سوچ سے تقدیر


1995 میں چھ دوستوں نے مل کر ایک خواب دیکھا کہ علم ہی وہ طاقت ہے جس سے دنیا کی ہر طاقت منسلک ہے اور تعلیم و تربیت ہی معاشرے میں موجود برائیوں کا حل ہے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ان چھ دوستوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کام کا آغاز کیا۔ سوچ سے تقدیر تک کے سفر کو مکمل کرنے کے لیے ان دوستوں نے ایک فلاحی ادارے دی سٹیزن فاونڈیشن کی بنیاد رکھی اور کم مراعات یافتہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے نعرے کے ساتھ ابتدا میں صرف پانچ اسکولوں کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔

ٹی سی ایف نے ان گنجان آباد اور کچی آبادیوں میں معیاری تعلیم کا آغاز کیا جہاں معیاری تعلیم کا حصول مشکل تھا۔ 1995 میں ایک سوچ سے شروع ہونے والا سفر اب پاکستان بھر میں پھیل چکا ہے ماسوائے وادی امن و محبت گلگت بلتستان کے تادم تحریر یہ ادارہ پاکستان بھر میں 1687 اسکولوں کے ساتھ علم کے شمع کو روشن کیے ہوئے ہے۔ اس قابل تقلید ادارے کے اسکولز وادی امن و محبت گلگت بلتستان میں نہ ہونا افسوسناک ہے نا جانے وہ کون سی وجوہات ہے جس کی وجہ سے علم دوست خطہ گلگت بلتستان میں اس عظیم درسگاہ کے اسکولز موجود نہیں ہے سٹیزن فاونڈیشن کے انتظامیہ سے دردمندانہ درخواست ہے گلگت بلتستان کے علم دوست معاشرے کو اس بہترین اسکول کے نظام سے استفادہ کرنے کا مواقع فراہم کریں۔

اس وقت دی سٹیزن فاونڈیشن میں کل 275000 طلبہ و طالبات تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہیں ہے۔ ٹی سی ایف نے جہاں شہر کے دشوار گزار علاقوں میں معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے وہی ہمارے معاشرے کے انتہائی اہم اکائی خواتین کو مالی و معاشرتی طور پر با اختیار بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹی سی ایف میں صرف خواتین اساتذہ ہی طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ ٹی سی ایف اسکلولز جہاں اپنے طلبہ و طالبات کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے پروگرامات کا انعقاد کرتی ہے وہی ان سب میں ایک نمایاں پروگرام ٹی سی ایف رہبر پروگرام ہے۔

ٹی سی ایف رہبر پروگرام چھ ہفتوں پر مشتمل ایک ایسا منفرد اور قابل تقلید پروگرام ہے جو آٹھویں اور نویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد رضا کارانہ طور پر کلاس آٹھویں کے طلبہ و طالبات کے ساتھ بطور مینٹور ہفتہ وار چھ ہفتوں تک وقت گزارتے ہے۔ ان چھ ہفتوں میں منٹوز منظم سنگ میل اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو آئندہ آنے والی مشکلات اور چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے رہنمائے کرتے ہے۔

یہ پروگرام آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے اس لیے بھی کافی اہم ہے کیوں کے عمر کے اس حصہ میں بچوں میں بھر پور انرجی ہوتی ہے اور اس انرجی کو مثبت سمت پر گامزن کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی نقطہ طلبہ و طالبات میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانا ہے۔ سوچ سے تقدیر تک کے سفر میں درپیش آنے والے مشکلات سے نمٹنے کے لیے مثبت سوچ اور مثبت عمل کا ہونا انتہائی اہم ہے۔ اب تک ٹی سی ایف رہبر پروگرام میں پاکستان کے 18 شہروں سے کم و بیش 9297 رضاکاروں نے حصہ لے کر تقریباً 38388 طلبہ و طالبات کے ساتھ چھ ہفتے گزارے ہے۔

