کیا اسلام میں آمریت کی حمایت موجود ہے


مفلوک الحال کا مذہب روٹی اور مفلس کی اخلاقیات کا قبلہ چند سکے ہوتے ہیں۔ کمزور کی تکریم کے راستے میں موجود اس کی ضروریات اور تقاضوں کے بھا ری پتھر اس کی کامیابی کے ہر امکان کو مسدود کیے ہوتے ہیں۔ اور اسی نظام میں موجود غاصب طبقہ جو کہ محدود اقلیت میں ہوتا ہے وہ اس نظام کا بلا واسطہ مسند نشین اور وارث ہوتا ہے۔ حوص اقتدار کا مذہب، حصول اقتدار اور استحصال کی اخلاقیات حق تلفی ہوتی ہے۔

اسلام کے تصور حیات میں کوئی جھول نہیں۔ اس میں کسی بھی قسم کے استحصال کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ لیکن آج سب سے زیادہ استحصال انہی اسلامی ریاستوں میں روا ہے۔ ان کی اکثریت کمزور، محکوم، اور محروم طبقات پر مشتمل ہے اور اقلیت بندوق کے زور پر وسائل پر قابض ہے۔ آج بیشتر اسلامی ریاستوں میں مطلق آمریت، بادشاہت، مطلق بادشاہت، ہائبرڈ یا نامکمل آمریت/جمہوریت کے نظام قائم ہیں جو کہ سراسر اسلام کے تصور حکومت کے منا فی اور متصادم نظام ہیں۔ اسلام، نظام حکومت کے لئے کامل جمہوریت کا تصور پیش کرتا ہے۔ صرف اور صرف کامل جمہوریت۔

اللہ قرآن میں فرماتا ہے ”امر ہم شوریٰ بینھم“ ۔ ﴿الشوریٰ 2 4 : 83 ﴾ ”اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔ “ اسلام کے قانون سیاست میں نظم حکومت کی اساس یہی آیت ہے۔ بلدیاتی مسائل، قومی و صوبائی امور، سیاسی و معاشرتی احکام، قانون سازی کے ضوابط، اختیارات کا سلب و تفویض، امرا کا عزل و نصب، اجتماعی زندگی کے لیے دین کی تعبیر، غرض نظام ریاست کے سارے معاملات اس آیت میں بیان کیے گئے قاعدے سے متعلق ہوں گے۔ ریاست کا کوئی شعبہ اس کے دائرے سے باہر اور کوئی حصہ اس کے اثرات سے خالی نہ ہو گا۔ سورۂ شوریٰ میں تین لفظوں کا یہ جملہ اپنے اندر ایک جہان معنی سمیٹے ہوئے ہے۔

رسول اللہ کے دنیا سے وصال کے قریب تیس سال بعد ملوکیت اور آمریت نے بزور شمشیر خدا کے دیے ہوئے نظام حکومت کے متبادل نظام کی حیثیت بنا لی۔ شروع کی مسلط کردہ خونریز جنگوں میں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا یا گیا۔ دور یزید میں حصول اقتدار اور شخصی آمریت کے لیے نواسہ رسول کو ان کے خاندان، عورتوں اور بچوں سمیت، دشت کربل میں بھوکا اور پیاسا ذبح کر دیا گیا۔ بیت اللہ یعنی مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کی گئی اور بیت اللہ کی حدود کے اندر مسلمانوں کا خون ناحق، بے دریغ بہایا گیا۔

بیت اللہ کی عمارت پر پتھر برسائے گئے۔ غلاف کعبہ کو پھاڑا اور جلا یا گیا۔ مسجد نبوی کے اندر، منبر رسول اور روضہ رسول کے احاطے میں گھوڑے باندھے گئے۔ یزیدی فوج کے گھوڑے مسجد نبوی کے اندر لید اور پیشاب کرتے رہے اور کم و بیش تین روز تک مسجد نبوی میں اذان اور نماز ادا نہ کی جا سکی۔ سات سو سے ایک ہزار صحابہ کو مدینہ النبی میں شہید کر دیا گیا اور صحابیات کی عصمت دری کی گئی۔ یزید نے اپنی فوج کے لیے مدینہ النبی کی تمام عورتوں کی عصمت اور استحصال، تین دن کے لیے جائز قرار دیا۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں، کیا خدا کا نظام کسی فاسق، فاجر اور استحصال کی حمایت کر سکتا ہے۔

ذاتی اور ناجائز اقتدار کے لیے اس بربریت اور درندگی کے بعد حاصل شدہ یہ شخصی بادشاہت بعد میں خاندانی بادشاہتوں میں تبدیل ہو گئی اور آمریت کے تازیانوں کے سامنے خدا کے نظام کو سرنگوں کر دیا گیا۔ غصب شدہ اقتدار کی طاقت، جبر، استحصال اور بربریت کے آگے حق پرست طبقے نے مزاحمت کی تو صفحہ ہستی سے مٹا دیے گے۔ حق اور سچ کو مکمل دبا دیا گیا اور باطل، ناجائز اور خود ساختہ نظام حکومت کو اسلام کی تعبیر میں بدل دیا گیا۔

خدا کے دین میں تحریف اور اس کی من پسند تعبیر کو بندوق کے زور پر مذہب کی تعبیر قرار دینا ہی آمریت ہے۔ اور اس میں صرف جبر، طاقت، دھونس دھاندلی نہیں چلی، ریاست کے وسائل اور خزانوں کے منہ بھی کھول دے گئے۔ مذہب کی از سر نو تشریحات کروائی گئیں اور ناجائز کو جائز کرنے کے لئے بے تحاشا وسائل، طاقت اور محنت لگی۔ تاریخ انسانی میں اس واردات کے بعد اسی وجہ سے آمریت کا استعارہ یزید ہے۔ آمریت خدا کے نظام کے مقابل نظام ہوتا ہے۔ یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جس کو اگر سمجھ لیا جائے تو بیڑا پار لگ سکتا ہے ورنہ ذلت اور پا تال میں پڑے تو صدیاں بیت چکی ہیں۔ جن قوموں نے اس راز کو پا لیا ہے وہ آج سرخرو اور کامران ہیں۔

قا بل افسوس امر یہ ہے کہ نوع انسانی، یزید کی مذمت پر متفق ہے، اس کے دیے ہوئے نظام اور فلسفے کے باطل ہونے پر بھی یکسو ہے پر اپنے اپنے دور کے آمر کی پہچان اور مذمت میں لیت و لعل اور گو مگو کی کیفیت کا شکار رہی ہے۔ اور یہی تضاد زوال کا مرکزی نکتہ ہے۔ آج کے دور کے آمر جو خدا کے نظام کے سامنے اپنا نظام نافذ کیے ہوئے ہیں۔ اور اس انتظام کی حفاظت کے لیے بندوق کی طاقت اور ریاست کے وسائل کے زور پر موقع پرست سیاست دانوں، نظام عدل میں موجود مصلحت کوش قاضیوں، ابلاغ میں موجود زر خرید صحافتی نمائندوں اور نام نہاد مذہبی رہنماوں کو اپنے ساتھ شریک اقتدار کر رکھا ہے۔ اور نظام کے اصل وارث آج تک اپنے حق کے حصول کے لیے راندہ درگاہ محرومی اور محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Facebook Comments HS

محمد سجاد آہیر xxx

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 38 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer