گلگت بلتستان: عبوری صوبے کی عبوری خوشیاں!
گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ گلگت بلتستان میں اس وقت سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ گزشتہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت میں بننے والی آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے ایک ڈرافٹ تو تیار کیا لیکن بقول ان کے کچھ نامساعد حالات کے پیش نظر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ اس کے بعد مرکز میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور اس کے بعد گلگت بلتستان کے الیکشنز میں پاکستان تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اور گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے میں تگ و دو کرتی رہی۔
حالیہ دنوں اس حوالے سے پورے گلگت بلتستان میں بحث چھڑ گئی کہ پی ٹی آئی کی حکومت گلگت بلتستان کو صوبہ بنا رہی ہے، بعد ازاں یہ راز کھل گیا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی حیثیت کو اپ گریٹ کر کے عبوری صوبے کا درجہ دیا جار ہا ہے جس کے لئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں دو تین سیٹوں کے ساتھ ساتھ سینٹ میں دو تین سیٹیں دی جائیں گی جبکہ گلگت بلتستان کی موجودہ اسمبلی گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کہلائے گی، اس نئے سیٹ اپ کا اعلان 23 مارچ کو ہو گا۔ اسی دوران یہ افواہیں اڑنا شروع ہو گئی کہ ڈپٹی سپیکر نذیر ایڈوکیٹ، جاوید منوا، سہیل عباس سمیٹ چند دیگر وزراء نے اس حوالے سے اختلاف بھی کیا ہے لیکن بعد از ڈپٹی سپیکر سمیت وزراء نے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو جو بھی سیٹ اپ ملے گا اس میں عوامی حقوق کا تحفظ ہر حالت میں کریں گے۔
اس عبوری و آئینی صوبے کا اعلان ہونے کے لئے پورے 25 دن ہیں، عوامی سطح پر اس سیٹ اپ کی حمایت اور مخالفت اپنی جگہ لیکن تاریخی طور پر یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی مختلف حکومتوں نے گلگت بلتستان میں اپنے پنجے گاڑھنے کے لئے کوششیں ضرور کی ہیں ناردرن ایریاز کونسل سے لے کر گلگت بلتستان اسمبلی تک مختلف حکومتوں نے عوام کو خوبصورت وعدوں اور دعووں کے ذریعے بیوقوف بنانے کی کوششیں بھی کی ہیں لیکن ان مختلف حکومتوں کی غیر مخلصانہ حربوں کے جال میں عوام اسی وقت تو پھنس جاتے ہیں لیکن ان کو سمجھ جانے کے بعد ان کو مسترد کرنے میں وقت نہیں لگاتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے دیے گئے ”صدارتی آرڈر 2009“ کو شروع میں عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی، اس پیکیج کے اعلان کے بعد ”چیف ایگزیکٹیو“ تو ”وزیر اعلیٰ“ ضرور کہلائے لیکن اختیارات اسی طرح وزیر امور کشمیر یا سکرٹری کشمیر افیئرز کے پاس ہی رہے، بالکل اسی طرح وزیراعلیٰ، گورنر اور دیگر وزارتیں ملنے کے بعد ابتدائی دنوں میں گلگت بلتستان پاکستان کے دیگر چار صوبوں کی طرح ظاہری طور پر صوبہ ضرور نظر آنے لگا لیکن حقیقت میں اور آئینی طور پر اس نام نہاد صوبے اور اس کے نام نہاد اسمبلی کو وہی اختیارات ملیں جو اس سے پہلے کے اسمبلی کے پاس تھے یعنی اس آرڈر کے بعد سوائے نام اور عہدوں کے ناموں کی تبدیلی کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
اب آتے ہیں موجودہ آئینی عبوری صوبے کی طرف، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ اسمبلی کو صوبائی اسمبلی کا نام دینے اور قومی اسمبلی و سینٹ میں دو دو یا تین تین نشستیں ملنے سے گلگت بلتستان کے کم و بیش دو ملین عام لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟ جب پی پی پی نے صدارتی آرڈر کا اعلان کیا تو گلگت بلتستان کے کچھ سر پھرے قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کے علاوہ سب اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اب گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بن گیا ہے اب یہاں دودھ کی نہریں بہہ جائیں گے لیکن اس پیکیج کے اعلان کے دو سال بعد ہی عوام سمجھ گئے کہ یہ اسمبلی جعلی ہے اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔ اس سے پہلے کم از کم اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر مقامی لوگ کو ترجیح دی جاتی تھی لیکن اس پیکیج کے بعد تو تحصیلدار بھی پنجاب سے درآمد ہونے لگے اور ہماری زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضے ہونے لگے ایسے میں موجودہ نام نہاد آئینی عبوری صوبے سے امیدیں وابستہ رکھنا بھی فضول ہے۔
گلگت بلتستان کی حکومتی اور پاکستانی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ عبوری آئینی صوبہ بننے سے گلگت بلتستان پاکستان بن جائے گا حالانکہ ”عبوری“ کا مطلب ہی ”عارضی“ ہے یعنی گلگت بلتستان پاکستان کا عارضی صوبہ بن جائے گا اور جو دو تین ممبران قومی اسمبلی میں جائیں گے یا سینٹ میں جائیں گے وہ بھی عارضی ممبران یا عارضی سینیٹرز ہوں گے اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ون جو پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کو واضح کرتا ہے میں ترمیم نہیں ہوگی اور نہ ہی اس آرٹیکل میں پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کا ذکر ہو بلکہ گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن پہلے کی طرح ہی ”متنازعہ“ رہے گا اور اس کی سیاسی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق رائے دہی کے تحت ہی ہو گا۔
اب گلگت بلتستان کے عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام جو آئینی طور پر گلگت بلتستان کے عوام سے بہتر پاکستانی ہونے کے باوجود خوش نہیں ہیں حالانکہ ان صوبوں سے دو دو یا تین تین کے بجائے تین تین درجن ممبران سینٹ اور۔ ممبران قومی اسمبلیوں میں موجود ہیں لیکن ان کی زندگیاں روز بروز بد تر ہوتی جا رہی ہیں، مہنگائی، غربت، بے روزگاری، وسائل پر غیر قانونی قبضہ، جبری گمشدگیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، فرقہ واریت، علاقائیت جیسی بیماریوں نے ان کا جینا دوبھر کر دیا ہے ایسے میں ہمارے عوام کو چاہیے کہ وہ عبوری آئینی صوبے کی عبوری خوشیوں کو ترک کر کے ریاست سے داخلی خودمختاری یا آزاد کشمیر طرز مگر با اختیار سیٹ اپ کا مطالبہ کریں تاکہ اختیارات کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان بھی برقرار رکھ سکے، اور اپنی دھرتی، اپنے وسائل، اپنے زمینوں اور اپنے دریاؤں کی حفاظت یقینی ہو ورنہ آنے والی وقتوں میں عبوری صوبے کے بعد کسی صوبے کا ڈسٹرکٹ نہ بن جائیں۔


