کیا آپ ایک حقیقی Slumdog Millionaire کو جانتے ہیں؟
کچھ سال پہلے ایک بھارتی فلم Slumdog Millionaire نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور کئی بین الاقوامی انعامات حاصل کیے لیکن یہ ایک فرضی کہانی تھی۔ یہ تحریر آپ کو ایک حقیقی Slumdog Millionaire کے بارے میں بتائے گی جس نے غربت و افلاس کی دیواروں کو پار کر کے نہ صرف کروڑوں روپے کمائے بلکہ زندگی کے کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں۔
یوں تو ہر زندگی ایک کہانی ہوتی ہے لیکن اس شخص کی زندگی کئی کہانیوں پہ مشتمل ہے اور کئی ملکوں پہ محیط ہے۔ یہ افغانستان میں پیدا ہوئے، ان کے باپ پختون اور ماں پاکستانی بلوچ تھیں۔ ان کے گھر میں جو بچے پیدا ہوتے تھے وہ آٹھ سال کی عمر سے پہلے مر جاتے۔ ماں باپ نے سوچا کہ یہ کوئی علاقے کی بدنصیبی تھی اسی لئے کابل سے کوچ کر گئے اور ممبئی میں سکونت اختیار کی۔ لیکن وسائل کی کمی اور تنگ دستی کے باعث شہر کے سب سے خراب علاقے کماٹی پورہ میں رہنے لگ گئے جو جرائم اور اور جسم فروشی کے کاروبار کا اڈہ تھا جہاں کئی عورتیں اپنے نام سے نہیں بلکہ نمبر سے پہچانی جاتی تھیں۔ لیکن یہ سب مصیبتیں شاید اس بچے کے لیے کافی نہیں تھیں، تین سال کی عمر میں ماں باپ کے درمیان طلاق ہو گئی۔
ان سخت حالات میں اس ننھی جان نے پرورش پائی۔ ایک تو انتہائی مفلسی اور دوسرے اتنی کم عمری میں باپ سے جدائی۔ یہ بچہ اسکول جانے لگا تو اسکول کے اندر جانے کے بجائے باہر بیٹھ جاتا کیونکہ پاؤں جوتوں یا چپلی سے محروم تھے۔ یہ ننگ دھڑنگ بچہ باہر بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کی حرکات و سکنات کو دیکھتا اور ان کی باتیں بڑے غور سے سنتا۔ پھر وہ ان لوگوں کی روزمرہ کی زندگی پہ مکالمے بناتا۔ بھوک کی شدت اس بچے کو ایک فیکٹری میں لے گئی جہاں وہ تین روپے روز کمانے لگا۔
اس کی ماں اقبال بیگم نے ہمت نہ ہاری اور بیٹے کو سمجھایا کہ اگر وہ نہیں پڑھے گا تو ساری عمر تین روپے کے چکر میں گزار دے گا۔ بچے نے اس چیلنج کو قبول کر لیا اور مفلسی کی حالت میں ماں کی انتہائی قلیل آمدنی میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا یہاں تک کہ انجینئیرنگ میں ڈگری حاصل کر لی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک کالج میں استاد کی حیثیت سے ملازمت شروع کر دی اور یوں ہفتے میں تین دن بھوکے سونے والے بچے نے غربت کی لکیر کو پھلانگ لیا
ان کو اداکاری کا بہت شوق تھا، ایک تھیٹر کمپنی میں اداکاری کے جوہر دکھانے کا موقع مل گیا۔ ایک دفعہ دلیپ کمار نے ان کی اداکاری کو دیکھا تو بہت سراہا اور انہیں فلم میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح ان کی زندگی کا بالی وڈ کا سفر شروع ہو گیا جہاں انہوں نے بحیثیت اداکاری، مکالمہ نگاری اور کہانی سازی میں نام پیدا کیا اور تین سو سے زیادہ فلموں میں کام کر کے بے انتہا دولت کمائی اور شہرت حاصل کی۔ ان کو دو بار بہترین مکالمہ نگاری اور ایک بار بہترین مزاحیہ اداکار کے ایوارڈز بھی ملے۔
لیکن ان کی زندگی کا یہ آٰخری چیلنج نہیں تھا!
ان کے باپ مولانا عبدالرحمان خان ایک مذہبی اسکالر تھے اور انہوں نے نیدرلینڈز میں ایک اسلامی اور عربی زبان کی تعلیمات کے ادارے کو قائم کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا وہ ان کے مشن کو سنبھالے بلکہ اس کو آگے بڑھائے تاکہ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں دونوں کو آسان زبان میں اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کا موقع ملے۔ انہوں نے جواباً کہا کہ میں تو مذہب یا عربی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تو میں کیسے اسلامی تعلیمات سے منسلک ہو سکتا ہوں۔
باپ نے برجستہ جواب دیا کہ تم بالی وڈ میں میں کام کرنے سے پہلے فلم کی کہانی یا فلم میں اداکاری کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ باپ کی بات بیٹے کے دل پہ لگی اور انہوں نے زندگی میں ایک اور چیلنج کو قبول کر لیا۔ بالی وڈ کے کامیاب اور مشہور زمانہ شخص نے دوبارہ پڑھائی شروع کر دی۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات اور عربی ادب کے ایم اے کے پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ماہرین کی ایک ٹیم تیار کی، نرسری سے لے کر ایم اے کے نصاب کے لئے کورسز تیار کیے اور دوبئی اور کینیڈا میں ’کے کے انسٹیٹوٹ آف عریبک لنگویج اور اسلامک اسٹڈیز‘ کے ادارے قائم کیے ۔ اس طرح وہ اس تیسرے چیلنج میں بھی سرخرو ہو گئے۔
لیکن کیا یہ ان کی زندگی کا آخری چیلنج تھا؟
ان کو اردو ارب سے بے انتہا لگاؤ تھا اور وہ مرزا غالب کے مداح اور پھر غالب شناس بھی بن گئے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے بیٹے نے پوچھا کہ شعر و شاعری تو اپنی جگہ لیکن غالب کام کیا کرتے تھے۔ ان کو یہ سوال بہت کٹھن لگا کہ کس طرح وہ دنیا کو بتائیں کہ غالب نے اپنی شاعری کے ذریعے وہ کام کیا کہ جو دوسرا کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ اس سوچ میں مبتلا ہو گئے کہ کس طرح عوام الناس اور خاص طور پر نئی نسل کو غالب کے افکار اور دور بینی سے روشناس کرایا جائے۔ یہ معمہ بھی ان کے لئے ایک چیلنج بن گیا۔ انہوں نے دنیا کے کئی ملکوں میں ادبی پروگرام منظم کیے اور غالب کے کلام کی تشریح کو عام لوگوں تک پہنچایا۔
یہ ایک ایسے مثالی انسان تھے جنہوں نے ہر چیلنج کو قبول کر کے اس میں کامیابی حاصل کی، مفلسی کی انتہا کے دوران تعلیم حاصل کی اور یوں غربت سے چھٹکارا پایا۔ فلمی صنعت میں قدم رکھا تو اس میں اپنی محنت اور مہارت کے ذریعے دنیا کو اپنے نام کی پہچان کروا دی۔ امارت اور شہرت کے باوجود مذہبی تعلیم سے جڑ گئے اور دین کی خدمت کا بیڑہ اٹھا لیا۔ پھر غالب کے کلام کو خاص و عام تک مقبول کرنے کی مہم شروع کردی۔
قادر خان بائیس اکتوبر سنہ انیس سو سینتیس میں کابل، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ تقریباً تمام عمر بھارت میں گزاری اور آخری عرصے میں کینیڈا اپنے بیٹے کے پاس آ گئے جہاں سنہ دو ہزار اٹھارہ کے آخری دن وہ ٹورونٹو میں انتقال کر گئے۔ بھارت میں ان کے کام کو بہت سراہا گیا اور ان کو سرکار کی طرف سے سنہ دو ہزار انیس میں پدما شری کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔




