پیکا آرڈیننس: حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت


اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر خاموشی اور رازداری سے معاملات آگے بڑھا رہی ہے۔ میڈیا کو اب تک صرف یہی خبریں میسر ہوئی ہیں کہ کون کس سے مل رہا ہے یا ملنے جا رہا ہے۔ اس کے سوا اب تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ عدم اعتماد کی تحریک پہلے پنجاب میں لائی جائے گی یا ڈائریکٹ وفاق میں۔

کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے بارے میں بیک وقت تین آپشنز پر غور و فکر کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی یہ چاہتی ہے کہ عدم اعتماد کا آغاز پنجاب سے کیا جائے جبکہ نون لیگ کا اب تک زیادہ اصرار تھا کہ ڈائریکٹ وزیراعظم کے خلاف ہی تحریک پیش کر دینی چاہیے۔ ایک اور تجویز اس کے علاوہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریک لائی جائے۔ اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے رائے شماری خفیہ ووٹنگ سے ہوگی اور خفیہ ووٹنگ میں حکومت کو شکست دے کر نفسیاتی دباؤ میں لانا آسان ہو گا۔

بہرحال سب سے اہم ڈویلپمنٹ شہباز شریف اور جہانگیر ترین کی ملاقات ہے۔ اس ملاقات کے فوراً بعد شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم کو ملنے والے اس مشورے کے بعد کہ انہیں جہانگیر ترین سے ملاقات کرنی چاہیے یہ یقین ہو گیا ہے کہ حکومت کے لیے معاملات واقعی زیادہ گڑبڑ ہو چکے ہیں۔ اب اگر واقعی اپوزیشن اور جہانگیر ترین کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں تو زیادہ امکان یہ نظر آ رہا ہے کہ عدم اعتماد پہلے پنجاب میں لائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ عدم اعتماد پہلے پنجاب میں لائی جائے۔ نون لیگ مگر اس لیے پس و پیش سے کام لے رہی تھی کیونکہ اس حوالے سے درکار اکثریت کے حصول کی خاطر چوہدری برادران کی حمایت کی ضرورت تھی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ چوہدری اپنی حمایت اپوزیشن کے پلڑے میں ڈالنے کی قیمت ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلی سے کم لینے پر ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ نون لیگ کی قیادت عمران خان کی مخالفت میں شاید اس پر بھی راضی ہو جاتی لیکن جماعت کے اندر بھی اس حوالے سے بہت سے لوگوں کو تحفظات ہیں۔

ورنہ شاہد خاقان عباسی کو یہ بیان دینے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی کہ چند نشستوں کی حامل جماعت کو وزارت اعلی نہیں دی جا سکتی۔ تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سے دو درجن اراکین پنجاب اسمبلی کی حمایت جہانگیر ترین کو حاصل ہے۔ یہ اراکین پنجاب اسمبلی اگر جہانگیر ترین اپوزیشن کے حوالے کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر ق لیگ کی ضرورت نہیں رہتی۔ شہباز شریف نے اسی سلسلے میں حمزہ شہباز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جو تحریک انصاف اور دیگر گروپس سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی سے رابطے کر رہی ہے اور انہیں حمایت کے عوض آئندہ انتخابات میں سپورٹ کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ بہرحال جب تک خود اپوزیشن کی طرف سے کوئی حتمی منصوبہ سامنے نہیں آتا اس متعلق کوئی واضح بات نہیں کی جا سکتی۔

تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا تاہم حکومتی بوکھلاہٹ سے اتنا ضرور واضح ہو چکا ہے کہ اس کے لیے اب پہلے کی طرح گلیاں سنسان نہیں رہیں۔ حکومت آج کل جو کر رہی ہے ہر حکمراں وقت رخصت بوکھلاہٹ میں اسی قسم کی حرکتیں کرتا ہے۔ پیکا قوانین میں تبدیلی اور سختی اسے اپنے انجام سے تو نہیں بچا سکتی تاہم یہ عجیب و غریب اقدامات حکومت کے اپنے گلے ضرور پڑیں گے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ جو سیاسی جماعت دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو چور، ڈاکو اور بے ایمان کہہ کر اقتدار میں آئی اور پھر اقتدار میں آ کر ان الزامات کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہی کس منہ سے فیک نیوز کی روک تھام کی بات کر رہی ہے۔

