افغانستان کا مستقبل اور درپیش چیلنجز


پاکستان کی علاقائی سیاست یا خطہ کے مجموعی استحکام کے تناظر میں افغانستان کے بحران کا حل ایک کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان افغان بحران کے حل میں زیادہ سنجیدہ اور فکرمند نظر آتا ہے۔ کیونکہ پاکستان سوچتا ہے کہ افغان بحران کا حل اگر ممکن نہ ہوسکا تو اس کا براہ راست منفی اثرات ہماری اپنی داخلی سیاست پر بھی ہو گا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد عمومی خیال یہ ہی تھا کہ اس حکومت کو جلد ہی عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جائے گا اور یہ حکومت داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ خطہ کے استحکام کو بھی یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ لیکن ابھی تک داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر افغان طالبان حکومت کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ ان کو بہت سے معاملات پر ناکامی کا بھی سامنا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی ادارے کی دو مختلف رپورٹس میں تجزیہ پیش کیا گیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک کی امداد، طالبان حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہی افغانستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یاددہانی کرائی ہے کہ صرف انسانی بنیادوں پر کی گئی امداد افغانستان میں معاشی انہدام نہیں روک سکتی۔ اس تجزیاتی پہلو کی مصنف ایلزبتھ تھر لکیلڈ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو اب مستقبل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دی گئی امداد اس ملک کے مستقبل کی شکل کو واضح کرے گی۔

یہ تجزیاتی رپورٹ بنیادی طور پر ان کلیدی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے جو ان ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات اور تعلقات کے درمیان موجود ہیں جو مستقبل کے تعلقات کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر فریقین کی شکایات اور شدید تحفظات جو ایک دوسرے کی سلامتی اور خودمختاری سے جڑے ہوئے ہیں کو دور کر لیا گیا تو یہ عمل خطے کے استحکام اور شہریوں کی بہتری کے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔

ان میں ایک مسئلہ ڈیورنڈ لائن کا تنازع بھی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو عالمی سرحد کے طور پر تسلیم کرے جبکہ طالبان سابقہ حکومت کی طرح اس کو سرحد تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔ اسی طرح اس تناؤ اور کشیدگی میں پانچ نکات اہم ہیں جن میں خود مختاری سے متعلق تحفظات، سلامتی کے مفادات، خطہ کے سیاسی عوامل، سرحد کے دونوں اطراف کی رشتہ داریاں اور رابطے، تجارت شامل ہیں جو مستقبل کے بہتر امکانات کی شکل کو واضح کریں گے۔ کیونکہ بڑا دھچکا افغانستان کی اچانک سالانہ ارب ڈالر کی امداد کا بند ہونا اور افغانستان کے نو ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر کا منجمند ہونا ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں امریکی اور اقوام متحدہ نے طالبان پر عائد اپنی پابندیوں میں نرمی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

افغانستان کی حالیہ صورتحال میں ایک بڑا فریق خود امریکہ ہے۔ امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ افغان صورتحال کی وجہ سے عملی طور پر پاکستان سے بھی بہت زیادہ خوش نہیں۔ اگرچہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے مگر ان کے بقول جو تجاویز ہم نے پاکستان کو دی تھیں ان کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹوم ویسٹ کے بقول پاکستان عملی طور پر افغانستان کی صورتحال کو بہت زیادہ بہتر طور پر سمجھتا ہے اور ہمارے پاس پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنے کہ سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

اس لیے امریکہ اپنے تحفظات کے باوجود پاکستان سے بہتر تعلقات بنانے پر توجہ دے اور پاکستان کو نظرانداز کر کے یا ان سے تعلقات میں بگاڑ پیدا کر کے نہ تو افغان بحران حل ہو گا اور نہ ہی امریکہ کے مفاد کو فوقیت حاصل ہوگی۔ مسئلہ صرف امریکہ کا ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کا بھی ہے جو افغان تناظر میں امریکی کردار پر اپنے تحفظات رکھتا ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے بقول ہمیں دو ہی اہم معاملات پر امریکہ سے تحفظات ہیں جن میں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو پذیرائی نہ دینا اور دوسرا افغانستان کے بحران کے حل میں امریکہ کا کردار وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔

امریکہ پاکستان پر تنقید تو کرتا ہے مگر بھارت کے اس خطہ میں مجموعی منفی کردار پر اس کی خاموشی اور افغان بحران میں مسائل کو حل کرنے کی بجائے بھارتی منفی کردار پر امریکہ کی خاموشی ہمارے مفاد کے خلاف ہے۔ حالانکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جو سیاسی مذاکرات کی میز سجی اس میں پاکستان کا کردار کلیدی تھا۔

