بیچلر اور ہم چار دوست


نہ ہم دوست بنتے، نا ہی بیچلر آف کمپیوٹر سائنس کی اچھی خاصی ڈگری سے بھاگتے اور نا ہی فیل ہوتے، اور اگر فیل نا ہوتے تو نوبت آج بی اے تک نہ آتی۔

آپ اندازہ لگائیں، کہ ہم اس قدر تذبذب کا شکار تھے۔ کہ یہ فیصلہ کرتے کرتے اتنی دیر لگا دی کہ داخلہ دہری فیس کے ساتھ بھیجنا پڑا۔ غالباً آپ کے ذہنوں میں سوالات کے انبار ہوں گے کہ ہم چور، نہیں نہیں چار دوست کون ہیں؟ ہم بی اے سے پہلے کون سی ایسی ڈگری کر رہے تھے؟ اور آخر نوبت بی اے تک کیسے پہنچی؟

تو ہم چار دوست اصل میں الگ الگ کالجوں سے بارہویں کا امتحان پاس کر کے ایک ہی جگہ کالج نما یونیورسٹی میں ملے۔ جہاں ہم سب چار سالہ کمپیوٹر سائنس کی نام نہاد ڈگری حاصل کرنے کے لئے موجود تھے۔ ایک ہی کلاس کے ہم چار دوستوں کو دوستی بنانے میں سال تو لگ گیا تھا لیکن اس کے بعد ہم نے مل کر اپنے کئی سال برباد کر لینے کا عہد کر لیا تھا۔

پہلے پہل ہم کالج میں معمول کے مطابق آتے اور پھر اکثر اوقات غائب ہونا شروع ہوئے اور پھر ایسے غائب ہوئے کہ تین سمیسٹر کی کل ملا کر سات آٹھ سپلیاں ہمیں پکڑ کر کالج لائیں۔ اور ہمیں سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ مضمون جو فیل ہوئے ہیں انہیں پاس کیسے کرنا ہے؟ اور تعداد کے اندر بھی یہ سات سے آٹھ ہیں۔ تب جا کر ہم میں سے ایک نے ہمیں آخرت کے ڈر سے اتنا ڈرایا کہ ہم نے مخلوط یعنی کو ایجوکیشن میں مزید پڑھنے کی بجائے، پرائیویٹ طور پر بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم اتنا ڈر گئے تھے، کہ ایسا لگنے لگ پڑا تھا کہ ہم اس ڈگری کے لیے بنے ہی نہیں ہیں ہم تو بی اے کے لئے بنے ہیں۔ جس میں فتنہ صنف نازک شامل نہیں تھا۔ یہی وہ نوبت بنی جس کی وجہ سے ہم نے ریگولر ڈگری کو پل صراط سے گرا کر جہنم واصل کیا۔ اور جنت کی تلاش میں بی اے کرنے نکل کھڑے ہوئے۔

اب اصل امتحان ہمارے سامنے بی اے نہیں تھا، بلکہ گھر والوں کو کیا بتایا جائے؟ یہ اصل امتحان تھا۔ امتحان یہ تھا کہ ایک جگہ ہم تقریباً تین سال سے پڑھ رہے تھے، گھر والوں کو ”سب ٹھیک ہے“ کی سالانہ رپورٹ جا رہی تھی۔ اس لئے اب گھر والوں کو ایسا کیا بتایا جائے کہ اچانک یہ مسئلہ بنا ہے، جس کی وجہ سے ہم نے کالج چھوڑ دیا ہے۔

ہمیں ڈر تھا، کہ ہمارے ساتھ ڈنگروں والا سلوک کیا جائے گا۔ پریشان نا ہوں، پنجابی زبان میں جانور کو ڈنگر کہتے ہیں۔

میرے ساتھ ایک اور دوست نے سوچا، کہ گھر بتایا ہی نہ جائے، یہ چال چلنے والا ’پوڈری‘ تھا۔ یہ صفاتی نام ہے، وہ اس لئے کہ یہ پوڈر کی طرح سستا اور اہم ہے۔ یہ دور اور دراز کے ایک گاؤں سے اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر آیا تھا۔ اور تین سال سے گھر والوں کے پیسے اور حالات دونوں برباد کر رہا تھا۔ گھر والے یہی سمجھ رہے تھے۔ کہ بچہ ہزاروں، لاکھوں روپے کی ڈگری کر رہا ہے۔ لیکن انہیں کیا معلوم کہ بچہ یہاں بیمہ کمپنی میں پھنس چکا تھا جس سے نکلنے کے لئے اسے بی اے کی شرعی ڈگری کرنا پڑ رہی تھی۔ اور وہ ایسا سمجھ بھی رہے تھے۔ کیونکہ ایک کالج میں چھ ماہ کی فیس بیس ہزار کے لگ بھگ تھی، اور ہم نے تقریباً تین سال کا عرصہ کالج میں گزارا ہو گا، تو آپ خود ہی حساب لگا لیں کہ چوہوں نے کتنے روپے کی گندم کھائی ہو گی۔ انہی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ہمارا موقف یہ تھا کہ جس کالج میں گھر والوں نے داخل کرایا ہے، وہیں روز آنے جانے کی اداکاری کی جائے۔ اس سے ان کے پیسوں کی روح کو سکون بھی ملے گا، اور ہم گناہ کے مرتکب بھی نہیں ٹھہریں گے۔ اور جلد ہی بی اے پاس کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت گھر والوں کو بتا دیں گے کہ ہم نے آپ کا منہ کالا ہونے سے بچا لیا ہے۔

دوسرے دو دوستوں نے تھوڑا الگ فیصلہ کیا کہ گھر بتا دیا جائے۔ ان میں ایک شرابی تھا، اور دوسرا چرسی تھا۔ یہ بھی صفاتی نام ہیں۔ ایک شراب کی طرح شیریں مزے دار، اور گھر سے اوازار تھا۔ اس کی اپنے والد سے نہیں بن پاتی تھی۔ خاموش تھا کیونکہ والد سرکاری ملازم تھا اور روٹی، کپڑا اور مکان بھی اسی نے دے رکھا تھا۔ لیکن تین سال سے یہ بھی ڈگری کی مد میں والد کا پیسہ اوپر سے کمائے گئے، خزانے کی طرح بہا رہا تھا۔ اور ڈگری اسے بھگا رہی تھی۔

اور دوسرا چرس کی طرح قیمتی اور نایاب تھا۔ یہ بھی گھر سے تنگ تھا، پیسوں کو ہاتھ کی لکیریں کہتا تھا۔ فرنچ کٹ داڑھی رکھی ہوئی تھی، چاند کی طرح اور عورتوں کی طرح چہرے پر ہلکے رنگ کے دھبے بنے ہوئے تھے، کیونکہ موصوف کو الرجی تھی، سارا دن سڑکوں کے ناپ لیتے ہوئے دن گزار دیتا تھا۔ یہ چرس کے معاملے میں بڑا حساس تھا، کیونکہ وہ عورت کی عزت کی طرح تھوڑی سے بھی ہو تو قیمتی ہوتی ہے، اسی صفت کی وجہ سے اسے چرسی کہا جا رہا ہے۔

لیکن تین سالوں میں یہ ڈگری کے لیے اتنا حساس ہوا ہو۔ یہ کم از کم دیکھا تو نہیں گیا، اور یہی ایک وہ کردار تھا، جس نے ہمیں آخرت میں مخلوط تعلیمی نظام میں پڑھنے کے درد ناک عذاب سے بچایا اور ہمیں نصیحت کی کہ تم کیوں خود کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ چھوڑ سب کچھ اور بی اے کر کے یونیورسٹی داخلہ لیتے ہیں۔ کم از کم وہاں بندا لڑکی کے ساتھ ڈیٹ تو مار ہی سکتا ہے۔

سب نے چرسی کے کہے پر لبیک کہا، اور بی اے کی ڈگری کے لیے تیاریوں کا آغاز ہو چکا تھا، اداکاری اور پڑھائی، اپنے اپنے انداز میں ہو رہی تھی۔ مل بیٹھ کر خوب باتیں کرتے تھے، عیاشیوں میں مصروف رہتے تھے۔ ہم پھانسی کے قیدی کی طرح پھانسی کا انتظار کیے بغیر اپنی الگ ہی رومانوی دنیا میں جی رہے تھے، ہاسٹل سے گھر اور گھر سے کالج اور پھر کالج سے ہاسٹل تک کا یہ مستطیل چکر چل نکلا تھا۔ کسی کو کانوں کان یہ خبر نہ ہوئی کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟

تیاری کو ڈیٹ شیٹ آنے تک مؤخر کر دیا تھا۔ سوچا دیکھی جائے گی۔ اسی دیکھنے دیکھنے کے دوران ڈیٹ شیٹ آئی اور ڈیٹ کی طرح گزر گئی۔ ہمیشہ ڈیٹ کے بعد ہی تو امتحان شروع ہوتا ہے۔ اور امتحان آ گئے تھے، جس قسم کی تیاری ہم نے کر کے رکھی ہوئی تھی۔ وہ جہاں رکھی ہوئی تھی، وہیں ہی رکھی رہ گئی اور بغیر تیاری کے امتحان دیتے رہے۔

ہمیں خود پر بھروسا تھا۔ اور پھر اسی بھروسے کے ساتھ ہم نتائج کا انتظار کرنے لگے۔ پوڈری اپنے گاؤں واپس چلا گیا تھا۔ کیونکہ کالج سے چھٹیاں ہو چکی تھی۔ میں بھی اپنے گھر چلا گیا تھا۔ شرابی اور چرسی نے تو ویسے بھی گھر بتا رکھا تھا کہ وہ کالج چھوڑ چکے ہیں۔ امتحان ختم ہونے کے بعد محسوس ہو رہا تھا، کہ ہماری اداکاری پکڑی جائے گی لیکن ایسا ہوا نہیں، کیونکہ چھٹیاں ختم کر کے ہم واپس کالج کے بہانے شہر پہنچ چکے تھے۔ پوڈری ایک جگہ نوکری تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا، اور میں روز گھر سے کالج کے مقررہ وقت پر پوڈری کے ہاسٹل کے لئے نکل جاتا اور چھٹی کے وقت پر ہاسٹل سے گھر نکل جاتا۔

شرابی اور چرسی بھی کبھی کبھار ہاسٹل آ جاتے تھے، یا ہم دونوں ان کی طرف نکل جاتے تھے۔ خبروں سے معلوم ہو رہا تھا کہ اب نتیجہ بھی نکلنے والا تھا۔ جس کے بعد پتا نہیں کس کس کی نکلنے والی تھی؟ قسمت، یا پھر کمیٹی جو امتحانی مرکز میں ڈال کر آئے تھے۔ ( جاری ہے )

Facebook Comments HS