جھوٹی الزام تراشی اور سیاسی بہتان بازی کی کراہت سے انکار نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پہلے ایسے سیاستدانوں کے خلاف جنہوں نے اس فعل مذموم کی بدعت ڈالی اور جنہیں دستاریں اچھالنے میں ید طولی حاصل ہے کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ یا صرف سارا نزلہ مخالف صحافی، بے یار و مددگار سوشل میڈیا ورکر اور غریب سیاسی ورکر پر ہی گرے گا؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہو رہا ہے کیونکہ مذکورہ قانون سے تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت کا مقصد فیک نیوز کا خاتمہ نہیں بلکہ نا پسندیدہ لوگوں کی کسی بھی وقت گرفتاری ہے۔

حکومت اگر خبر کے سچ یا جھوٹ کو طے کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہوتی تو اس کے اور بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جیسے ہی خبر شائع ہو، اسی وقت صحافی کو گرفتار کر لیا جائے اور یہ بعد میں طے کیا جائے کہ کہ خبر سچی تھی یا جھوٹی۔ پتا نہیں مزید کن آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا خطرہ تھا کہ راتوں رات پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون نافذ کرنا پڑ گیا۔ ورنہ ریاست کے کسی ادارے کی کارکردگی پر تنقید کرنا کیسے جرم ہو سکتا ہے۔ سرکاری ادارے عوام کی ملکیت ہوتے ہیں، سرکاری افسر اور ملازمین کو انگریزی میں پبلک سرونٹس کہا جاتا ہے اور دنیا بھر میں ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالات ہو سکتے ہیں۔ یہ مقدس گائے کا کلچر صرف ہمارے ہاں ہی اب تک موجود ہے ورنہ جمہوری ممالک میں عدلیہ کے کنڈکٹ بارے میں بھی بات کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

حکومت کو احساس ہی نہیں کہ اس کے ہاتھ سے وقت مٹھی میں دبی ریت کی طرح تیزی سے پھسل رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب فرما تو رہے ہیں کہ اقتدار چلا گیا تو وہ مزید خطرناک ہو جائیں مگر شاید انہیں اندازہ نہیں کہ اب وہ وقت نہیں رہا جب ان کا پسینہ گلاب ہوا کرتا تھا۔ وزیراعظم کے خوشامدی مشیر انہیں یہ ادراک ہی نہیں ہونے دے رہے کہ جن کی شہ پر وہ خطرناک ہوا کرتے تھے وہ اب بھی ان کی پشت پر ہوتے تو بات کبھی عدم اعتماد کی کھلم کھلا باتوں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔

پیکا قوانین کے نفاذ کے ذریعے میڈیا کو بے دست و پا کرنے کا مشورہ جس نے بھی وزیراعظم کو دیا ہے وہ کسی بھی طرح ان کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ اقتدار ملنے سے قبل نادیدہ قوتوں کے علاوہ میڈیا ہی تھا جس نے عمران خان صاحب کی سب سے زیادہ خدمت کی تھی اور عنقریب اس کی خدمات کی انہیں دوبارہ ضرورت پڑنے والی ہے۔ وزیراعظم صاحب سوچیں وہ خطرناک ہونے کی دھمکیاں تو دے رہے ہیں مگر اب کی بار عوام کے پاس وہ کیا بیانیہ لے کر جائیں گے؟

وزیراعظم اور ان کے ترجمان زبان و بیان کی جتنی مرضی صلاحیتیں آزما لیں اور جو مرضی کہتے رہیں کمر توڑ مہنگائی، تباہ معیشت اور خراب گورننس ان کے بیانیے کی ہوا نکالنے کو کافی ہیں۔ جو خواب وہ کنٹینر پر چڑھ کر دکھاتے رہے چار سال سے عوام اس کی تعبیر اچھی طرح بھگت رہے ہیں۔ اقتدار کی لو اگر ٹمٹما رہی ہے تو نشاندہی کرنے والی زبانیں بند کرنے کے باوجود یہ ضرور بجھ کر رہے گی۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ اس وقت وہ مزید دشمن بنانے اور نئے محاذ کھولنے کے بجائے وہ اپنا امیج بہتر کرنے کی فکر کرے۔

Facebook Comments HS