سوتیلی سہی، ماں تو ہوں!


سوتیلے بچوں کے ساتھ ایک محبت بھرا اور دوستانہ تعلق بنانا دونوں ہی کے لئے ایک چیلنج ہو تا ہے

رخسانہ کی پہلی شادی ہوئی، لیکن کچھ عرصے بعد ہی ماں نہ بننے کی وجہ سے شوہر نے طلاق دے دی۔ اس کی والدہ چاہتی تھیں کہ اس کا دوبارہ گھر بس جائے لیکن وہ پہلے تجربے کی بنا پر پھر سے رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ ہمارے محلے ہی میں ایک ڈاکٹر صاحب رہتے ہیں، ان کے تین بچے ہیں سب سے بڑے بچے کی عمر چودہ سال ہو گی اور سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر یہی کوئی تین برس۔ ان کی بیوی ایک دن بازار جاتے ہوئے سڑک پار کر رہی تھی کہ گاڑی کی ٹکر لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔

بچوں کے ساتھ رات کی ڈیوٹیاں نبھانا ڈاکٹر صاحب کے لئے مشکل ہو تا جا رہا تھا۔ یوں رخسانہ کی شادی ڈاکٹر صاحب سے کروا دی گئی۔ رخسانہ پہلے ہی اپنی مامتا نچھاور کرنے کے لئے ترسی ہوئی تھی، اس نے تینوں بچوں کے لئے آتے ہی اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ لیکن کل وہ مجھ سے ملی تو قدرے پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ بقول اس کے، وہ بچوں سے جتنا بھی گھلنے ملنے کی کوشش کرتی ہے، دونوں بڑے بچے کھچے کھچے نظر آتے ہیں۔ البتہ چھوٹی بچی اس کے قریب رہنے لگی ہے۔ یوں میرے چاہنے کے باوجود گھر کے ماحول میں ایک تناؤ سا محسوس ہو تا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ اس گھر میں خوشیاں لوٹانے کی بجائے پریشانی کی وجہ بن جاؤں۔ رخسانہ کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوا کہ وہ واقعی ان بچوں کے لئے درد دل رکھتی ہے وگرنہ ہم سوتیلے لفظ ہی کو غیر اور نفرت کے معنوں میں لیتے ہیں۔

کم سن بچوں کے ساتھ کیسے تعلق بنایا جائے؟

٭بہت چھوٹی عمر کے بچے جیسا کہ ایک سے تین سال کی عمر کے بچے زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں اور جلدی متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ ان کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آئیں تو ایک بہت خوبصورت قائم کیا جا سکتا ہے۔ کم سن بچے کو دل سے پیار کیجئے، صرف اس لئے نہیں کہ آپ کو مجبوری میں اس کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ چھوٹے بچے انسانی احساسات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، پیار کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ بس اس کے آس پاس رہئے، بس یہ بات مدنظر رکھئے کہ آپ کے جذبات حقیقی ہوں۔

٭کم سن بچوں کو اپنا عادی بنانے کے لئے اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔ پہلے پہل شوہر کے ساتھ یا جو پہلے سے اس کی دیکھ بھال کر تا ہو، اسے ساتھ رکھے ۔ پھر جب وہ آپ کے ساتھ رہنے میں سکون محسوس کرے تو آپ تنہا بھی اس کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔

٭اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا شروع کریں جیسا کہ ڈائپر بدلنا، کھانا کھلانا، کپڑے تبدیل کرنا۔

٭اس کی ایک روٹین بنا دیں۔ بچوں کے سونے، جاگنے، کھانے پینے کا معمول طے ہو تو وہ خوش رہتے ہیں۔ جب آپ اس کی روٹین بنا دیں گی تو وہ تنگ نہیں کرے گا۔

ٹین ایجرز کے ساتھ خوشگوار تعلق کیسے قائم جائے؟

ٹین ایجرز کو سنبھالنا دنیا کا شاید سب سے مشکل کام ہے، سگے والدین کے لئے بھی بعض اوقات انہیں سنبھالنا مشکل ہو جا تا ہے۔ ان کے ذہن میں کچھ تصورات پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور عین ممکن ہے وہ آپ کے حق میں نہ ہوں۔ ایسے میں

