ماسکو کے نابغۂ روزگار کتے


جون 2010 میں ماسکو آمد کے بعد جانداروں کی جن دو اقسام کی از حد کمی محسوس ہوئی وہ بچے اور پرندے ہیں۔ ماسکو درختوں میں ڈوبا ہوا شہر ہے۔ شہر کے عین وسط میں بھی درختوں کی بہتات ہے کیونکہ قانون کے مطابق شہر کا تیسرا حصہ درختوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔

لیکن عجیب بات ہے کہ پرندے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سب سے زیادہ تو کبوتر ہیں اور چڑیاں بھی۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ شہر میں چرند اور دوسرے جانوروں کی بہتات ہے۔

جانوروں کی کمی کو کتوں کی بہتات سے پورا کیا گیا ہے۔ بلاتخصیص جنس روسی زن و مرد کتے پالنے کے شوقین ہیں۔ یہاں میں نے بقول پطرس بخاری ایسے کتے بھی دیکھے جو بہت ہی کتے تھے اور ایسے بھی جو نہ ہونے کے برابر کتے تھے یعنی بالترتیب گدھے اور طوطے کی جسامت کے کتے۔ بہت دفع جی چاہا کہ مالکان سے دریافت کروں کہ انہوں نے یہ کتے کہاں سے اور کتنے میں بنوائے ہیں مگر روسی زبان سے ناآشنا ہونے کی و جہ سے یہ آرزو دل ہی میں رہی۔

ان کتوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بھونکتے نہیں۔ ایک دفع چشتی پرودی (وسطی ماسکو میں ایک تاریخی تالاب) پر ایک کتا بھونک پڑا۔ یہ ایک ایسا انہونا واقع تھا کہ وہاں سیر کے لیے آنے والے لوگوں نے یوں مجمع لگا لیا جیسے ہمارے ہاں عموماً مداریوں کے گرد لگ جاتا ہے۔ کتے کی مالکہ یوں شرمندہ شرمندہ لوگوں سے کتے کی اس ناخلفی پر معذرت خواہ تھیں جیسے کتے کی مناسب تربیت نہ کر کے ان سے بہت بڑا گناہ سر زد ہو گیا ہو۔

پطرس نے اپنے شہرہ آفاق مضمون میں اس ممکنہ خدشے کا اظہار کیا تھا کہ جانے کب ایک کتا بھونکنا بند اور کاٹنا شروع کر دے۔ تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ جب یہ کتے بھونکنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے تو کاٹنے کے بدرجہ اتم کٹھن مرحلے سے کیا خاک گزریں گے! ۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہاں کے کتوں کے اس تہذیبی ارتقا پر ان کی تعریف و توصیف کی جائے کہ انہیں مطعون کیا جائے۔ ہمارے ہاں کے مروجہ نظریات کے بموجب تو ان کتوں کی مذمت کی جانی چاہیے کہ بھونکنے اور کاٹنے کی صلاحیت نہ رکھنے پر تو کتے کا مقصد حیات ہی فوت ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ آفرینش ہی سمجھ نہیں آتی۔

ایک بار اپنے فلیٹ کو جانے والی لفٹ میں سوار ہونے کو تھا کہ اس میں ایک معمر خاتون اور ان کے ساتھ بلا مبالغہ ریچھ کی جسامت اور شکل و شباہت کا ایک کالے اور بھورے رنگ کے درمیان کے کسی رنگ کا کتا دیکھا۔ لفٹ یوں بھی بہت چھوٹی ہے اور مجھے جانا بھی تیسری منزل تک ہی ہوتا ہے چنانچہ میں نے فوری طور پر لفٹ میں سوار نہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر اسی دوران اس کتے، جس کے آغاز اور اختتام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، انتہائی غیر کتیانہ مگر بے حد نرم پخ پخ، چخ چخ یا تخ تخ کے درمیان کی کسی آواز میں مجھے مخاطب کیا۔

ماضی میں اس مخلوق کے ساتھ تلخ تجربات کی روشنی میں غیر ارادی طور پر میں لفٹ کے دروازے سے کئی قدم دور ہو گیا۔ مگر خاتون نے روسی تہذیب و اخلاق کے مظاہرے کی جیسے قسم کھا رکھی تھی اور یوں بھی میرا یہ عمل اس کے کتے کے عمومی اخلاقی رویے کے بارے میں غلط تاثر اور غیر حقیقی غلط فہمیوں کو بھی جنم دے سکتا تھا۔

چنانچہ اس نے انتہائی مہذبانہ لب و لہجے میں مجھے بہ زبان روسی مطلع کیا کہ کتے کا رویہ اور زبان جارحانہ نہیں مفاہمانہ بلکہ دوستانہ تھی اور اس کی حرکات و سکنات اور انداز نشست و برخاست سے اس کی صریحاً تصدیق ہوتی تھی سو میرا رویہ بھی مثبت، غیر متعصبانہ بلکہ دوستانہ ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ خاتون کی ساری گفتگو (جس کا ایک لفظ بھی مجھے سمجھ نہیں آیا) کا یہ لب لباب میں نے ان کے چہرے کے تاثرات، آواز کے زیر و بم اور ملتجیانہ کھڑے ہونے کے انداز سے اخذ کیا ہے اسے کسی بھی طور لفظی یا حقیقی ترجمہ تصور نہ کیا جائے۔

خاتون کے اس لفٹ میں سوار ہونے کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچنے میں حق بجانب تھا کہ میں کسی نہ کسی درجے میں ان کا ہمسایہ تھا اور ہمسائے کے حقوق تو مسلمہ ہیں اور ہمسائے کی ناراضگی کئی طرح کے خطرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ میں نے دل کڑا کر کے لفٹ میں سوار ہونے کا ارادہ کر لیا۔ اس مرحلے پر مذکورہ کتے کے مناسب طرز عمل نے میری ڈھارس بندھائی اور مجھے محتاط انداز میں لفٹ میں سوار ہونے پر آمادہ کیا۔ اس سے خاتون کا چہرہ کھل اٹھا اور فاتحانہ انداز سے چمکنے لگا۔

انہوں نے بڑے پیار سے اپنے کتے کو دیکھا اور اس کے اخلاق عالیہ اور اوصاف حمیدہ پر اس کی پیٹھ تھپک کر داد دی۔ مجھے یقین نہیں کہ اتنے بڑے بالوں اور اتنی موٹی کھال تک معمر خاتون کے منحنی اور استخوانی ہاتھوں کی داد پہنچ پائی مگر اس کے بعد کتے کے پر سکون انداز نشست سے میری جان میں جان آئی پھر بھی لفٹ کے دروازے کے کھلنے پر میری برق رفتاری خاتون کے لیے بھی اچنبھے کی بات تھی!

اتنے جسیم مگر حلیم کتے، جس کے اول و آخر کا پتہ لگانا اس کے لمبے بالوں کی دبیز تہہ نیز دم اور تھوتھنی کی مکمل عدم موجودگی کی وجہ سے بہت مشکل تھا، سے سرسری تعارف کے چند روز بعد میرا سامنا ایک ایسے کتے سے ہو گیا جو اپنی مالکہ کے لمبے اوور کوٹ کی بیرونی اوپر والی جیب ( جس میں کچھ دانشور اپنے قیمتی قلم لگا رکھتے ہیں ) سے سر نکال کر گھما گھما کر اور بالکل گلہری جیسی آنکھیں مٹکا مٹکا کر بیرونی دنیا کے عمیق مشاہدے میں مصروف تھا۔

اس کتے کو کتا کہنا یا تو کتے کی توہین ہے یا گلہری کی! اس کی جسامت تو ایک اچھے اور کھاتے پیتے ماحول میں پلی بڑھی خوش حال اور صاحب جمال گلہری جتنی تھی مگر دیگر اہم خصوصیات میں یہ کتا (اگر یہ کتا ہی تھا) گلہری سے بہت مختلف تھا۔ اس نے اپنے سر اور دونوں نسبتاً لمبے لمبے کانوں پر بالوں کے سنورے سنورے گچھے سجا رکھے تھے۔ اس کی آنکھیں ہو بہو الو کی آنکھوں جیسی بڑی بڑی اور زرد تھیں جبکہ پتلی دم بالکل آخر میں جا کر اچانک بالوں کے ایک بڑے گول اور چوکور کے درمیان کی کسی جیومیٹریکل شکل کے گولے میں تبدیل ہو گئی تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ سر اور کانوں کے بالوں کی رنگت یکسر مختلف یعنی بالترتیب بھوری اور سفید تھی۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کتے کے بنوانے پر مالکن نے کثیر رقم خرچ کی ہو گی کہ ایسے عجوبوں پر فطرت تو اپنا وقت صرف نہیں کرتی۔ اس اور اس طرح کے مختلف رنگ و نسل، اشکال اور نواح کے بے شمار کتے دیکھنے کے بعد میری رگ اشتیاق پھڑکی اور میں نے روس میں کتوں پر تحقیق و جستجو کی ٹھانی۔ موضوع دقیع، وسیع اور پیچیدہ تھا جبکہ وقت مختصر، وسائل محدود، اور جان ناتواں! پاکستانی نفسیات کے عین مطابق کارزار تحقیق میں بھی کوئی مختصر راستہ (شارٹ کٹ) ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کی اور یوں ایک دن کتوں کی نمائش (ڈاگ شو) میں جا نکلا لیکن ٹھہریے، مجھے اس کتے کا اجمالی جائزہ لینے دیجیے جو ابھی ابھی ایک خاتون پتراشی پرادی (تالاب) پر چہل قدمی کرانے لائی ہیں۔

اس کی ٹانگیں باقی جسم سے کافی لمبی ہیں اور چہرہ ہو بہو چمگادڑ کے چہرے سے ملتا جلتا ہے (ویسے آپ کو معلوم ہو گا کہ چمگادڑ کا چہرہ ہو بہو کتے کے چہرے سے ملتا ہے ہاں مگر کتے کا چہرہ معیاری (standard) ہونا چاہیے۔ کیونکہ چمگادڑ کا چہرہ ہمیشہ معیاری ہوتا ہے ) ، جبکہ گردن مقابلتاً طویل مگر مہین ہے۔ ٹانگوں کا رنگ سفید، چہرہ بھورا، آنکھیں نیلی اور مزاج میں تیزی و طراری۔ مگر میں نے آپ کو اس کے حجم کے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں!

اس کتے کی طوالت محتاط اندازے کے مطابق دم کی نوک سے چونچ کے سرے تک 6۔ انچ سے زیادہ ہر گز نہیں اونچائی یقیناً 5۔ انچ ہے۔ وزن حتمی طور پر آدھا کلو ہے۔ ( حال ہی میں خوراک نہ کھانے کی صورت میں، بصورت دیگر اس میں چند اونس کا اضافہ قرین قیاس ہے ) ۔ معلوم نہیں اس کتے کا یہ منفرد تناسب حاصل کرنے کے لیے جینیات کے ماہرین کی کتنی نسلوں نے شبانہ روز محنت سے اپنی زندگی اجیرن کی ہو گی۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ آپ میری باتوں کو غلو پر محمول کریں گے، میں نے اپنی بات کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر، کتے کی مالکن کی پیشگی اجازت سے قریبی تصاویر لے لی ہیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت پیش بھی کی جا سکے۔

صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ماسکو کے نابغۂ روزگار کتے

  • 25/02/2022 at 11:54 شام
    Permalink

    میری نگارش کی اشاعت پر ہم سب کا تہہ دل سے ممنون ہوں قاریین کرام کی آرا کا انتظار رہے گا

    • 26/02/2022 at 3:44 صبح
      Permalink

      A good read, Sir

Comments are closed.