زندگی دھوپ تم گھنا سایہ (افسانہ)۔
ارے مہرو کہاں مر گئی؟ مہرو النساء کی بڑی بھابھی نے بہت غصے سے آواز لگائی، تو مہرو قریب قریب بھاگتی ہوئی ان کے سامنے حاضر ہو گئی وہ باقاعدگی سے ہانپ رہی تھی اور اس کی کیفیت سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ کوئی مشقت والا کام کر رہی تھی۔ مہرو پر نگاہ پڑتے ہی بھابھی کا پارہ اور چڑھ گیا، نہایت حقارت اور تلخی سے کہا، کیا بہری ہو گئی ہو؟ سنتی نہیں منا رو رو کر ہلکان ہو رہا ہے مگر تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
مہرو نے ڈرتے ڈرتے کہا بھابھی اتنا بڑا گھر ہے اس کونے سے اس کونے تک جھاڑو لگانے میں مصروف تھی، میں گھر کے دوسرے حصے میں تھی منے کی آواز نہ سن سکی۔ اس جواب پر بھابھی کا پارہ اور چڑھ گیا، کہنے لگیں کہ اچھا، ہمارا کھاتی ہو اور ہم ہی پر غراتی ہو، کمال وقت آ گیا ہے، مہرو نے بہت کوشش کی کہ صفائی پیش کر سکے مگر بھابھی نے تو جیسے اپنے کان ہی بند کر رکھے تھے، جھٹ سے اپنے شوہر اور مہرو کے بڑے بھائی کو آواز لگائی، اجی سنتے ہو، ذرا یہاں آئیں، دیکھیں ذرا اپنی بہن کے کرتوت، کس طرح مجھ سے زبانیں چلا رہی ہے۔
بھائی صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی تیوریوں پر پہلے ہی سے بل تھے انہوں نے شاید ان دونوں کی گفتگو یا تو سن لی تھی یا پھر مہرو کو دیکھ کر پارہ چڑھ گیا تھا۔ پوچھنے لگے ہاں بھئی کیا معاملہ ہے کیوں شور مچا ہوا ہے گھر میں، تو ان کی بیگم نے کہا کہ میں نے ذرا منے کو سنبھالنے کا کیا کہہ دیا آپ کی بہن مجھ پر احسان جتا رہی ہیں کہ کتنا بڑا گھر ہے اور وہ یہاں نوکرانیوں کی طرح کتنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ بھائی نے نہایت ہی ناگواری سے مہرو کی جانب دیکھا اور کہا، کیوں بھئی تمہیں کچھ زیادہ ہی روٹیاں لگ گئی ہیں کیوں اپنی بھابھی سے بلاوجہ زبان درازی کر رہی ہو، چین سے رہنا نہیں آتا تو اپنا کوئی اور بندوبست کرو، میں تنگ آ گیا ہوں اس روز روز چخ چخ سے۔
مہرو گو کہ روزانہ ہی کسی نہ کسی کے ہاتھوں ایسی تذلیل شکار ہو ہو کر پک چکی تھی مگر پھر بھی آج اس کا دل بھر آیا، وہ روہانسی ہو گئی، بھرائی ہوئی آواز میں بولی کہ بھائی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا نہ میں نے کہا ہے۔ تو بھابھی جھٹ سے بول پڑیں لو سنو اب تو آپ کے سامنے ہی مجھے جھوٹا اور مکار کہہ رہی ہے، اور مہرو حیرت سے منہ دیکھتی رہ گئی، بھائی نے نہایت تلخی سے مہرو کو جھڑک دیا کہ تمہیں تمیز آنی چاہیے، تم کوئی بچی نہیں ہو، ساتھ ساتھ وہ تمام احسانات بھی گنوانے لگے کہ کس طرح وہ اس مشکل دور میں اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کا حق مار کر اس کی اور اس کے بچے کی کفالت کرتے ہیں اور ان کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ کم از کم اسے اس مہربانی کا تو لحاظ کرنا چاہیے اور گھر میں فساد پھیلانے سے بچنا چاہیے۔
