اب؟
پھر اب کچھ نہیں۔ مجھے سونے دو!
دماغ:ارے انکار کے لئے میرے ساتھ مل کر جملے ہی ترتیب دے لو۔
مجھے پتہ ہے میں نے کیا کہنا ہے۔
دماغ:واقعی؟ پھر یہ سن کر امی نے جو تمہیں طعنے دینے ہیں، ان کا سامنا کیسے کرنا ہے؟
ہاں یہ تو ہے۔ اب میں کیا کروں؟
دماغ:مجھے کیا پتہ کیا کرو۔ میرے ساتھ مشورے کے بغیر ہی فیصلہ کر لیا ہے تم نے، ویسے ہمیشہ تم ایسے ہی کرتی ہو۔ مجھے لگتا ہے تمہاری زندگی بس ایسے ہی گزرنے والی ہے، تبدیلی سے تم خود گھبراتی ہو۔ مثلا جابز کے لئے کوشش کرتی ہو جب فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو تمہیں یاد آ جاتا ہے کہ تمہیں پیسے نہیں چاہیے بلکہ اسی فیلڈ میں رہنا ہے۔
ہائے، نوکری بھی بس گزارے لائق ہے۔
دماغ: یہی تو میں کہہ رہا ہوں، تمہارا کچھ نہیں بننے والا۔ تم ہمیشہ پیٹرن فالو کرتی ہو۔
اچھا چھوڑو یہ سب میں، خود بھی سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔
دماغ:اچھا ایک بات بتا دو، پھر سوجا نا، اس ہفتے کا آرٹیکل لکھ لیا؟
نہیں!
دماغ:اچھا یہ تو سوچ لیا ہو گا کس موضوع پر لکھنا ہے۔
نہیں
دماغ:جمعرات کی ڈیڈ لائن ہے ناں؟
ابھی دو دن باقی ہیں۔
دماغ:یہی، یہی ہمیشہ تم کرتی ہو۔ تمہیں لگتا ہے کام مکمل کرنے میں بہت ٹائم پڑا ہے لیکن جب سر پر ڈیڈلائن آتی ہے تو پھر تمہیں خیال آتا ہے اور کچھ کھائے پئیں بغیر دن بھر کام کرتی ہو اور شام میں مجھے سردرد دیتی ہو۔ میری بات پر یقین نہیں تو سکول، کالج، یونیورسٹی کی اسائنمنٹس، پچھلی جاب یا کسی بھی فارم بھرنے والا واقعہ یاد کر لو۔ یہ تمہاری گھٹی میں شامل ہے۔ جیسی کل تھی، ویسی آج ہو۔ رتی بھر نہیں بدلی۔
بس کردو، تمہیں پتہ ہے، اب میں وہ نہیں رہی جو کالج یا یونیورسٹی میں تھی، میں اب بدل گئی ہوں، پروفیشنلز کی طرح کام کرتی ہوں۔ ہاں آخر پر کرتی ہوں لیکن اپنا کام وقت پر مکمل کرتی ہوں۔
دماغ:ہا ہا، اچھا چلو۔ وہ بتاؤ کہ تم نے امی کے لئے ڈاکٹر سے وقت لینا تھا، کیا بنا؟
کل لوں گی آج بس یاد نہیں رہا۔ میں ہی ہمیشہ لے کر جاتی ہوں، بس اس بار ذرا اپنی طبیعت سنبھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔
دماغ:کبھی ان کے ساتھ وقت گزارا ہے؟ کیسی اولاد ہو ماں دن بھر انتظار کرتی ہے اور تم، توبہ!
