میں جب بیدار ہوا

میں جب بیدار ہوا تو خامشی ہر سو چھائی ہوئی تھی۔ میں نے سمجھا کہ میں رات کے تین بجے اٹھ گیا ہوں۔ جب موبائل دیکھا تو صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ میں نے سوچا آج کوئی چھٹی کا دن تو نہیں نہ ہی کوئی تہوار ہے پر اتنی خامشی ہو۔ جب میں نے اپنی زوجہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ کو کیا ہو گیا ہے، آپ دفتر سے لیٹ ہو رہے ہیں، جلدی تیار ہو جائیں۔ میں تیار ہوا اور دفتر کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ گھر سے باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گلیاں، سڑکیں صاف ستھری، کوئی گندگی نہیں۔
میں دیکھ کر حیران ہو گیا کہ لاہور شہر میں اتنی صفائی کہ گلیاں سڑکیں لشکارے مار رہی ہیں اور شور بالکل نہیں ہے، کوئی ہارن کی آواز نہیں۔ میں نے جب غور کیا تو موٹر سائیکل، کاریں سب ایک ترتیب سے چل رہے ہیں، کوئی ہارن نہیں بجا رہا، کوئی غلط راستہ سے اوور ٹیک نہیں کر رہا۔ ایک ترتیب کے ساتھ سب گاڑیاں چل رہی ہیں۔ ایک بندہ بھی اشارہ نہیں توڑ رہا۔ وارڈن بڑے مؤدب اور مہذب انداز میں بات کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ مجھے شک ہوا کہ میں لاہور میں نہیں پیرس میں سے گزر رہا ہوں۔
دفتر پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں دفتر صاف ستھرا ہے، سارے ملازمین وقت پر دفتر پہنچ چکے ہیں۔ کوئی بھی ایک چھٹی کی درخواست میری میز پر نہیں ہے۔ میں اپنے پی اے کو بلاتا ہوں اور پوچھتا ہوں خیر ہے؟ اے ڈی صاحب آج کوئی چھٹی کی درخواست نہیں آئی۔ تو اے ڈی صاحب فرماتے ہیں سر ہمارے تمام لوگ ما شاء اللہ صحت مند، اپنے کام سے پیار کرنے والے اور سچے پروفیشنل لوگ ہیں۔ ان سے ہمیں کیا شکایت ہو سکتی ہے۔ میں اے ڈی صاحب کو واپس بھیج دیتا ہوں اور دفتر کے کام میں مشغول ہو جاتا ہوں۔
تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آج درخواست گزار بہت کم ہیں اور اچانک تمام لوگوں کی شکایتیں ختم ہو گئی ہیں۔ میں پھر گھنٹی دے کر اے ڈی صاحب کو بلاتا ہوں اور پوچھتا ہوں آج کوئی سائل نہیں آیا تو اے ڈی صاحب فرماتے ہیں سر سائل تو اس وقت آئے جب ان کے کام نہ ہو رہے ہوں، سب لوگوں کے کام ہو رہے ہیں۔ کسی کو بھی حکومت اور ملک سے شکایت نہیں ہے، انصاف مل رہا ہے اور حکومت بلا تفریق سب لوگوں کو سہولتیں مل رہی ہیں اور سر اب سائل کو آنے کی کیا ضرورت ہے۔
اگر کوئی مسئلہ ہو تو ہماری موبائل ایپ ہے جس پر وہ اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ سر اس وقت ہماری ایپ پر کوئی بھی درخواست بقایا نہیں ہے۔ اے ڈی صاحب ایپ پر لاگن کر کے مجھے دکھاتے ہیں اور میں اپنا سر پکڑ کر رہ جاتا ہوں کہ میں کہاں ہوں۔ میں دفتر کا ٹی وی آن کرتا ہوں جس پر خبریں لگی ہوئی ہیں، خبریں کچھ یوں ہیں :
1) پاکستان نے اولمپک میں ایک سو ایک میڈل لے کر پہلا نمبر حاصل کر لیا ہے
2) کراچی اسٹاک ایکسچینج اس وقت دنیا میں پہلے نمبر پر کام کر رہی ہے
3) امریکن صدر ہمارے وزیر اعظم سے وقت لینے کے لیے کئی بار رابطہ کر چکے ہیں لیکن ہمارے وزیر اعظم بہت مصروف ہیں اور ان کو وقت نہیں دے پا رہے۔
ٹی وی پر تمام خبریں مثبت ہیں کہ اب یقین ہو جاتا ہے کہ پاکستان تیسری دنیا سے پہلی دنیا میں شامل ہو گیا ہے اور اسی لمحے مجھے احساس ہوتا ہے کہ بارش ہو رہی ہے اور میں بارش میں بھیگ رہا ہوں۔ میں سوچتا ہوں میں دفتر میں ہوں، دفتر میں کہاں سے بارش ہو گئی کہ اچانک میری زوجہ کی آواز آتی ہے، آج دفتر نہیں جانا؟ آپ کے دفتر سے دس بار فون آ چکا ہے۔ اٹھیں بھی سہی ہر وقت بس سوتے ہی رہتے ہیں۔ میں جب اٹھتا ہوں تو وہی شور پاتا ہوں۔ مجھے یقین ہو جاتا ہے میں لاہور پاکستان میں ہوں۔