یہ سب کچھ سننے کے بعد مہرو کی زبان کو تو جیسے تالا لگ گیا تھا، بس آنسوؤں کی لڑیاں تھیں جو اس کی آنکھوں سے نکل نکل کر رخساروں پر بہہ رہی تھیں۔ جس پر اس کے بھائی نہایت طنزیہ انداز میں بولے کہ بند کرو یہ مگرمچھ کے آنسو بہانا، ایسے کام ہی کیوں کرتی ہو کہ باتیں سننا پڑیں، نکلو یہاں سے اور کچھ کام بھی کیا کرو۔
یہ روز کا معمول تھا، مہرو اس کرب و درد کے دریا سے روز گزرتی تھی، غیر تو غیر اپنے بھی ستم ڈھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ دراصل مہرو النساء پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور سب سے زیادہ حسین و جمیل بھی تھی، اس کی شادی بارہ سال پہلے والدین نے ایک رشتہ دار لڑکے سے کردی تھی، رشتہ دار ہونے کی وجہ سے زیادہ چھان بین نہیں کی گئی تھی، لڑکا نشہ کا عادی تھا اور مستقل کام دھندا بھی نہیں کرتا تھا، شکل سے بھی واجبی تھا مگر غصہ ہر وقت ناک پر دھرا رہتا تھا۔
مہرو کو جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ایک نفسیاتی مریض کے ساتھ بیاہ دی گئی ہے، جلد ہی وہ مار پیٹ پر اتر آیا وہ اپنی شخصی کمزوریوں کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار تھا اور اس کا بدلہ وہ مہرو کو ذلیل کر کے یا مار پیٹ کر لیا کرتا تھا، مہرو نے پہلے اپنے ساس سسر سے شکایت کی تو انہوں نے ڈپٹ کر چپ کرا دیا کہ لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں، ٹھیک ہو جائے گا، جب تشدد بہت بڑھا تو اس نے اپنے والدین اور بڑے بھائیوں کو صورت حال سے آگاہ کیا، والدین نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ بیٹا گزارہ تو کرنا ہی پڑے گا۔
اس طرح دو سال گزر گئے ایک بیٹا بھی ہو گیا، کچھ تبدیلی نہیں آئی بلکہ غصہ اور تشدد بڑھتا ہی چلا گیا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ وہ مہرو کو مار مار کہ جب تھک گیا تو اس نے طلاق دیدی اور بچے سمیت اپنے گھر سے نکال دیا۔ وہ روتی پیٹتی والدین کے گھر آ گئی، اب مجبوراً والدین کو اسے گھر میں رکھنا پڑا، اس طرح وہ ایک جہنم سے نکل کر دوسری جہنم میں آ گری، وہاں ایک ظلم کرتا تھا جبکہ یہاں ظالموں کی فوج کی فوج موجود تھی۔
یوں مہرو گزشتہ دس سال سے اپنے سگوں کے ہاتھوں ذلت و خفت بھری زندگی گزارنے پر مجبور تھی، سب اسے مفت خوری کا طعنہ دیتے تھے حالانکہ وہ دن بھر گھر کے مختلف کاموں جیسے بھائیوں کے بچوں کو سنبھالنے، کپڑے دھونے کھانا پکانے اور جھاڑو پونچھے میں مصروف رہتی تھی۔ ان تمام مشقتوں کے باوجود مہرو بہترین سلائی کرنا جانتی تھی اور راتوں کو جاگ جاگ کر لوگوں کے کپڑے سیا کرتی تھی جس سے کچھ آمدنی ہوجاتی تھی جن سے وہ اپنی اور اپنے بیٹے کی ضروریات پوری کیا کرتی تھی۔ مگر اس کے باوجود وہ مفت خور اور خاندان پر بوجھ تھی، اس کے بیٹے کو بھی اسکول جانے کی اجازت نہ تھی کہ خرچہ کون اٹھائے گا۔
حالانکہ اس نے بارہا کہا کہ فیس وہ خود بھر دیا کرے گی مگر بچے کو بھی داخلہ نہیں لینے دیا جاتا تھا کہ ایک مفت کا نوکر ہاتھ سے چلا جائے گا۔ اب دونوں ماں بیٹے کا یہ حال تھا کہ کسی بہن بھائی کے ہاں کوئی تقریب ہو اور کام کرنے والوں کی ضرورت ہو، ان دونوں کو بلا لیا جاتا تھا اور پھر جی بھر کے ان کو بلا تکلف ہر کام کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، معاوضے میں گالیاں جھڑکیاں طعنے تشنہ اور کبھی کبھی مار پیٹ بھی کر لی جاتی تھی۔
یہ گزشتہ دس سال سے ماں بیٹے کی زندگی کا معمول تھا۔ مہرو جب کبھی ان حالات سے بہت زیادہ ملول و پریشان ہوجاتی تھی تو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے قریب میں رہنے والی اپنی ایک دور کی رشتہ دار نفیسہ کے ہاں جا کر بیٹھ جاتی تھی اور ان سے بات کر کے اپنا غم غلط کر لیا کرتی تھی۔ آج بھی وہ اسی حالت سے دوچار تھی اور نفیسہ بھابھی کے پاس بیٹھی اپنوں کے ظلم و ستم کا تذکرہ کر رہی تھی کہ نفیسہ کے شوہر ہاشم گھر میں داخل ہوئے، کیوں کہ دونوں خواتین صحن میں ہی بیٹھی تھیں تو سامنا ہونا بالکل لازمی تھا، ہاشم سلام کر کے ان کے پاس ہی چلا آیا رسمی علیک سلیک کے بعد وہ گھر کے اندر کی جانب بڑھ گیا، وہ دونوں خواتین باتیں کرتی رہیں، ہاشم مہرو کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا وہ اپنے کمرے میں جاکر بھی بے چین ہی رہا اور مسلسل مہرو کے بارے میں سوچتا رہا، وہ مہرو کے حالات سے واقف تو تھا مگر حالات کی سنگینی کا علم نہیں رکھتا تھا، مگر آج مہرو کے بہتے آنسو اور اداس چہرہ جیسے ہاشم کے دل میں اتر گیا تھا۔
جب تک وہ فریش ہو کر باہر آیا مہرو جا چکی تھی۔ چائے کی ٹیبل سجنے لگی اس وقت گھر میں صرف ہاشم اور نفیسہ ہی تھے، چائے کے دوران خود نفیسہ نے ہی تذکرہ چھیڑا کہ بیچاری مہرو بڑی مظلوم ہے، اس پر اس کے بہن بھائی اتنا ظلم و زیادتی کرتے ہیں کہ کوئی غیروں کے ساتھ بھی نہیں کرتا ہو گا۔ تو ہاشم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو نفیسہ نے ساری روداد کہہ سنائی، ہاشم نے اس ہی لمحہ یہ طے کر لیا کہ وہ ضرور مہرو کی مدد کرے گا۔ وہ اس کوشش میں لگ گیا کہ کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر اس کا نکاح کرا سکے، مگر ناکام رہا، آخر اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود ہی مہرو سے نکاح کرلوں، یہ سوچ کر اس نے نفیسہ سے اپنے ارادے کا تذکرہ کیا، پہلے تو وہ سٹپٹا گئی بعد میں وہ اس بات بر راضی ہو گئی کہ ہاشم مہرو کو الگ گھر لے کر رکھے گا۔
اس طرح آپس میں ایک مفاہمتی تعلق بھی بن گیا۔ اب ہاشم نے مہرو کو کال کر کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا، جسے سن کر وہ بھی ہکا بکا رہ گئی، اور اس نے انکار کر دیا، ہاشم نے کہا کہ آپ مجھ سے ملو میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں اور یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ تم مجھے انکار کیوں کر رہی ہو۔ مہرو مان گئی جب ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ جو بھی رشتہ آتا ہے میرے بیٹے کو قبول نہیں کرتا، میں جو یہ تکالیف اٹھا رہی ہوں وہ صرف اپنے بیٹے کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ آپ کی بیوی نفیسہ میری غمگسار و ہمدرد ہے وہ یہ نہ سوچیں کہ میں نے ان کے حق پر ہی ڈاکا ڈال دیا، جس پر ہاشم نے اطمینان سے جواب دیا کہ بھئی تمہارے دونوں خدشات کے تسلی بخش جوابات ہیں میرے پاس، پہلا یہ کہ میں تمہیں تمہارے بیٹے کے ساتھ قبول کروں گا، دوئم یہ کہ میں نے اپنی بیوی کو اعتماد میں لے لیا ہے وہ راضی ہے میں تمہیں الگ گھر میں رکھوں گا۔ یہ سن کر مہرو ایک دم خاموش ہو گئی مگر خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا کہ مجھے منظور ہے آپ ابا سے بات کر لیں۔
ہاشم نے جب ان کے والد سے رشتہ کی بات کی تو وہ بھی پہلے تو پریشان ہو گئے، مگر بیٹی کا گھر بس جانے کی خواہش میں راضی ہو گئے، وہ ہاشم کو بہت اچھی طرح جانتے تھے وہ ایک نہایت ہی خوش اطوار انسان تھا، خاندان میں سب اس کی عزت کرتے تھے اچھا کھاتا کماتا تھا۔ انہوں نے ہاشم سے کہا کہ کچھ دن کا دقت دیں میں بچوں سے مشورہ کرلوں تو آپ کو جواب دیتا ہوں، ہاشم ٹھیک ہے کہہ کر لوٹ آیا۔ جب یہ معاملہ مہرو کے دیگر بہن بھائیوں کے سامنے آیا تو وہ ایک دم ہتھے سے اکھڑ گئے، مفت کی نوکرانی کے چھن جانے کے نقصان سے سب ہی پریشان ہو گئے اور لگے مخالفت کرنے۔
جو خود مہرو نے بھی سن لی، اس نے یہ بات ہاشم کو بتا دی کہ والد تو راضی ہیں مگر بہن بھائی نہیں مان رہے کہ اب شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے، سب کچھ بیٹھے بٹھائے مل تو رہا، اب کیا تکلیف ہے مہرو کو۔ ہاشم نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر یہ نہیں مانتے تو ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی تم کو پیٹھ نہیں دکھاؤں گا، یہ سن کر مہرو نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے تو ہاشم سے ہی نکاح کرنا ہے اگر بہن بھائی شریک نہ ہوئے تو ہم کورٹ میرج کر لیں گے، آخر سب کو با دل ناخواستہ ماننا پڑا اور یوں مہرو بیاہ کر ہاشم کے گھر آ گئی، ہاشم نے مہرو کو وہ مان و عزت دی جس کا شاید اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا، اور کوشش کی کہ پورا خاندان مہرو کو اس حیثیت میں ہی تسلیم کرے۔
اس کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مہرو کے بیٹے کو اسکول میں داخل کرایا، ہاشم کی کوشش رہتی تھی کہ مہرو کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ جس پر وہ اکثر رو دیتی تھی کہ کیا ایسے بھی شوہر ہوتے ہیں، جو بیویوں میں انصاف بھی کرتے ہیں اور پیار بھی۔ جس عزت و احترام کا کبھی مہرو نے سوچا بھی نہ تھا آج پورا خاندان ہاشم کی وجہ سے اس کا بہت احترام کرنے لگا اور وہ بہن بھائی جو اسے زرخرید لونڈی سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے آج اس کی خوشحالی و آسودگی پر نہ صرف پریشان تھے بلکہ اسے عزت دینے پر بھی مجبور تھے۔


