کرکٹر شاھنواز ڈاھانی کا نام بگاڑنے والا اردو میڈیا
کرکٹر شاھنواز دھانی، دھانی نہیں بلکہ۔ ڈا۔ ہا۔ نی ہے۔
شاھنوازسندھی زبان بولنے والا کوئی پہلا کرکٹر ہے جو کرکٹ میں اس مقام پر پہنچا ہے۔ اس لیے سندھیوں میں جذباتی مقبولیت پا رہا ہے جو ایک فطری عمل ہے۔ شاھنواز کا نام اردو میڈیا میں ہر اینکر، تبصرہ نگار غلط پکار رہا ہے۔ اس کی تصحیح ضروری ہے۔ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے، سندھ کے اس نوجوان کا نام شاہنواز ہے۔ اور ذات / کاسٹ / سر نیم / فیملی نیم جو بہی آپ کہیں وہ ”ڈاھانی“ ہے نہ کہ ”دہانی“ ۔ اصل میں یہ سندھی زبان میں لفظ ”ڏاھاڻی“ ہے۔ اردو میں ”ڏ“ لفظ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو ”ڈ“ لکھا، پڑھا اور پکارا جاتا ہے۔ اسی طرح ”ڻ“ لفظ بھی اردو میں نہیں اس لیے اس کا نعم ال بدل ”ن“ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دو الفاظ ہمارے ملک میں صرف سندھی اور سرائیکی زبان میں ہیں۔ دوسری زبانوں میں سے یہ تلفظ نکلنا ممکن نہیں۔ اس لئے سندھ سے تعلق رکھنے والے اس فقیر منش نوجوان کرکٹر کو یا شاہنواز پکارا جانا چاہیے یا پہر ”ڈاہانی“ نہ کہ ”دہانی”۔
شاھنواز ڈاھانی اس وقت شاہد آفریدی کے ان جملوں پر پورے سندھ میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ وہ میدان میں ٹک ٹاکر کی طرح پوز کرتا ہے اس کو اور محنت کرنی چاہیے۔ شاہد آفریدی کے مشورے کے آدھے حصے سے میں متفق ہوں کہ اس کو اور محنت کرنا چاہیے باقی دوسری بات کہ وہ ٹک ٹاکر کی طرح پوز کرتا ہے بالکل درست نہیں۔ گراؤنڈ میں وکٹ لینے کے بعد اس کا خوش ہونے کا انداز، ہاتھ جوڑنا، خوش ہونا انتہائی نیچرل اور شاندار ہے۔
وہ طبیعتاً ایسا ہی فقیر منش انسان ہے اور سندھیوں کے روایتی انداز میں، انکساری سے جھکتا ہے۔ ساتھی پلیئرز کی خدمت کرتا ہے۔ خوش ہوتا ہے تو دل سے بھرپور انداز میں خوش ہوتا ہے ہاتھ جوڑتا ہے۔
ہنستا ہے، سب کو خوش کرتا ہے۔ ویسے بہی کھیل کا میدان کوئی جنگ کا میدان نہیں ہے۔ اسپورٹس مین اسپرٹ اسی کا نام ہے کہ کھیل سے سب کو لطف اندوز کرو۔ نہ کہ ہر وقت منہ پہ بارہ بجائے جائیں۔ اسپورٹس مین کو اسی طرح ہونا چاہیے جیسے شاھنواز ڈاھانی ہے۔ نہ غرور نہ تکبر۔ شاہد آفریدی کو تو ہنسنا تو دور کی بات میں نے کبھی مسکراتے ہوئے بہی نہیں دیکھا۔



