عورتوں کے حقوق کہیں مغرب کا ڈرامہ ہی نہ نکلیں
لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم عورتوں کو یہ تمام حقوق دے کر اپنے معاشرے کو پر امن، پرسکون اور خوشحال بنا لیں اور بعد میں پتہ چلے کہ عورت کے تو کوئی حقوق ہی نہیں تھے بلکہ یہ تو صرف مغرب کا ڈرامہ تھا تو پھر کیا کریں گے۔
عورتیں، ٹرانسجینڈر اور درد دل رکھنے والے بہت سے مرد اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے تمام انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق بغیر کسی تفریق کے ملنے چاہئیں۔ عورتوں اور ٹرانسجینڈر کے حقوق سے مراد ہے کہ؛
عورتوں اور ٹرانسجینڈر کے خلاف صنفی امتیاز کو ختم کیا جائے۔ یہ ہماری معاشرتی روایات کا ایک انتہائی منفی پہلو ہے۔ اسے ختم کرنے کا بندوبست کرنا لازمی ہے۔ اپنے شہریوں کے خلاف صنفی امتیاز کو ختم کرنا ریاست کا فرض ہے۔ اس رویے کو ختم کرنا ممکن بھی ہے۔ اس کے لیے لمبے عرصے کی پلاننگ کی جائے۔ تعلیمی نصاب، میڈیا، ممبر اور دوسرے تربیتی ذرائع اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صنفی امتیاز ختم کرنے سے انسانوں میں برابری آئے گی اور ہمارے معاشرے میں خوشیاں میں اضافہ ہو گا۔ یہ ضروری ہے کہ
ہر لڑکی اور ٹرانسجینڈر بچے کو تعلیم کے مواقع بلا تفریق ملیں۔ ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق پرائمری سکول کی عمر کی 32 فیصد لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں، 60 فیصد چھٹی کلاس میں داخلہ نہیں لے پاتیں اور نویں جماعت تک پہنچنے والی لڑکیوں کی تعداد کل 13 فیصد ہے۔ ٹرانسجینڈر بچوں کے معاملات تو اور بھی زیادہ سنگین ہیں۔ یہ بندوبست کرنا ریاست کا فرض ہے کہ تمام پاکستانی بچوں کو تعلیم کا حق مل سکے۔ تمام بچوں کو تعلیم ملے تو معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔
عورتوں، بچیوں اور ٹرانسجینڈرز کو صحت کا حق نہیں ملتا۔ صحت کا سارا نظام بہت بری حالت میں ہے۔ نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں اور ٹرانسجینڈرز کو صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ جنسی، تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میڈیکل سٹاف کے رویے ضروری حساسیت سے خالی ہیں اس لیے جو سہولیات موجود ہیں نوجوان ان تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہر پاکستانی شہری کو بلا تفریق صحت کی بہترین سہولت پہنچانا ریاست کا فرض ہے۔ ریاست کو اس کا بندوبست کرنا چاہیے۔ ایک صحت مند معاشرے میں ہی لوگ خوش رہ سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں چھوٹی بچیوں کی شادیاں کرنے کا رواج عام ہے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017۔ 18 کے مطابق بیس فیصد بچیاں 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔ یہ بچی کی زندگی تباہ کر دینے کے مترادف ہے۔ مذہبی اقلیتی بچیوں کو ورغلا کر یا اغواء کر کے ان کی زبردستی شادیاں کر دی جاتی ہیں اور مذہب کی تبدیلی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ یہ بچیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی شدید پامالی ہے اور ریاست کی ناکامی ہے۔ بچپن اور زبردستی کی شادیوں سے اپنی بچیوں کو بچائیں تاکہ ان کی زندگیاں خوشحال ہونے کے امکانات پیدا ہو سکیں۔
ارینج میرج اور زبردستی کی شادی تو تقریباً ہر پاکستانی عورت کا ہی مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرتی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عورتوں کی ایک بھاری تعداد ماڈرن غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ عورتوں کی حقیقی خوشیاں چھن جاتی ہیں۔ ریاست کو بندوبست کرنا چاہیے کہ عورتوں کو ارینج میرج اور زبردستی کی شادی کے عذاب سے نجات دلائی جا سکے تاکہ گھروں میں خوشیاں اور سکون آ سکے۔
عورت کو جائیداد میں سے اس کا جائز حق ملنا چاہیے اور جہیز کی لعنت سے اس کی جان چھڑانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ریاست نے کچھ قوانین تو بنائے ہیں لیکن جس معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے اس کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ اس لیے عورتوں کی ایک بھاری تعداد اب بھی جائیداد سے محروم ہے۔ اس کی وجہ سے عورتیں معاشی طور پر خود مختار نہیں ہو پاتیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کسی بھی شعبہ میں خودمختاری حاصل نہیں کر سکتیں۔ معاشی طور پر خوشحال اور خودمختار عورت ہی ایک خوب صورت معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
ہمارے ہاں عورتوں کی سیاسی خودمختاری پر بھی بہت قدغنیں ہیں۔ پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹر عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت سوا کروڑ کم ہے۔ اس طرح عورتیں بھرپور طریقے سے سیاست میں حصہ نہیں لے پاتیں۔ تمام عورتوں کے پاس ووٹ کا حق ہو گا تو جمہوریت پروان چڑھے گی۔
عورتوں اور ٹرانسجینڈرز کو اپنی زندگی سے متعلق بہت سے اہم فیصلے کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ کون سی اور کتنی تعلیم حاصل کرنی ہے، کون سا روزگار کرنا ہے، کہاں رہنا ہے، کب اور کس سے شادی کرنی یا نہیں کرنی، فیملی سائز کیا رکھنا ہے، کون سا لباس پہننا ہے غرض کہ زندگی کے وہ اہم ترین فیصلے جو عورت کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں ان پر عورت کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے عورت کی تمام خوشیاں چھن جاتی ہیں اور زندگی ایک عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔ جب آدھی آبادی خوش نہیں ہو گی تو پورا معاشرہ دکھوں کا گھر بنا رہے گا۔
مختصر یہ کہ عورتوں، بچیوں اور ٹرانسجینڈرز کو بلا امتیاز اپنے بنیادی انسانی حقوق ملیں گے تو سارا معاشرہ خوشحال ہو گا۔ امن، سکون اور خوشی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
عورت آزادی مارچ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمیں عورتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق دینے اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ریاست اور معاشرت میں ضروری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہماری عورتیں پڑھی لکھی ہوں، باشعور ہوں، خودمختار ہوں اور وہ ہمارے معاشرے کو خوب صورت بنانے میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم عورتوں کو یہ تمام حقوق دے کر اپنے معاشرے کو پر امن، پرسکون اور خوشحال بنا لیں اور بعد میں پتہ چلے کہ عورت کے تو کوئی حقوق ہی نہیں تھے بلکہ یہ تو صرف مغرب کا ڈرامہ تھا تو پھر کیا کریں گے۔

