ستائیس فروری کا فیصلہ کن عوامی مارچ
پاکستان پیپلز پارٹی 27 فروری کا عوامی مارچ مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف ملک بھر میں کامیابی کے جھنڈے لہرانے والا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاسی بصیرت کا عملی ثبوت دیا ہے۔ اب تو تمام اپوزیشن جماعتوں نے ایک زبان ہو کر موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے لانگ مارچ کی حمایت کرنا شروع کردی ہے۔
کراچی سے خیبر تک اب ہر گلی ہر کوچہ عوام بلاول بھٹو زرداری کی آواز پر لبیک کہنے کو مکمل تیار ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی زبان ملانے اپنے نعروں کو یک زبان ہو کر لگانے کو تیار ہیں۔
ستائیس فروری مزار قائد سے حکومت کے اقتدار میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے پاکستان کے جیالے اور عوام کا جم غفیر بے تاب ہیں کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔
موجودہ حکومت نے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی دور کر دیا ہے۔ غلط پالیسیوں کے سبب پڑوسی ملک جہاں حالات کشیدہ ہیں کے باشندوں کو ملک میں لاکر بدامنی پھیلانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ خصوصاً شہر قائد میں جوق در جوق نظر آنے والے پڑوسی ملک کے باشندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے وہ اہالیان کراچی کے لئے باعث تشویش ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی کو ترقی دینے میں مقدم جانا ہے لیکن بعض عناصر نے ہر موڑ میں کراچی کی ترقی روکنے کے لئے اس شہر میں سازشیں کی ہے، اب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی جنم بھومی کو کسی سازش اور دہشت گردی کی نذر نہیں ہونے دے گا۔
27 فروری کا مارچ اپنے نقطہ آغاز ہی کراچی سے اس لئے کر رہا ہے کہ یہ شہر پیپلز پارٹی کا ہے جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا گھر ہے۔ جہاں شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کی ککری گراؤنڈ لیاری میں شادی ہوئی۔ جہاں چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہنیں پیدا ہوئیں، اس شہر کے باسی بھی پیپلز پارٹی سے والہانہ محبت کرتے ہیں، بھٹو خاندان اور بھٹو ازم پر 18 اکتوبر کو جاں نثاراں بھٹو کی جان دینے اہالیان کراچی کا عملی مظاہرہ دیکھا گیا تھا، سینکڑوں بھٹو کے جیالے اپنی قائد پر ایک لمحے میں جاں نثار کر گئے تھے یہ ہے پیپلز پارٹی کے جیالے اور یہ ہی جذبہ و محبت اسی طرح امڈ آئے گی 27 فروری کو حکومت کے خلاف چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی کال پر اور اسلام آباد پہنچ کر موجودہ حکومت کا خاتمہ کر کے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، بجلی گیس اور ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے آزاد کروائیں گے۔ یہ شہر کراچی کے باسی ہی ہیں جنہوں نے ہمیشہ چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی آواز پر نہ صرف لبیک کیا ہے بلکہ موج در موج بن کر سمندر کی طرح مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں تنکوں کی طرح بہہ لے گئے ہیں۔
آج اگر پاکستان کے عوام خوش و خرم ہیں تو وہ ہے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا 27 فروری سے موجودہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا آغاز کرنا اس لانگ مارچ کے نتیجے میں عمران خان کو کانپتے اور گھبراتے ہوئے دیکھ کر عوام بہت خوش ہو رہی ہے اب خاتمہ ہے ظالم اور کرپٹ حکومت کا۔ اب خاتمہ ہے بے ایمانی سے حاصل کردہ اقتدار والی پارٹی کا۔
27 فروری کا لانگ مارچ لرزہ طاری کر رہا ہے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے کرپٹ اور بے ایمان حکمرانوں پر اب کوئی ان کو نہیں بچا سکتا ہے اس سمندر سے جو کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے بابائے قوم قائد اعظم کے مزار سے شروع ہو گا۔ یہ لانگ مارچ جھوٹے جھوٹے وعدہ کرنے والے حکمرانوں کے خلاف ہے عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے والوں کے خلاف ہے۔ مریضوں سے ادویات دور کرنے والوں کے خلاف ہے۔ فیکٹریوں اور گھروں سے بجلی غائب کرنے والوں کے خلاف یہ لانگ مارچ خلاف ہے کراچی میں بد امنی پیدا کرنے والوں کے لئے اہالیان کراچی پر افغانوں کو مسلط کرنے والوں کے خلاف۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی پارٹی ہے اور وفاق کی علامت ہے لیکن پیپلز پارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کسی کو کراچی میں کسی بھی قسم کی سازشیں نہیں کرنے دیں گی 27 فروری کا لانگ مارچ ہی ثابت کرے گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی موجودہ کرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کر کے کراچی کو ان عناصر سے پاک کریں گی جو کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے کراچی کا سودا کر رہے ہیں۔ اب کراچی سے خیبر تک ایک صدا گونج رہی ہے کہ چیئر مین بلاول بھٹو زرداری آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں ان ظالموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کے لئے۔ ہم ساتھ ہیں لانگ مارچ کے ان کے خلاف جو غربت کو نہیں غریبوں کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔


