زنگار


صاحبان علم و دانش کے مطابق مطالعہ ایسی عمدہ ترین سرگرمی کا نام ہے جس کے ذریعے نا صرف انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت غیر محسوس انداز میں نکھرتی چلی جاتی ہے۔ یہ انسانی فکر کو جلا بخشنے میں اکسیر کا کام کرتا ہے، یہ فہم و ادراک کے نئے در وا کرتا ہے۔ کتاب کو اس لیے رفیق اور دم ساز کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سچے دوست کی طرح انسان کی رہنمائی کرتی ہے، اسے نئی نئی کہانیاں سناتی ہے۔ ان کہانیوں میں مسکراہٹیں بھی ہوتی ہیں اور قہقہے بھی، آہیں بھی ہوتی ہیں اور سسکیاں۔ کتاب ان دیکھی دنیاؤں کی سیر بھی کرواتی ہے اور نت نئے تجربات سے گزارتے ہوئے قاری پر حیرت کے ان گنت دریچے وا کرتی چلی جاتی ہے۔

کتاب کے ساتھ پہلے پہل ہلکا پھلکا تعلق قائم ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ یہ تعلق دوستی کا روپ دھار لیتا ہے اور پھر آخر کار دوستی عشق کے سانچے ڈھل جاتی ہے اور عشق کے بحر ذخار میں غوطہ زن رہنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ جذبہ انسان کو بے چینی کی عجیب کیفیات سے آشنا کراتا ہے، یہ کبھی ایسے پٹختا ہے جیسے دھوبی کپڑے کا میل نکالنے کے لیے زور زور سے پٹختا ہے اور کبھی یہ ایسے جلاتا ہے جیسے سنار آلائش دور کرنے کے لیے سونے کو حوالہ آتش کرتا ہے۔ کتابوں کا عشق بھی ایسے عجائبات کا مرقع ہوتا ہے۔

سجاد امین تیموری صاحب میرے وہ عزیز ترین دوست ہیں جن کے ساتھ گفتگو میں زیادہ تر بات کتابوں کے متعلق ہی ہوتی ہے۔ بر سبیل تذکرہ ایک دن محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب اور ان کی تحریروں کا تذکرہ چھڑا تو معلوم ہوا سجاد بھائی تو ان کے پرانے قاری ہیں۔

انھوں نے خاکوانی صاحب کی تحریروں پر بہت دلچسپ تبصرہ کیا جس نے میرے شوق مطالعہ کو مہمیز عطا کی۔ اس گفتگو کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ تیموری صاحب کی طرف سے ڈاک موصول ہوئی جس میں نصف درجن خوبصورت کتابیں موجود تھیں، جن میں محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی کتاب ”زنگار“ بھی شامل تھی۔

میں نے اس کتاب کو مطالعے کے لیے سب سے پہلے منتخب کیا۔ یہ کتاب میرے لیے اک عجب تجربہ ثابت ہوئی۔ اس کتاب کے مطالعے نے ایسی سرشاری کی کیفیت عطا کی جو بیان سے بالا ہے بس اتنا کہنا کافی ہے کہ کئی مضامین کو ایک سے زیادہ بار پڑھا۔ اس پرکشش اور دلچسپ کتاب کو میں نے پیشہ وارانہ مصروفیات کے دوران اپنے ساتھ رکھا، جہاں ذرا سا وقت ملا چند صفحات پڑھ لیے۔ یوں یہ کتاب چند ہی دنوں میں ختم ہو گئی، ورنہ کبھی کبھی تو ایسے بھی ہوتا ہے کہ مجھ سے کوئی کتاب مہینوں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔

کتاب کے مضامین میں اگرچہ معلومات کی فراوانی ہے مگر زبان بہت شستہ اور سلیس استعمال کی گئی ہے اس لیے قاری کہیں بھی بوجھل پن کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ دراصل مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہونے والے متنوع موضوعات پر مبنی ان کے کالمز ہیں جن کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے شروع میں خاکوانی صاحب نے تحریر کیا ہے کہ انھوں نے آٹھ سو کالموں میں سے بیاسی ایسے کالموں کو منتخب کیا ہے جن کی مہک اور تازگی کبھی پھیکی پڑنے والی نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ان کی تحریر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ ایک تحریر کو ختم کرنے کے بعد آپ اس کے ذائقے میں گم ہو جاتے ہیں، پھر جب آپ اگلی تحریر پڑھتے ہیں تو وہ ایک نئے ڈھب سے وجود میں آئی ہوتی ہے جس کا رنگ ڈھنگ، آہنگ بالکل ہی نیا ہوتا ہے۔ یوں پڑھنے والا خود کو ایک جہان حیرت میں سرگرداں پاتا ہے جس کا ہر قدم کسی نئے منظر سے روشناس کراتا دکھائی دیتا ہے۔

کتاب میں کچھ کالمز ادبی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں جن میں افسانہ، ناول، شاعری اور دیگر اصناف ادب پر علم و دانش کے موتی بکھیرے گئے ہیں۔ بعض تحریروں میں زندگی گزارنے کے ایسے اصول و قواعد ذکر ہوئے ہیں جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ موٹیویشنل موضوعات کو بہت چابک دستی سے نبھایا گیا ہے جن میں گھسے پٹے اور فرسودہ اسلوب کی بجائے بڑے منفرد آہنگ کو ذریعہ اظہار بنایا گیا ہے۔ تاریخی واقعات کو موضوع بنا کر لکھی جانے والی تحریروں کا سبھاؤ تو نہایت جداگانہ ہے کہ قاری سب واقعات کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھتا محسوس کرتا ہے۔ تصوف اور روحانیت جیسے موضوعات پر بھی بہت خوبصورت تحاریر اس کتاب میں شامل ہیں۔

میرے نزدیک ”زنگار“ محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ایک گلدستہ ہے جس میں رنگا رنگ پھول اپنی پوری رعنائی اور دلکشی کے ساتھ کھل رہے ہیں جن کی خوشبو اور پھبن ہر دور میں سنجیدہ قارئین کو لبھاتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Facebook Comments HS