٭ایک دم سے فیملی میں گھسنے کی کوشش نہ کریں بلکہ آہستہ آہستہ کاوشیں جا ری رکھیں۔ خاندان کا حصہ بننے کے لئے ضرورت سے زیادہ جوش نہ دکھائیں ایسے لگے جیسے آپ ڈرامہ کر رہی ہیں۔ آہستہ آہستہ تعلق بنائیں کہ آپ کی موجودگی محسوس کی جانے لگے اور آپ کی آواز سنی جا نے لگے۔

٭گھر میں کچھ سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ گھر میں کچھ ایسے کام ان کے ذمے لگائیں کہ انہیں احساس ہو کہ ان کی بھی گھر میں اہمیت ہے۔ گھر کے اہم فیصلوں میں انہیں شامل کریں۔ ان سے پوچھیں کہ وہ مخصوص صورتحال کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟

٭بچوں کے ان کے باپ کے ساتھ تعلق میں کبھی دخل اندازی نہ کریں۔ انہیں کچھ جگہ دیں اور ان کے درمیان آنے کی کبھی کوشش نہ کریں۔

اب کچھ ایسے کام جن سے سوتیلے والدین خصوصاً ماؤں کو اجتناب برتنا چاہیے

فوراً لگاؤ کی امید رہنا

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پہلے سے آپ کے اپنے بچے ہیں یا نہیں، سوتیلے بچوں کے ساتھ اور ان کی طرف سے فوراً لگاؤ کی امید رکھنا عبث ہے۔ چاہے آپ پہلے سے بھی ملتی رہی ہوں، پھر بھی ماں کی شکل میں کسی اور کو دیکھنا اور است قبول کرنا بچوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔

سخت گیر اور تقاضا کرنے والی مت بنیں

سوتیلے بچوں کے لئے آتے ہی اصول و ضوابط نہ بنا دیں۔ اس طرح عین ممکن ہے وہ باغی ہو جائیں۔ کم ازکم پہلے اپنے شوہر کو ان کے اس طرح کے معاملات کو ہینڈل کرنے دیں۔ انہیں تھوڑا وقت دیں، وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے ساتھ ان کا لگاؤ ہو جائے گا۔ جب ایک بار آپ سے جذباتی طور پر وہ وابستہ ہو گئے پھر وہ آپ کی بات بھی سنیں گے اور آپ کے طے کردہ اصول و ضوابط کو بھی مانیں گے۔

”آپ ہماری سگی ماں نہیں“ اس سے متاثر نہ ہوں

ہو سکتا ہے آپ اپنے سوتیلے بچے سے شفقت سے پیش آئیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کو ماں کا درجہ نہ دے۔ شروع شروع میں ہو سکتا ہے آپ کو یہ سننا پڑے کہ ”آپ ہماری ماں نہیں“ ۔ یہ سننا قدرے تکلیف دہ ہو تا ہے، لیکن یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ بچہ بھی اپنی تکلیف اور غصے کا اظہار کر رہا ہے۔ لہٰذا احساس جرم یا تکلیف میں مبتلا نہ ہوں۔ بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کریں، اور فاصلوں کو مٹانے کی کوشش کریں۔

جب والدین میں علیحدگی ہو یا پھر طلاق تک ہو جائے تو بچے یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں۔ پھر جب خصوصاً ان کی ماں کی کوئی جگہ لے تو انہیں فطری طور پر برا لگتا ہے۔ یوں ان کی مل جل کر رہنے کی امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ سوتیلی ماں کو اس کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔ ان وجوہات کو مدنظر رکھئے، اگر بچہ آپ کے لئے غصے اور منفی جذبات کا اظہار کرتا ہے تو یہ آپ کے لئے نہیں بلکہ یہ اس کردار کے لئے ہے جو اس وقت آپ نبھانے چلی ہیں۔ انہیں حالات کو سمجھنے کا تھوڑا وقت دیجئے۔

والدین بننا ایک دلچسپ خوشیوں اور امیدوں سے بھرپور، نشیب و فراز کا سفر ہے۔ بحیثیت ایک سوتیلی ماں آپ کا سفر قدرے مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

Facebook Comments HS