بلوچستان اور سندھ کے درمیان مچھلی کے شکار پر تنازعے اور ماہی گیروں کے احتجاج کے بعد کراچی کی بندرگاہ بند


پاکستان میں کراچی بندرگاہ پر جہازوں کی آمد و رفت کی مرکزی گزر گاہ سندھ کے ماہی گیروں کے احتجاج کی وجہ سے منگل کے روز سے بند ہے جس کی وجہ سے ملک کی بیرونی تجارت معطل ہو چکی ہے۔

سندھ کے ماہی گیر یہ احتجاج بلوچستان کی سمندری حدود میں مچھلی کے شکار پر پابندی کے خلاف کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ سے بلوچستان کے سمندر میں جانے والی کئی لانچوں کو بھی بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری نے قبضے میں بھی لیا ہے۔

پاکستان کی ساحلی پٹی صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں واقع ہے اور ساحلی بستیوں پر رہنے والے ماہی گیروں کی چھوٹی کشتیوں اور لانچوں کے ساتھ بڑے فشنگ ٹرالرز کے ذریعے بھی مچھلی اور دوسری سمندری حیات پکڑی جاتی ہے۔

ماہی گیروں کے احتجاج کی وجہ سے کراچی بندرگاہ کی بندش کے بعد پاکستان کی مرکزی حکومت بھی حرکت میں آئی ہے اور حکومتی عہدیداروں نے احتجاجی ماہی گیروں کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے ہیں تاہم گذشتہ روز مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

لیکن حکومت پرامید ہے کہ ماہی گیروں کے ساتھ مذاکرات میں یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور کراچی کی بندرگاہ کو دوباہ بیرونی تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

سندھ کے ماہی گیروں کے احتجاج وجہ کیا ہے؟

سندھ کے ماہی گیروں کی جانب سے کراچی کی بندرگاہ کے مرکزی چینل پر کشتیاں اور لانچیں لا کر کھڑی کر دی گئی ہیں جس کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہ میں بیرونِ ملک سے تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رک گیا ہے۔

ماہی گیروں کی نمائندہ تنظیم کے ایک عہدیدار علاؤالدین نے بتایا کہ سندھ کے ماہی گیر بلوچستان کی سمندری حدود میں سندھ سے جانے والی ماہی گیروں کی کشتیوں اور لانچوں پر پابندی کے خلاف یہ احتجاج کر رہے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کی جانب سے اپنی حدود میں 12 ناٹیکل میل کے اندر سندھ کی جانب سے آنے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی پکڑنے پر پابندی کی گئی ہے۔ علاؤالدین نے بتایا کہ جب بلوچستان سے سندھ کی حدود میں آنے والے ماہی گیروں پر کوئی پابندی نہیں ہے تو پھر یہاں سے بلوچستان کی جانب جانے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی پکڑنے پر پابندی ناانصافی ہے۔

علاؤالدین نے بتایا کہ بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری نے سندھ سے جانے والی نو لانچوں کو قبضے میں لیا تھا جس میں سے تین کو چھوڑ دیا گیا اور چھ ابھی تک تحویل میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ کے ماہی گیر اس وجہ سے سراپا احتجاج ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور وہ اس وقت تک احتجاج پر رہیں گے جب تک کہ اس کا کوئی مناسب حل نہیں نکلتا۔

بلوچستان میں شکار پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

بلوچستان میں سندھ سے آنے والی لانچوں پر پابندی کے سلسلے میں نیشنل پارٹی کے ماہی گیر کے امور کے سیکریٹری آدم قادر بخش نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سمندری حدود پر 12 ناٹیکل میل تک صوبے کا حق تو 1973 کے آئین میں دیا گیا ہے تاہم تین فروری کو بلوچستان حکومت نے گجہ اور وائر نیٹ جال کے ذریعے مچھلیاں پکڑے والی لانچوں پر پابندی عائد کر دی جس کے ذریعے مچھلی، اس کے بچے اور یہاں تک کہ انڈے تک پکڑ لیے جاتے ہیں۔

گوادر، ٹرالر، ماہی گیر

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کے ماہی گیر بڑے سوراخ والے نیٹ استعمال کرتے ہیں۔

’سندھ سے آنے والے ٹرالر اور لانچیں اگر تنگ سوراخ والے جال استعمال نہ کریں تو وہ آ سکتے ہیں تاہم حکومت بلوچستان نے کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سکیورٹی کو کہا کہ تنگ سوراخ والے جال استعمال کرنے والی لانچوں اور ٹرالر کو پکڑ لیں۔‘

بلوچستان کی جانب سے اپنی حدود میں سندھ سے آنے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی کے شکار پر پابندی کے بارے میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز میں بحری امور کے محقق نوفل شاہ رخ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس پابندی کی ایک وجہ ہے اور بلوچستان کو پورا حق ہے کہ وہ 12 ناٹیکل میل تک دوسرے صوبے سے آنے والی لانچوں پر پابندی لگا دے۔

انھوں نے کہا بلوچستان کے ماہی گیر بنیادی طور پر چھوٹے ماہی گیر ہیں اور ان کی گزر اوقات اسی مچھلی پر ہوتی ہے۔

نوفل شاہ رخ بتاتے ہیں کہ سندھ سے بڑے فشنگ ٹرالر آتے ہیں اور ان کے پاس ایسے جال ہیں کہ وہ بہتر گہرائی تک مچھلی کے ساتھ ان کے بچوں اور انڈوں تک کو پکڑ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’بلیک بلینکٹ‘ آکٹوپس پاکستانی سمندری حدود میں

بلوچستان میں فشنگ ٹرالر کہاں سے آتے ہیں اور مقامی ماہی گیروں کو کیا اعتراض ہے؟

بلوچستان میں نایاب آرا مچھلی پکڑ لی گئی مگر اس کا استعمال کہاں ہوتا ہے؟

انھوں نے بتایا کہ ان ٹرالرز نے سندھ کے سمندر کو تو خالی کر دیا ہے اور یہاں اب وہ مچھلی نہیں ملتی جو بلوچستان کے اندر موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اس صوبے کا رخ کرتے ہیں۔

’بلوچستان کے ماہی گیروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی سمندری حدود کے اندر یہ ٹرالرز نہ آئیں ورنہ ان کا سمندر مچھلی کے ذخیرے سے آہستہ آہستہ خالی ہو جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت سندھ میں جو طبقہ فشنگ ٹرالرز سے وابستہ ہے وہ یہاں کے مقامی نہیں ہیں بلکہ یہ دوسری قومیتوں کے لوگ ہیں جن ک پاس بڑے ٹرالرز ہیں، یہ سمندر کے اندر بہت گہرائی میں جا کر مچھلیوں، اُن کے بچے اور انڈوں تک کو نکال کر لے جاتے ہیں۔‘

بندر گاہ کی بندش سے بیرونی تجارت کیسے متاثر ہو رہی ہے؟

ماہی گیروں کے احتجاج کی وجہ سے کراچی بندر گاہ سے ہونے والی ملک کی بیرونی تجارت ایک روز سے بند ہے اور درآمدی اور برآمدی مال کے جہاز کراچی بندر گاہ کے اندر کھڑے ہیں یا اس سے باہر لنگرانداز ہیں۔

ماہی گیری

بلوچستان کے ماہی گیر کہتے ہیں غیر قانونی فشنگ اور ٹرالرز اُن کے سمندر کو بانجھ کر رہے ہیں

بندر گاہ کی بندش کی وجہ سے درآمدی و برآمدی سامان کی آمد و رفت پر کراچی کی کاروباری و تجارتی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک کی بیرونی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے ماہی گیروں کی جانب سے کراچی پورٹ کے داخلی و خارجی چینل کو بلاک کر دینے پر کہا ہے کہ کل سے کراچی پورٹ کے راستے کو بلاک کر دینے سے درآمدی و برآمدی سامان سے لدے کئی جہاز پھنس گئے ہیں۔

صدر کراچی چیمبر آف کامرس محمد ادریس نے کہا تقریباً 10 جہاز جو کراچی پورٹ پر لنگرانداز ہونے تھے، وہ بندر گاہ کے حدود کے باہر کھڑے ہیں۔ اگر صورتحال شام تک اسی طرح برقرار رہی تو عین ممکن ہے کہ کئی جہاز پورٹ پر لنگرانداز ہوئے بنا ہی لوٹ جائیں جس سے تاجر برادری اور معیشت کو بھاری نقصان ہو گا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ بندرگاہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر کلیئر کر کے بین الاقوامی تجارت کو بحال کیا جائے کیونکہ معیشت پہلے ہی مشکلوں سے دوچار ہے۔

صنعت کار زبیر موتی والا نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ 80 ارب ڈالر کی بیرونی تجارت ہے اور اگر یہ چینل مزید بند رہتا ہے تو نقصان کا تخمینہ کروڑوں ڈالر کی صورت میں ہو گا۔

حکومت نے بندش کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے؟

کراچی بندر گاہ کے چینل پر ماہی گیروں کے احتجاج اور اس کی وجہ سے جہازوں کی آمد و رفت کے معطل ہونے پر وزیر اعظم کے مشیر برائے جہاز رانی اور بندر گاہ محمود مولوی نے احتجاجی ماہی گیروں سے مذاکرات کیے جو منگل کے روز ہوئے تاہم یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے۔

محمود مولوی نے بتایا کہ وہ احتجاج کرنے والے ماہی گیروں سے بدھ کی شام پھر مذاکرات کریں گے۔ انھوں نے مذاکرات کے کامیاب ہونے کی توقع کا اظہار کیا اور کہا کہ جلد بندر گاہ کا مرکزی چینل کھل جائے گا اور جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp