روس کا یوکرین پر حملہ یا وہاں کے لوگوں کی زندگیوں پر


آج شام ایسے ہی چینل سرچ کرتے ہوئے نیوز چینل پر روک دیا کہ یوکرین اور روس کے حالات معلوم ہو سکیں۔ یوکرین اور روس کا تو کہی ذکر نہیں تھا البتہ اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایک دوسرے سے انتخابات پر جھگڑتے نظر آ رہے تھے۔ دوسرا چینل دیکھا تو اس میں بھی کچھ یہی حال تھا۔ یہاں تک کہ امن اور سلامتی کا درس دینے والے حضرات کی طرف سے کسی بیان اور قدم کی امید میں انٹرنیٹ کا سہارا لیا تو وہاں بھی خاموشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ طاقت کے اس کھیل میں انسانیت کیوں مر جاتی ہے؟ ، لوگوں کے ضمیر کیوں سو جاتے ہیں؟ کیا ایسا ایک بھی ملک نہیں جو جنگ بندی کرا سکے؟

کیا نیٹو اور ہمارے اسلامی ملک صرف خاموش تماشا دیکھتے رہیں گے؟ مشکل وقت میں یوکرین کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے؟ میں نہیں جانتی کہ وہ لوگ مسلمان ہیں یا نہیں مجھے تو صرف اتنا یاد ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ یوکرین معاشی طور پر کتنا مضبوط ہے مجھے علم نہیں ہے میں تو یوکرین کے لوگوں کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتی ہوں جو وہ غلامی کی زندگی گزارنے کے بعد برداشت کریں گے۔

ہم جب تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں تو مسلمانوں پر ظلم و ستم کے قصے پڑھنے کو ملتے ہیں آج اس دنیا میں آباد مسلمان انسانوں پر ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ کیا 313 مسلمانوں نے حق و باطل کی جنگ نہیں لڑی تھیں؟ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کو جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہی حالات اب یوکرین پر آنے والے ہیں ایک انسان اپنے آپ پر گزری ہوئی تکلیف میں دوسروں کو کیسے دیکھ سکتا ہے؟

ہماری نظریں دوسری ممالک پر کیوں ہیں جبکہ ہم خود دنیا کی طاقت ور فوج رکھتے ہیں۔ کیا کریں گے پھر ہم ایسی فوج کا جو دوسروں پر ظلم اور حق تلفی کو روک ہی نہیں سکتی یا کل کو ایوانوں، پارلیمنٹ یا مختلف اجلاس میں فلسطین۔ عراق، شام، کشمیر کے ساتھ ایک اور ملک میں جاری ہوئے مظالم کے خلاف مذمت کرتے نظر آئیں گے، ملک میں جلسے جلوس نکلیں گے، دو چار تقریریں کریں گے اللہ اللہ خیر صلا۔

یوکرین کے بچے بھی ویسے ہی ہیں جیسے شام کے ہیں۔ فلسطین کے لوگوں کی طرح یوکرین کے لوگ بھی اسی خدا کے مخلوق ہیں۔ آزادی کا حق یوکرینی لوگوں کو بھی اتنا ہی ہے جتنا کشمیریوں کو ہے۔ خدارا اٹھ جائیں مظلوموں کے لئے آواز بلند کریں۔

روس کو یوکرین پر حملہ اور جنگ بند کر دینی چاہیے تاکہ ایک اور ملک فلسطین نا بنے، کشمیر کی طرح ایک اور ملک غلام نا ہو، شام اور عراق کے طرح ایک اور ملک کے بڑے، بچے انصاف اور ظلم کی دہائیاں نا دیں۔ وہاں پر بھی انسان ہیں، کہاں جائیں گے؟ کیا وہ لوگ کسی اور ملک میں مہاجرین کہلائے جائیں گے؟ کیا اپنا گھر بار، اپنا وطن چھوڑ کر وہ لوگ کسی اور جگہ پھر سے زندگی شروع کر سکیں گے؟ ایک اور ملک کے بچے فلسطینی اور کشمیری بچوں کی طرح معجزے کا انتظار کرتے نظر آئیں گے؟

Facebook Comments HS