ایک مسئلہ طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا اس میں جو تاخیر اختیار کی جا رہی ہے وہ بھی افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ عالمی دنیا نے بہت سی اہم شرائط کی بنیاد پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عالمی دنیا کے بقول فی الحال ان معاملات پر افغان حکومت نے کوئی بڑی پیش رفت نہیں کی جو تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔

ایک بات امریکہ کو سمجھنی ہوگی کہ افغانستان کے بحران کا حل یا ان کی اپنی مرضی اور منشا کا ایجنڈا کسی جادوئی عمل سے ممکن نہیں ہو گا۔ امریکہ کو یقینی طور پر طالبان کو موقع دینا ہو گا اور ایک مسلسل عمل کی نگرانی اور دباؤ کی سیاست سے ہی عالمی ایجنڈے کی تکمیل ممکن ہوگی۔ لیکن اگر عجلت یا جلدبازی یا ڈکٹیشن کی صورت میں ایجنڈے کو مسلط کرنا اور فوری طور پر اس پر عملدرآمد کی شرط مسائل کو حل کرنے کی بجائے تعلقات میں اور زیادہ بگاڑ کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ امریکہ، چین، روس، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت پاکستان کو طالبان حکومت کی عالمی قبولیت میں غیر معمولی اقدام کی ضرورت ہے۔

اسی طرح طالبان کو بھی پاکستان سمیت عالمی دنیا کے تحفظات کو اہمیت دینی ہوگی کیونکہ طالبان کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں حکومت نہیں کرسکیں گے۔ یقینی طور پر افغان طالبان کو پاکستان سمیت عالمی دنیا کی حمایت درکار ہے اور یہ حمایت محض مالی طور پرہی نہیں بلکہ مختلف پہلووں پر حمایت درکار ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ طالبان کی حکومت سے پہلے افغانستان کی سرزمین بھارتی امداد کے توسط سے عملاً پاکستان کے خلاف شدت پسندوں کی کارروائیوں کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان حکومت کے آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات مکمل طور پر رک جائیں گے۔ لیکن پاکستان کی توقعات کے برعکس حالیہ کچھ عرصہ میں دہشت گردی یا حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور نئے برس 2022 میں اس میں زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جیسا کے پاک افغان سرحد پر حملے، سرحدی باڑ اکھاڑنے یا پاکستان مخالف بیانات اور امدادی ٹرکوں سے بینر اتارنے جیسے واقعات رونما ہوئے۔ اسی طرح قبائلی علاقوں کے علاوہ ہمیں بلوچستان اور دیگر شہری علاقوں میں حملے ہوچکے ہیں۔ پاکستان بار بار عالمی دنیا کی توجہ دلا رہا ہے کہ بھارت کے منفی کردار کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ خطہ کے معاملات میں استحکام پیدا ہو سکے۔

بنیادی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ بھارت افغانستان کے تناظر میں کیا چاہتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا مجموعی کردار مثبت ہے اور وہ افغانستان سمیت خطہ کی سیاست میں مثبت کردار ادا کرنے کا حامی ہے تو پھر اس کی عکاسی اسی پیرائے میں ہونی چاہیے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو بھارت اپنے لیے زیادہ خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہمارے مقابلے میں عملاً پاکستان کے مفاد میں زیادہ ہے۔

اسی لیے اگر یہ کہا جائے تو کسی حد تک درست ہو گا کہ بھارت مختلف حربوں اور حکمت عملیوں کی مدد سے افغانستان میں اپنے اور امریکی مفادات کے لیے پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس پراکسی جنگ کا عملی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ افغان بحران کے حل میں اور زیادہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔ خود امریکہ افغانستان میں کیا چاہتا ہے اور اس کے اہم اتحادی پاکستان کو وہاں کہاں دیکھنا چاہتا ہے یہ خود بڑی اہمیت کا سوال ہے۔ کیونکہ خود امریکہ کو بھی اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کہ وہ مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے جوں کا توں یا اس میں مزید بگاڑ پیدا کرنا چاہتا ہے۔

افغانستان کا بحران غیر معمولی بھی ہے اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ امریکہ سمیت عالمی دنیا ہمارے مسائل کے حل میں غیر معمولی اقدامات پر توجہ دے۔ کیونکہ یہ ڈر بدستور موجود ہے کہ آنے والے کچھ عرصہ میں افغانستان میں مثبت تبدیلیاں رونما نہ ہو سکیں تو اس کے سنگین نتائج مجموعی طور پر افغانستان سمیت خطہ پر منفی انداز میں نمایاں ہوں گے ۔ خود عالمی دنیا بھی افغان بحران سے بچ نہیں سکے گی اور جو حالات کا بگاڑ ہو گا اس میں باقی فریقین سمیت خود عالمی دنیا اور بالخصوص امریکہ کی بڑی ذمہ داری ہوگی۔

Facebook Comments HS