انڈیا گیٹ – ہندوستانی کس وجہ سے برطانوی فوج میں بھرتی ہوتے تھے؟


انگریز کی خاطر جان دینے والے ستر ہزار ہندوستانیوں، جنہیں میں کبھی بھی احترام نہ دے سکا، کی یاد میں بنایا گیا انڈیا گیٹ

انڈیا گیٹ ان ستر ہزار ہندوستانی افراد کی یاد میں بنایا گیا ہے جنھوں نے 1914 ء سے 1921 ء تک جنگ عظیم اول اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ انگریزوں کی لڑائیوں میں سلطنت برطانیہ کے پرچم کو بلند رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔

ان ستر ہزار افراد کا تعلق ہر طرح کے قبیلے سے تھا۔ ان میں ہندو بھی تھے، سکھ بھی، مسلمان بھی اور علاقے کے اعتبار سے ان میں موجودہ کے پی کے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، یو پی، سی پی، گجرات، بنگال، کشمیر، غرض ہر علاقے کے لوگ شامل تھے۔ انگریز کی فوج میں ہندوستانی فوجیوں کی تعداد کتنی ہو گی؟ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ستر ہزار لوگ سات سال میں مارے گئے تو ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کتنے لاکھ لوگ ہوں گے جو انگریزوں کی فوج میں شامل تھے؟ یقیناً ان کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔

سلطنت برطانیہ کئی براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ برٹش انڈیا آرمی اس سلطنت کا ایک حصہ تھی۔ برطانوی سلطنت کو جہاں بھی خطرہ پیش ہوتا تھا تو برٹش انڈیا آرمی کے لوگ وہاں بھیجے جاتے تھے۔ اس آرمی نے جاپان سے افریقہ تک اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ غرض جہاں بھی تاج برطانیہ کو ضرورت ہوتی، برٹش انڈیا آرمی میں ہندوستان سے بھرتی کیے ہوئے فوجیوں کو بھیجا جاتا۔ یہ ہندوستانی سپاہیوں کی وفاداری اور کارکردگی کا ایک اہم ثبوت ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے انگریزوں کے ساتھ کسی دوسری قوم کے لوگ نہیں آئے کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ انگریزوں کی ہندوستان کی فتح میں سب سے اہم کردار مقامی لوگوں نے ہی ادا کیا۔

جب اپنے ہی میسر ہوں تو غیر کی کیا ضرورت تھی۔

ایک سوال ہمیشہ سے میرے ذہن میں رہا کہ وہ کون سی ایسی وجہ تھی کہ ہندوستان کے لوگ انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہوتے تھے اور ان کے لیے جاپان سے افریقہ تک کے جنگلوں میں جنگ کے لیے جاتے تھے۔ ان میں سے ستر ہزار افراد تو زندہ گھروں کو واپس بھی نہ آئے اور ضرورت کے وقت انھوں نے اپنے ہی ہم وطنوں پر گولیاں بھی چلائیں، حتیٰ کہ مسلمانوں کے مقدس مقام یعنی خانہ کعبہ پر بھی گولیاں چلانے سے گریز نہیں کیا۔ انگریز کے پاس کون سا ایسا گر تھا جس کی وجہ سے انھوں نے ان لوگوں کی وفاداری حاصل کی؟ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب میں بہت دیر سے ڈھونڈ رہا تھا۔

ہمارے خاندان کے ایک بزرگ صوبیدار فتح محمد بھی انگریز فوج میں رہے تھے۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ آپ انگریزوں کی فوج میں بھرتی کیوں ہوئے؟ جب کہ انگریزوں کی فوج بہت سی جگہوں پر مسلمانوں کے خلاف ہی جنگ کر رہی تھی۔ میں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پر حملے کے وقت فوج کی اکثریت مقامی لوگوں پر مشتمل تھی اور جنگ آزادی میں بھی مجاہدین کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزوں کی فوج میں مقامی لوگ ہی پیش پیش تھے تووہ کیا وجہ تھی کہ یہ لوگ اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ کرتے تھے؟ میں نے یہ بھی کہا کہ یہاں تک کہ خانہ خدا پر حملے کرنے والے انگریزوں کی فوج میں ہندوستانی مسلمان ہی شامل تھے۔

انھوں نے مجھے جو بات بتائی اس سے میں کسی حد تک تو مطمئن ہوا لیکن مکمل طور پر نہیں۔ انھوں نے یہ کہا کہ ایک تو ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا، ہندوستان میں کوئی انڈسٹری نہیں تھی، پڑھے لکھے ہم نہیں تھے اور کھیتی باڑی کے علاوہ ہمیں کوئی کام نہیں آتا تھا۔ ہماری اکثریت دیہات میں رہتی تھی۔ اتنی پیداوار بھی نہیں ہوتی تھی کہ سکھ کی زندگی گزار سکیں۔ ہم انگریزوں کی فوج کی نوکری صرف نوکری سمجھ کر کرتے تھے جس کی ہمیں بہت اچھی تنخواہ ملتی تھی۔

مر جانے یا ریٹائرڈ ہونے کی شکل پینشن ملتی تھی اور بہت سی دیگر سہولیات بھی دستیاب تھیں۔ اچھی کارکردگی پر زمین بھی انعام میں مل جاتی تھی۔ فوجی ہونے کے ناتے مقامی انتظامیہ بھی ہمارا خیال رکھتی تھی۔ باقی وہ ہم سے کیا کام لیتے تھے، یہ ان کی مرضی تھی۔ وہ ہمیں گولی چلانے کا حکم دیتے تھے اور ہم چلا دیتے تھے۔ یہ گولی کس کو لگتی تھی اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ ہم تو صرف اور صرف ایک نوکری کی خاطر انگریز کی فوج میں بھرتی ہوتے تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا کوئی شعور بھی نہیں ہوتا تھا کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔

روپو چک ظفر وال ضلع نارووال کے رہنے والے میرے انتہائی پیارے دوست جناب فیصل ٹھاکر صاحب نے مجھے اپنے گاؤں میں لگی ایک تختی کی تصویر بھیجی ہے۔ یہ تختی انگریزوں نے تقسیم ہند سے قبل لگائی تھی۔ اس پر لکھا ہوا ہے کہ اس گاؤں کے ستانوے لوگوں نے جنگ عظیم اول میں تاج برطانیہ کی سربلندی کے لیے فوج میں خدمات سر انجام دیں اور جن میں سے دو واپس اپنے گھروں کو نہ آ سکے اور وہ تاج برطانیہ کی آن بچاتے ہوئے قربان ہو گئے۔

مجھے یاد آیا کہ میں نے مری کے ایک علاقے میں ایک گاؤں کی دیوار کے اوپر ایک سلیٹ لگی ہوئی دیکھی تھی جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ اس گاؤں کے اکیس لوگوں نے سلطنت برطانیہ کی خاطر اپنی جانیں دی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کسی نان کمیشنڈ افسر کی یہ خواہش تھی کہ میرے گاؤں کے باہر توپ لگائی جائے۔ اس کی یہ خواہش پوری کی گئی اور اب کلر کہار سے چوا سیدن شاہ جاتے ہوئے راستے میں یہ گاؤں آتا ہے۔ جہاں یہ توپ نصب ہے۔ یہ بھی اپنے وفادار لوگوں کے خیال رکھنے کا ایک انداز ہے۔

ایک طرف نوکری، سہولیات، میڈل تھے اور دوسری طرف اپنے ہی ہم وطن تھے جن پر گولی چلانے کا حکم ملتا تھا۔ سب نے اپنے اپنے ظرف کے مطابق فیصلہ کیا۔ اس میں ان پڑھ لوگ بھی تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے۔ تقسیم ہند کے بعد انگریز کی فوج اور انتظامیہ کے لوگ ہی ہمارے حکمران ٹھہرے۔ پاکستان کا پہلا فوجی حکمران بھی انگریز کی فوج میں ایک افسر تھا۔ وہ ہمارے ملک کا حکمران تو بن گیا لیکن وہ اپنے سابقہ حاکموں کو کیسے بھول سکتا تھا؟ وہ ایک جگہ حاکم تھا اور دوسری طرف محکوم تھا۔ ایسے لوگوں نے حق وفاداری خوب نبھایا۔ تاریخ اس کی ہمیشہ گواہی دے گی۔