ٹی سی ایف رہبر پروگرام میں منٹورز ہفتہ وار مختلف سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو انتہائی اہم موضوعات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہے۔ چھ ہفتوں پر مشتمل اس پروگرام کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلا ہفتہ آپس میں تعلق جوڑنے سے مطلق ہے یعنی منٹورز اور مینٹیز کا آپس میں تعلق اور یہ تعلق استاد اور شاگرد کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ بڑے بھائی اور بڑی باجی کی حیثیت سے تعلق قائم کیا جاتا ہے ۔ دوسرے ہفتے کا سنگ میل سوچ سے تقدیر تک کے عنوان سے ہوتا ہے ٹی سی ایف رہبر پروگرام کا اصل یہی سوچ سے تقدیر تک کا سفر ہے اور بنیادی طور پر چھ ہفتوں میں طلبہ و طالبات کو یہی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سوچ سے تقدیر تک کیسے پہنچا جاتا ہے۔

انسان کو اپنی زندگی میں جہاں بہت ساری چیزوں پر مکمل اختیار نہیں وہی ان میں ایک انسان کا مسلسل سوچنا ہے ہم ہر لمحے شعوری اور غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی سوچ میں مصروف ہوتے ہے۔ کسی بھی بڑے ایجاد کی ابتدا سوچ سے ہی شروع ہوتی ہے۔ یعنی سوچ ایک بیج ہے اور اس بیج کو مناسب دیکھ بھال اور حفاظت کر کہ درخت بنے کے لیے آزاد چھوڑ دینا ہوتا ہے۔ ٹی سی ایف رہبر پر گرام کا مقصد بھی چھ ہفتوں پر مشتمل اس پروگرام کے ذریعے طلبہ و طالبات میں مثبت سوچ کا بیج بونا ہے۔

اگر طلبہ و طالبات میں مثبت سوچ کے بیج کو بونے میں کامیاب ہو جائے تو وہ اپنے آپ اس سوچ کی دیکھ بھال کرتے ہوئے سوچ سے تقدیر کے سفر کو کامیابی سے مکمل کر لیے گے۔ ٹی سی ایف رہبر پروگرام نے سوچ سے تقدیر تک کا سفر کے نام سے کامیابی حاصل کرنے کا ایک جامع نظام دیا ہے جو تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یکساں مفید ہے اور طلبہ و طالبات کے لیے یہ جامع نظام ناگزیر ہے۔ رہبر پروگرام کی تقلید کرتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ اس پروگرام جیسے پروگرام اپنے اداروں میں بھی ترتیب دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات اس پروگرام کے فوائد سے استفادہ کر سکے۔

ہم سب اپنے تقدیر کو حاصل کرنا چاہتے ہے مگر کم ہی افراد اس میں کامیاب ہو پاتے ہے اس کی بنیادی طور کئی وجوہات ہوتی ہے ٹی سی ایف رہبر پروگرام ایک منظم نظام کے ذریعے طلبہ و طالبات کو سمجھاتا ہے کہ سوچ سے تقدیر تک کے سفر کے دوران کن کن مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ یعنی سوچ ہم اپنے ماحول اور اپنے پسندیدہ شخصیات سے لیتے ہے۔ مثلاً ایک بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنا چاہتا ہے تو کیا صرف سوچ لینے سے وہ ڈاکٹر بن سکتا ہے نہیں بلکہ اسے درست معلومات حاصل کر کہ اس پر عمل کرنا ہو گا تو کیا ایک بار عمل کرنے سے سوچ سے تقدیر تک کا سفر مکمل ہو جائے گا نہیں بالکل اس عمل کو عادت بنانی ہو گی پھر عادت سے کردار اور کئی سالوں کے مستقل کردار اور ایمان و اعتماد کے ذریعے سوچ سے تقدیر تک کا سفر مکمل کر لیے گا۔

سوچ سے تقدیر تک کا سفر کچھ یوں ترتیب دیا گیا ہے سوچ، عمل، عادت، کردار، تقدیر۔ ٹی سی ایف اسکولز سال میں کئی مرتبہ رہبر پروگرام کا انعقاد کراتی ہے رہبر پروگرام میں شرکت کرنے کے خواہشمند رضا کار اور ٹی سی ایف اسکولز کو عطیات دینے اور ٹی سے ایف اسکولز کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ٹی سی ایف کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

Facebook Comments HS