بدلتا عالمی منظر نامہ اور اس کے پاکستان پر اثرات


روس اور یوکرین تنازعے کی صورتحال پیدا ہونے کے اثرات پوری دنیا خصوصاً ایشیا پر زیادہ شدت کے ساتھ اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اور دنیا ایک بار پھر ایک عبوری دور کے بعد کثیر القطبی یعنی ملٹی پولر، نظام کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے، ان حالات میں تازہ تنازعے کے حاشیے اور اس کے نزدیک کے ممالک، بشمول پاکستان, پر گہرے سیاسی اور اقتصادی مضمرات اور اثرات مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اور حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ واقعات اور حالات کے بہاؤ میں ایک بے جان لکڑی کی طرح بہتے چلے جانے کے بجائے گہری سوچ بچار اور دور رس مضمرات کو نظر میں رکھتے ہوئے، ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو نہ صرف ہمارے بہتر اور خوشحال مستقبل کی ضامن ہو, بلکہ اس میں ہمارے ماضی کے زیاں کا بھی کسی حد تک مداوا موجود ہو۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ماضی کے مربی امریکہ کے ہی اشارے پر ہمیں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی معاشی اداروں کی طرف سے ایسے اقتصادی جال میں جکڑ دیا گیا ہے، اور ہم پر بیرونی قرضوں کا اتنا بوجھ لاد دیا گیا ہے، جس کا حجم ہماری اقتصادی سکت اور صلاحیت سے بھی بڑھ چکا ہے، اور کوئی ایسا روایتی طریقہ یا راہ موجود نہیں، جو ہمیں اس اقتصادی جال، جس میں اب ہماری مملکت اس کے عوام کا سانس رکنے تک کی نوبت آ چکی ہے، سے نجات دلوا سکے۔

لہذا اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک نئی اور غیر روایتی حکمت عملی تیار اور اختیار کی جائے، جو موجودہ اقتصادی اور صنعتی جمود، گھٹن اور مجبوری سے ملک و قوم کو نجات دلوا سکے، ہمارے پاس توانائی کے حصول کے لیے متبادل راستے موجود ہیں، اور ماضی میں پاک ایران پائپ لائن، اس طرح تاجکستان پاکستان پائپ لائن توانائی کے سستے اور وافر حصول کے ایک بہتر متبادل کے طور پر تیار کئیے گئے تھے، جن کے دور رس مثبت اثرات ہماری معیشت پر مرتب ہوتے، لیکن امریکہ نے مختلف سطح پر دباؤ بڑھا کر اب تک ان منصوبوں پر پیش رفت نہیں ہونے دی، لیکن اپنے ملک کے مفاد کے بارے میں فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیے تھا،لیکن پاکستان میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایسی سیاسی افراتفری پیدا کی گئی کہ دور رس ترقی کے لیے کسی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی، سی پیک کا شاندار منصوبہ اس میں تیزی سے پیش رفت اور اس کے خلاف امریکہ اور بھارت کی علانیہ مخالفت, اور پھر بدقسمتی سے اس منصوبے کی موجودہ بنا دی گئی حالت، چشم کشاء ہے، اور اس بہت بڑے اقتصادی سبوتاژ کے لیے براہ راست کوئی بیرونی فورس نہیں بلکہ بدقسمتی سے ہم خود ہی اور ہم میں سے ہی استعمال ہوئے، ساتھ ہی کچھ کردار بھارت کی شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر کی طرف فوجی جارحیت کی دھمکیوں، جن میں اسے امریکہ کی آشیر واد بھی حاصل رہی, کا بھی دیکھنے میں آیا بلکہ محتاط اور بغور تجزیے سے وزیر اعظم صاحب اور دیگر قیادت کے دورہ امریکہ کے دوران ہونے والی مسئلہ کشمیر پر غیر علانیہ ”مفاہمت“ کے پس منظر میں ان دھمکیوں اور خطرات کا احساس بھی ممکنہ طور پر موجود تھا۔

بھارت اور چین بدستور ایران سے تیل خرید رہے ہیں، ان پر تو اقوام متحدہ نے کوئی پابندی نہیں لگائی, اس کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنے مختلف اداروں میں تعینات شدہ امریکی ایجنٹوں اور ان کے نمائندوں کو فوری طور پر فارغ کر کے کنٹرولڈ معیشت کی طرف جانا چاہیے، جیسا کہ چین کا ماڈل ہے، اب دنیا پھر سے بائی پولر ہو رہی ہے، روس، چین اور ایران سے مل کر ایک اقتصادی اور سٹریٹیجک گروپ بنانے پر مجبور ہے، تاکہ افغانستان کے ساتھ ملنے والی ریاستوں میں افراتفری پیدا کرنے کے امریکی منصوبے جو وہ افغان طالبان کے ذریعے عمل میں لانا چاہتا ہے، اس کا راستہ روکے، اگر پاکستان بھی روس اور چین کے ساتھ اس گروپ میں شامل ہو جاتا ہے، تو بھارت اور افغانستان میں امریکی کردار آسانی سے بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔

امریکیوں کے ہاتھوں سسک سسک کر مرنے کی اقتصادی موت سے بچنے کے لیے کہیں تو کھڑا ہونا پڑے گا،اب تک مکمل تعاون اور فرماں برداری کے باوجود امریکہ کا رویہ مسلسل ایک دشمن کا سا ہے، لہذا اب ہمیں مزید جھوٹی یقین دہانیوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک بڑا زرعی ملک ہے، اور ہم پابندیوں کے باوجود بھوکے نہیں مریں گے۔ ایران اگر ایسی شدید بلکہ غیر انسانی عالمی پابندیوں کے باوجود اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہے تو ہم تو ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں روس کی ٹیکنالوجی اور ایرانی تیل کے ساتھ چین کا اقتصادی تعاون ہمیں ہر مشکل سے باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں پچھلے ستر سال میں امریکہ نے ایک طبقہ ایسا پیدا کیا ہے جن کے ذاتی مفادات امریکہ کے ساتھ ”بری طرح“ منسلک ہو چکے ہیں، پاکستان میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تعینات رہنے یا ہونے کے باوجود ان حضرات کے خاندان، کاروبار، جائیدادیں اور ہر قسم کے اثاثے امریکہ میں موجود ہیں،لہذا پاکستان میں پالیسی شفٹ جس کے بغیر اب کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں بچا، میں،ان حضرات کو اپنی موت نظر آتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں بھی امریکہ کی دیرینہ سرمایہ کاری کے گہرے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں، اور ماضی کا ریکارڈ شاہد ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں نے امریکہ کے ”بازو شمشیر زن“ کا کردار ادا کیا ہے، چاہے اس کے لیے موساد کے انسٹرکٹرز سے تربیت ہی کیوں نہ حاصل کرنی پڑے، یہ حضرات اسلام میں ”ذاتی ملکیت“ کی متنازعہ اجازت کی آڑ میں یہودی اور امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں ہی بیٹھے دکھائی دیے ہیں۔

یہ وہی امریکہ ہے جس نے ہمارے اس سے، اپنے ملکی مفادات کے خلاف ہر قسم کے غیر قانونی، بلکہ غیر اخلاقی و غیر انسانی قسم کے غیر مشروط تعاون کے باوجود, ہم پر دو دہائیوں سے مختلف فوجی و دیگر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں، ہم امریکہ کے گروپ میں شامل کسی ملک سے یا خود امریکہ سے قیمتاً بھی کسی قسم کا کوئی جدید ہتھیار نہیں خرید سکتے، ہمیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر پابندی ہے، امریکی اور یورپ کی بہت سی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ اداروں میں بہت سے جدید اور حساس شعبوں میں ہمارے طلباء کے علم اور تربیت حاصل کرنے پر پابندی ہے۔

ہمارے مسئلہ کشمیر پر مسلسل ہمیں امریکہ کی طرف سے بھارت کی کھلی حمایت کا سامنا ہے، اور بھارت کے ساتھ امریکی اقتصادی و فوجی تعاون براہ راست ہماری سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، حالیہ دنوں میں بلوچستان میں ہماری دفاعی فورسز پر ہوئے چند بڑے حملوں میں کھرا براہ افغانستان, امریکہ تک ہی جاتا دکھائی دے رہا ہے، ان تمام حلوں میں جدید ترین امریکی ہتھیار اور مواصلاتی ذرائع ہی استعمال ہوئے ہیں، نیز طالبان رجیم کی طرف سے پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر مختلف حیلوں بہانوں سے پیدا کردہ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، لہذا اب وقت آ کہ مزید اقتصادی اور سٹریٹیجک مار کھاتے رہنے کے بجائے ہم ایک واضح اور مثبت پالیسی چینج کی طرف جائیں، تاکہ پاکستان کو بھی ایک آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت سے، عزت و وقار کے ساتھ جینے کے مواقع میسر آ سکیں۔

Facebook Comments HS