نور مقدم قتل کیس: ’غیرت کے نام پر قتل اور ڈرگ پارٹی کی کہانیاں گڑھی گئیں‘


ظاہر جعفر
نور مقدم قتل کیس کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے پیر کو دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو بچانے کے لیے غیرت کے نام پر قتل کی کہانی گڑھی گئی جبکہ اس مقدمے کے 19 گواہوں سے ہونے والی جرح کے دوران اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کے روز ملزم ظاہر جعفر کے گھر کوئی ڈرگ پارٹی تھی نہ ہی سی سی ٹی وی میں ایسی کوئی بات نظر آ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سٹوری بھی ڈیفنس یعنی مرکزی ملزم کے وکیل نے گڑھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نور مقدم کے ظاہر جعفر کے گھر میں داخل ہونے کے بعد سے قتل تک تقریباً 38 گھنٹے بنتے ہیں اور ڈی وی آر کے مطابق جب نور مقدم اس گھر میں داخل ہوئیں تو ان کے پاس صرف بیگ تھا۔

لیکن مرکزی ملزم جب 19 جولائی کو ایئرپورٹ جانے لگا تو اس کے استعمال کی چیزیں واضع ہیں۔

شاہ خاور کا دعویٰ تھا کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم کی ایئرپورٹ سے واپسی سے لے کر قتل تک نور مقدم کو اغوا رکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جس جگہ پر قتل ہوا اس سے انکار نہیں کیا گیا بلکہ ظاہر جعفر نے خود تسلیم کیا کہ قتل اس کے گھر میں ہوا بلکہ اس کے بیڈ روم میں ہوا۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ شریک ملزمان بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے واردات ہونے کے بعد مقتول کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

انھوں نے کہا کہ 20 جولائی کو سی سی ٹی وی میں واضع ہے کہ نور مقدم کو چوکیدار افتخار روک رہا ہے جبکہ نور مقدم نے چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی تو ظاہر جعفر کے کہنے پر شریک ملزم افتخار نے اسے روکا جس کے بعد مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ٹیرس سے چھلانگ لگائی اور نور مقدم کو چوکیدار کے کیپبن میں بند کردیا۔

مقدمے میں مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ دو شریک ملزمان جان محمد اور جمیل نے معلومات ہونے کے باوجود پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ 20 جولائی کو مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا جبکہ 24 جولائی 2021 کو مرکزی ملزم ظاھر ذاکر جعفر نے ضمنی بیان میں کچھ اعترافات کیے جس کے بعد ان کے موکل نے مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر، عصمت آدم جی و دیگر ملزمان کو نامزد کیا۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی ملزم سمیت کسی ملزم نے چالان یا ضمنی چلان کو چیلنج نہیں کیا اور نہ ہی کسی مرحلے پر یا کسی فورم پر تفتیش درست نہ ہونے کو چیلنج کیا گیا۔

مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کا فوٹو گرائمیٹری ٹیسٹ بھی مثبت ہے یعنی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کی شکل میچ ہو چکی ہے۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ملزم طاہر ظہور کے وکیل نے ایک میسج دکھایا ہے کہ طاہر ظہور اور ذاکر جعفر رابطے میں تھے۔ انھوں نے سوال کیا کہ جب ظاہر جعفر کے والدین کراچی میں تھے تو انہوں نے کیسے کہا کہ ملزم کے پاس اسلحہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ طاہر ظہور اور ان کے ملازم امجد کے زخمی ہونے کے باوجود پولیس کو اطلاع دینے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم امجد کو ظاہر جعفر نے چاقو کا وار کر کے زخمی کیا تھا لیکن پمز کے ریکارڈ میں اس واقعے کو روڈ ایکسڈنٹ لکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے ملازم سے متعلق تھراپی ورک نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ شاہ خاور 22 فروری کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل تھراپی ورکس کے پانچ ملزمان کے وکیل شہزاد قریشی نے اپنے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کے موکلین کو حراست میں لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس واقعے کی ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈنگ یعنی ڈی وی آر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے موکلین وہاں سے آسانی سے نکل سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

نور مقدم قتل کیس: ’مقتولہ کے بھائی کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا، کیا پتہ یہ غیرت کا معاملہ ہو‘

’فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ کیے بغیر کیسے فرض کر لیا کہ فٹیج میں نظر آنے والی لڑکی نور مقدم ہی ہے‘

نور مقدم قتل کیس: ’ڈرگ پارٹی کے بعد ہوش آیا تو کوئی نور کو قتل کر چکا تھا‘

شہزاد قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے موکلین پر شواہد چھپانے کا الزام ہے۔

ان پانچوں ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کرائم سین کے انچارج پولیس اہلکار عمران کا کہنا ہے کہ پولیس نے جائے واردات سے پستول، چاقو اور دوسرا سامان برآمد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر تین لوگ موجود تھے اگر انھوں نے شواہد مٹانے ہوتے تو ان کے پاس کافی وقت تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

شہزاد قریشی، جو کہ اس مقدمے میں شریک ملزمان دلیپ کمار، وامق ریاض، ثمر عباس، عبد الحق اور امجد محمود کی نمائندگی کر رہے ہیں، کا اپنے دلائل میں مذید کہنا تھا کہ متعلقہ قانون کہتا ہے کہ پولیس کی تحویل میں دیے گئے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے استفسار کیا کہ ان کے موکلین واردات کی جگہ پر کس وقت پہنچے تھے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ لوگ پاکستانی وقت کے مطابق 20 جولائی سنہ2021 کو رات 8 کے قریب وہاں پر پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک اور ملزم محمد امجد زخمی کے ہونے کے25 منٹ کے بعد پولیس واردات کی جگہ پر پہنچی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ڈی وی آر کھلنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ان کے موکلین نے ظاہر جعفر کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا۔

شہزاد قریشی نے عدالت سے استدعا کہ ان کے موکلین بے گناہ ہیں لہذا انھیں اس مقدمے سے بری کیا جائے۔

تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی نے اپنے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پولیس نےاس مقدمے کی تفتیش جانبداری سے کی ہے اور ان کے موکل کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف چارج نمبر 13 لگایا گیا کہ ان کے موکل یعنی طاہر ظہور کو اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی نے فون کیا اور ہدایات جاری کیں۔

اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ اب پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ ان دونوں افراد کی جانب سے ان کے موکل کو کون سی ہدایات دی جاتی رہیں۔

انھوں نے کہا کہ سی ڈی آر کے علاوہ ریکارڈ پر کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

طاہر ظہور کے وکیل نے عدالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں یہ کہا گیا کہ سی ڈی آر بغیر ٹرانسکرپٹ کے بطور شواہد استعمال نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے تو جائے واردات پر پہنچ کر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی لہذا کام سے پہلو تہی کا مقدمہ تو پولیس اہلکاروں کے خلاف ہونا چاہیے۔

اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کی تمام تفتیش مقدمہ درج ہونے سے پہلے مکمل ہو چکی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کا جو چالان پیش کیا گیا ہے اس میں دو مختلف تحریریں ہیں جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرنے اور تفتیش کرنے کے لیے کہانی گھڑی گئی ہے۔

ظاہر جعفر

انھوں نے کہا کہ واردات کی شب رات نو ساڑھے نو بجے کے قریب تمام پولیس افسران جائے واردات پر پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پولیس افسران سچائی کے ساتھ سامنے نہیں آ رہے۔ انھوں نے کہا کہ تھراپی ورکس کے خلاف تو کسی نے کوئی شہادت ہی نہیں دی اور ان کے موکل کا ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کے ساتھ رابطہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو میسج طاہر ظہور کو ذاکر جعفر کی طرف سے ملا تھا وہ موبائل فون عدالت کو دیکھا دیتے ہیں۔

اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کا میڈیکل کا کام ہے۔ ’یہ تو نہیں ہے کہ میرے موکل نے کوئی گینگ بنایا ہوا ہے۔ میسج میں کہا گیا کہ ظاہر جعفر کو اس وقت فوری ایڈمٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈی وی آر کے مطابق ظاہر جعفر کو تھراپی ورکس کے ملازمین نے باندھا ہوا تھا، انہوں نے تو پولیس کی مدد کی۔

طاہر ظہور کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب پولیس سے پوچھا جاتا ہے کہ قتل کی اطلاع کس نے دی کوئی نہیں بتاتا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تھراپی ورک کے ملازمین نے پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔

انھوں نے کہا کہ یہ کیس سارا پولیس سٹیشن میں تیار کیا گیا اور ایف آئی آر کے مطابق پولیس جب جائے واردات پر پہنچی تو شکایت کنندہ وہاں پر موجود تھا۔

اکرم قریشی نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزار یعنی مقتولہ کے والد پولیس کی عدم موجودگی میں واردات کی جگہ پر پہلے موجود تھا تو شوکت مقدم کو کس نے بچایا ہے؟ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کی ساری کاروائی مشکوک نہیں ہو جاتی؟

انھوں نے کہا کہ شوکت مقدم نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی موجودگی میں کیوں نہیں لکھوایا۔

انھوں نے کہا کہ ایک ایک پوائنٹ پر گواہ اپنے بیانات میں تضادات پیدا کر رہے ہیں جبکہ واقعاتی شہادتوں میں لنک اور چین کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لنک اور چین ٹوٹ گیا تو اس کا فائدہ ملزم کو ہو گا۔

ملزمہ عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے بھی دلائل دیے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp