ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے


ماں کا مرنا سارے جہاں کا مرنا ہے۔ ماں نہیں مرتی اک جہاں مر جاتا ہے۔ 22 فروری کو ہماری ماں کی رخصتی کو سولہ برس گزر جائیں گے۔ سولہ برسوں میں پتہ نہیں کتنے ماہ، کتنے ہفتے اور کتنے یوم و کتنے پل ہوتے ہیں مگر ان سولہ برسوں میں کوئی ایسا دن، ایسا پل نہیں گزرا جو ماں کی یاد سے خالی گزرا ہو۔ ماں رخصت ہوئیں تو اس وقت کشمیر جنت نظیر میں بھی باد بہاری کے جھونکے چل رہے تھے۔ کہر سے ننھی کلیاں پھوٹ رہی تھیں۔ شگوفے کھل رہے تھے۔

پتے ہرے ہو رہے تھے۔ رنگارنگ پھول بہار دے رہے تھے۔ نیلگوں آسمان پر پرندوں کی قطاریں اور ڈاریں فصل گل کی نوید بن رہی تھیں۔ ہر سال جب بھی بہار کی ہوا در دل پر دستک دیتی ہے ماں جی کا شگفتہ و شاداب چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ دل درد سے بھر جاتا ہے۔ روح گھائل ہوجاتی ہے۔ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ گزری نمکین، غمگین اور تلخ و شیریں یادوں کی پوٹلی کھل جاتی ہے۔ کتنی یادیں ہیں جو میرا ہاتھ تھامے گزرے وقت کی راہ داریوں میں بھٹکنے لگتی ہیں۔ غم و خوشی کے کتنے موسم ہیں جو سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گداز جذبوں، اداس لمحوں اور جادو الفاظ کا شاعر ناصر کاظمی کہاں یاد آیا

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں، میرے تو دل میں اتر گیا وہ

ماں کے بعد بھی چاند آنگن میں اترتا ہے، ستارے جھلملاتے ہیں، ردائے بہار کے رنگ کھلتے ہیں، جوئے نغمہ خواں بہتی ہے، نیلگوں آسمان پر پرندے اڑتے ہیں، ندی نالوں میں طغیانی آتی ہے، شادی و مرگ کے واقعات گزرتے ہیں، کامیابی و ناکامی کے ہنگامے ہوتے ہیں، سبزے کی لہک، پھولوں کی مہک اور کلیوں کی چٹک اپنا جادو جگاتی ہے، کبھی تلخی اور کبھی شیرینی میں گھلے پل آتے جاتے ہیں، رنگوں سے معمور صبحیں اور راگوں سے بھرپور شامیں بھی اترتی ہیں، ہجر و فراق کے نوحے اور وصال و کمال کے نغمے بھی پھوٹتے ہیں، ملال کی گھڑیاں اور نشاط کی ساعتیں بھی عود کر آتی ہیں، زندگی اور زمانے کے ہنگامے بھی اسی طرح جاری و ساری ہیں مگر ماں جی کے بغیر سب رنگ پھیکے پھیکے ہیں۔ سب ذائقے ترش ہیں، سب منظر دھندلے ہیں، سارے راستے اداس ہیں، سارے پل بے کل ہیں، سارے آنگن ویران ہیں، زمین آسمان نوحہ کناں ہیں۔ ہر چیز میں ماں جی کی کمی کا احساس فزوں تر ہے۔ پھر اداسی کی نکھری تہذیب کا شاعر ناصر کاظمی یاد آیا

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

ان یخ بستہ اور بے رحم جاڑوں نے ماں کے بعد ساس کی سانس بھی چھین لی۔ ماں کے بعد ساس کی آس ڈھارس بندھاتی تھی۔ ان کے چہرے کی جھریوں میں ہم زندگی کی جھریاں دیکھ لیتے تھے مگر گردش ایام نے کروٹ اور کئی سال سے بیمار ساس نے جھر جھری لی اور ہمارا دامن خوش دامن صاحبہ کی شفقتوں سے بھی خالی ہو گیا۔

مرنے والے مر جاتے ہیں
دنیا خالی کر جاتے ہیں

چار دسمبر 2021 کا یخ بستہ دن بھی ہمیں کبھی نہیں بھولے گا۔ ساس اماں ایک ماہ قبل مہمان بن کر پنڈی آئی تھیں اور یہ کہتے ہوئے اچانک اپنے ابدی گھر روانہ ہو گئیں کہ

مہمان ہیں ہم مہمان سرا ہے یہ نگری
مہمانوں کو مہمان سرا کچھ کہتی ہے

بہاریں پھر سے آ رہی ہیں، بار بار آئیں گی مگر بچھڑنے والے پھر نہیں آئیں گے۔ ماں کی طرح ساس اماں کی شخصیت کے بھی بے شمار دلکشا، دلدار، دلگداز اور دل پذیر رنگ تھے۔ شفقت و مہربانی تو وہ نا مہربانوں پر بھی کرتی تھیں، اپنائیت کا رنگ بیگانوں کے لیے بھی ارزاں تھا، دعائیں بد دعائیں دینے کے لیے بھی کرتی تھیں، بلائیں ان کی بھی لیتی تھیں جو ان کی صدائیں بھی سننے کے روادار نہ تھے۔ محبتیں ان میں بھی بانٹتی تھیں جو نفرتوں کو عام کرنے کے خوگر تھے۔

پاس انہیں بھی بلاتی تھیں جو دور ہو جاتے تھے۔ دلسوزی ان کے لیے بھی فراواں تھی جو دل شکنی پر آمادہ رہتے تھے۔ صدائیں ان کو بھی دیتی تھیں جو خفگی کی ادائیں دکھاتے تھے۔ روتی ان کے بھی تھیں جو افسانۂ دل سن کر ہنسا کرتے تھے۔ گل پاشی ان پر بھی کرتی تھیں جو ہر دم زخموں پر نمک پاشی کے لیے آمادہ رہتے تھے۔ ان کی شخصیت کے کس کس رنگ کا ذکر کروں۔ وہ اپنے زمانے کی کوئی ولی اللہ تھیں جن کی زبان سے میں نے کبھی کسی کی برائی نہیں سنی۔

کوئی گلہ نہ سنا۔ کوئی شکوہ شکایت نہ سنا۔ دکھ کے موسم اور سکھ کی رتوں میں انہیں کبھی آپے سے باہر ہوتے نہیں دیکھا۔ کتنا کچھ سہتی ہوں گی مگر کسی سے کچھ کہتی نہ تھیں۔ کیا ہی باوقار، شاندار اور بے ریا شخصیت کی مالک تھیں۔ میری اہلیہ اپنے بھائیوں، بھابیوں سے گھنٹوں باتیں کر کے روتی رہتی ہیں۔ پھول کھلنے کے موسم میں ہمارے زخم بھی کھل رہے ہیں۔ پتوں کے ساتھ ہمارے زخم بھی ہرے ہو رہے ہیں۔ ہوا کہیں کی ہو سینہ ہمارا فگار ہوجاتا ہے۔ درد کسی کا ہو دل ہمارا بے قرار ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ردائے بہار کے سو رنگ اور دوسری طرف ہمارا دامن صد چاک۔ افتخار عارف نے کیا خوب انسانی جذبات کی ترجمانی کی ہے

ہجر کی دھوپ میں چھائوں جیسی باتیں کرتے ہیں
آنسو بھی تو مائوں جیسی باتیں کرتے ہیں

Facebook Comments HS