ہاں کو شش کرتی ہوں، واقعی زیادہ وقت نہیں گزارتی، آئندہ ان کے ساتھ زیادہ بیٹھا کروں گی۔
دماغ: انسان جیسا اپنے ماں باپ کے ساتھ کرتا ہے ویسا ہی زندگی میں اس کے ساتھ ہو تا ہے۔
مجھے گلٹ میں مت ڈالو، اور اپنی بکواس بند کرو مجھے سونے دو۔ میرا اپنی ماں کے ساتھ بہت محبت والا تعلق ہے۔ مجھے ان کی فکر رہتی ہے۔
دماغ: اچھا اچھا بس ایک بات رہ گئی تھی؟ وہ جو تم دوسروں کو ذہنی یکسوئی، مثبت سوچ، مراقبہ کے مشورے دیتی ہو۔ خود سب کرتی ہو؟ آخری بار ورزش کب کی تھی؟
ہاں ہاں سب کرتی ہوں، ٹھیک ہے کچھ باتوں کو عمل میں لانا مشکل ہو تا ہے لیکن اس کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں خود نہیں کرتی۔ کرتی ہوں اور میرے لئے یہ سب واقعی بہت اہم ہے۔
دماغ: ورزش کا تو بتا دو، ایکٹیو رہنے کا کیا بنا؟ مراقبہ مراقبہ کر کے بس اپنی سستی پوری کرتی ہو۔
مجھے مراقبے سے بہت فائدہ ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
دماغ: مستقبل کے بارے کیا سوچا ہے؟ یہی نوکری کرتی رہو گی؟ کوئی لائف گولز ہیں بھی تمہارے یا نہیں؟
مجھے پتہ ہے، اپنے لائف گولز کا ( یہ کہتے ہوئے دل بوجھل ہو گیا ہے )
دماغ:اچھا ایک نظر فیس بک پر تو ڈالو، وہ تمہاری دوست تھی ناں ماڈرن سی! امریکہ شفٹ ہو گئی ہے۔ اور وہ جو لمبی لمبی قمیصیں پہنتی تھی، لیکچرار لگ گئی ہے، ارے یار وہ بڑی آنکھوں والی، کیسا شاندار ہے اس کا گھر۔ کولیگز کو دیکھ لو، ایک تو ابھی ابھی چھٹیاں منا کر آئی ہے، وہ بھی فارن ٹرپ! تم بے چاری چہ چہ لوکل ٹرپس کے لئے بھی مر مر کر جاتی ہو، دو تین سالوں میں ایک بار! اچھا تم تو اپنے اس اولڈ جنریشن والے فون کو بھی بدلنے والی تھی کیا بنا؟
تم نے تو کچھ کتابوں کی فہرست بنائی تھی، پڑھ لیں؟ روزانہ کے معمولات میں کچھ تبدیلیاں کرنی تھیں، وہ کر لیں؟ چھٹی والے دن ہیئر ماسک تو لگایا نہیں گیا، پھر کہتی ہو بال خراب ہو رہے ہیں۔ یو آر اے میس، (کچرا ہو تم بالکل) ۔ یاد ہے جب منجھلی پھوپھو بیمار ہوئی تھیں؟ دو گلیاں چھوڑ کر تم عیادت کے لئے وقت نہیں نکال سکی۔ جب فوت ہو گئیں تو تم بڑا پچھتا رہی تھی کہ کیوں نہ ملنے گئی۔ اب پچھلے ہفتے سے تمہیں چھوٹی اور آخری پھوپھو کی بیماری کی خبر ملی ہے، ابھی تک نہیں گئی تم!
بس کردو۔ تمہیں پتہ ہے تم کیا کر رہے ہو؟ آدھی رات کو تم مجھ سے یہ سب کرنے کی توقع کر رہے ہو؟ میں اپنے گھر میں، اپنے بستر پر آرام کرنے آئی تھی خدا کے لئے مجھے سونے دو۔ ہر بات کی ذمہ داری مجھ پر نہ ڈالو کبھی حالات اجازت نہیں دیتے، کبھی قسمت ساتھ نہیں دیتی۔ خیر تمہیں ان باتوں سے کیا مطلب، بس چپ ہو جاؤ۔
دماغ:تم مجھے روکنے یا نظر انداز کرنے کی کوشش کر سکتی ہو، لیکن میں یہاں ہوں، ان تمام مسائل کے ساتھ جن سے تم ہمیشہ بھاگنے کی کوشش کرتی ہو۔ بھاگو! بھاگو! بھاگو! لیکن تم ان سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
میری بات مانیں! اگر آپ بھی اپنے دماغ میں بھی ایسے مکالمے چلتے رہتے ہیں تو ان سے گھبرائیں نہیں، البتہ رات کے وقت انہیں اہمیت نہ دیں بلکہ دن میں کچھ وقت ذہنی یکسوئی کے لئے نکالیں، اپنا تجزیہ کریں، اگر یہ آپ کے عدم تحفظ کو ہوا دینے کا سبب بنے تو اس پر غور کریں کیا واقعی ایسا ہے یا پھر اس کی آپ کو بھڑکانے کی سازش، فیصلہ تب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ نے اسے مثبت انداز میں لینا ہے یا منفی!


