قدرت نواز شریف پر مہربان
قدرت ہمیشہ اس شخص پر مہربان ہوتی ہے جس سے وہ کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دلوانا چاہتی ہے۔ قدرت کچھ لوگوں کو کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینے کا چانس دیتی ہے جس کے لئے وہ کئی سالوں سے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں لیکن شاید ان کی قسمت میں نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھوں کو بڑا کام پاء تکمیل تک پہنچ سکے۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو قدرت نے ذوالفقار بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور بینظیر بھٹو کو بڑے موقعے دیے کہ وہ کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے سکیں جس کی بدولت ان کو آنے والی کئی نسلیں یاد رکھ سکیں لیکن شاید قدرت نے اس کارنامے کو سرانجام دینے کے لئے نواز شریف کا انتخاب پہلے سے ہی کر لیا تھا۔
نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو قدرت نے ان کو ایٹمی دھماکے کرنے کا موقعہ دیا ”گو کہ اس پروجیکٹ پر کام جنرل ضیاء الحق، ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ادوار میں بھی جاری رہا“ ۔ نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے پوری دنیا میں پاکستان کو ایک الگ پہچان دلوائی اور آنے والی نسلوں کے لئے باعث فخر بن گئے۔ وہ الگ بات ہے ان کو ایٹمی دھماکے کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے واجپائی کو مینار پاکستان بلانے کا صلہ ان کا تختہ الٹنے، قید کرنے اور جلاوطنی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
جنرل مشرف کی آمریت کے خاتمے کے بعد قدرت ایک بار پھر نواز شریف پر مہربان ہوئی اور ان کو پھر موقعہ ملا۔ نواز شریف نے اس بار پاکستان کو پاک چین اقتصادی راہداری کا تحفہ دیا یقیناً اس سے آنے والی کئی نسلیں مستفید بھی ہوں گئیں اور ہمیشہ ان کو یاد بھی رکھیں گئیں۔ فاٹا کا مسئلہ قیام پاکستان کے بعد سے چلا آ رہا تھا۔ فاٹا کا انضمام بھی شاید نواز شریف کے ہاتھوں سر انجام پانا تھا گو کہ ان کے قریبی اتحادی مولانا فضل الرحمن اس انضمام سے ناخوش تھے۔
لیکن نواز شریف نے ان کو بھی قائل کر لیا اور فاٹا کو قومی ادارے میں شامل کر دیا۔ حسب روایت نواز شریف کو اس کا صلہ پھر اپنے ہی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی صورت میں ملا اور ان کو تاحیات نا اہل کر دیا۔ نواز شریف کے بعد قدرت نے سمجھیں یا آرٹی ایس بٹھانے والوں نے عمران خان کو موقعہ دیا۔ شاید قدرت نے عمران خان کو پاکستانیوں کے لئے نیرو بنا کر بھیجا ہے جن کی کوشش ہے کہ ایک بار پورے پاکستان کو روم کی طرح تباہ و برباد کر کے نیا پاکستان بنایا جائے۔
شاید عمران خان کے نزدیک ابھی تک پاکستان ٹھیک سے تباہ و برباد نہیں ہوا اس لیے نیا پاکستان تعمیر کرنے کا منصوبہ تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ عمران خان کو اقتدار میں آئے چار سال ہونے والے ہیں لیکن ابھی تک نئے پاکستان کی اینٹ تک نہیں رکھی گئی جو پہلے سے اینٹیں رکھی ہوئی تھی ان کو بھی چور اکھاڑ کر باری باری غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ قدرت کا کمال دیکھیں جس نواز شریف کو مائنس کرنے کا پلان بنایا گیا آج قدرت اسی نواز شریف پر پھر مہربان ہو رہی ہے اور وہ لندن میں بیٹھے ہیں پاکستان کے اگلے وزیراعظم تک کا نام فائنل کر رہے ہیں۔
حالات و واقعات سے بخوبی انداز لگایا جا سکتا ہے کہ قدرت ایک بار پھر نواز شریف کو موقعہ دینا چاہتی ہے اور ان سے پھر کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دلوانا چاہتی ہے۔ اگر قدرت نے فیصلہ کر لیا تو ایسا کون ہے جو قدرت کے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرسکے۔ ملک اور قوم کے لئے ہمیشہ وہی لیڈر قابل تعریف ہوتا ہے جو قوم کو بلندیوں تک لے کر جائے وہ شخص کبھی لیڈ نہیں کہلوا سکتا جو ملک و قوم کو پستی کی طرف لے جائے۔