انڈیا گیٹ کا پرانا نام آل انڈیا وار میموریل تھا جس کی بنیاد 1921 ء میں رکھی گئی اور 1931 ء میں اسے مکمل کیا گیا۔ اس گیٹ کے اوپر 13,300 لوگوں کے نام کندہ ہیں۔ یہ گیٹ انگریزوں کی اپنے لوگوں کی قدردانی کا مظہر ہے جس کے بدلے مقامی لوگ اپنی وفاداریاں پیش کرتے تھے۔ یہ بھی انعام کی ایک شکل ہے جو انگریز ان لوگوں کو دیتے تھے، جو ان کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔

اگر میں اپنے بزرگ کی اور اس بات کو ملا لوں کہ وہ اپنے لوگوں کا بے حد خیال رکھتے، تو کسی حد تک مجھے میرے سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ کیوں اہل ہند اپنے ملک سے ہزاروں میل دور افریقہ کے جنگلوں میں جاکر لڑتے تھے اور اپنی جان بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔

میں انھی خیالات میں گم انڈیا گیٹ کے پاس پہنچ گیا۔ میرے سامنے انڈیا گیٹ ایک گیٹ نہیں تھا بلکہ وہ ایک تاریخ کی کتاب کے مانند تھا جو مجھے بتا رہا تھا کہ مجھے پڑھو تا کہ تم جان سکو کہ کروڑوں انسانوں پر مشتمل آزاد قوم غلام کیسے بنتی ہے؟ ایک وسیع و عریض علاقہ جس کا رقبہ بیالیس لاکھ مربع کلو میٹر سے بھی زائد تھا اس پر ایک ایسے ملک کے لوگ قابض تھے جن کے اپنے ملک کا رقبہ صرف اڑھائی لا کہ مربع کلو میٹر تھا، یعنی ہم سے اٹھارہ گنا کم۔ یاد رہے ایک گیٹ وے ٹو انڈیا ہے جو کہ ممبئی میں ہے۔ وہ گیٹ جارج پنجم کے دورہ کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ اس کا احوال میں بعد میں بیان کروں گا۔

انڈیا گیٹ تقریباً ایک سو چالیس فٹ کے قریب بلند ہے۔ کسی وقت میں اس کے نیچے سے گاڑیاں گزرتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے۔ میں بہت دیر تک گیٹ کے اوپر کندہ کیے ہوئے نام پڑھتا رہا۔ ان ناموں میں مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں سمیت سبھی کے نام تھے بلکہ ایک جگہ تو خواتین کے نام بھی تھے جس سے لگتا تھا کہ انگریز کی وفاداری میں خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔ میں اپنے ماموں رحم دین کا نام ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہ مل سکا۔ شاید جگہ کم تھی اور وفادار زیادہ تھے۔

مجھے یاد ہے کہ میرے نانا جان، اپنے جوان بیٹے کی یاد میں اکثر آنسو بہاتے تھے اور ان کی بیوہ بھی اپنے سہاگ کو یاد کرتی تھیں اور ان کی بیٹی کو تو اپنے باپ کی شکل بھی یاد نہیں تھی لیکن باپ کا ذکر تو ہر بیٹی شوق سے ہی کرتی ہے، چاہے دیکھا ہو یا نا ہو۔

اے انگریز صاحب بہادر!
یاد رہے کہ گیٹ پر نام لکھنے سے ان تمام دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا جو آپ کی وجہ سے ہم نے سہے ہیں۔

اگر آپ انڈیا گیٹ کو ایک عمارت سمجھیں تو یہ ایک لاجواب عمارت ہے۔ دنیا میں اس طرح کے بے شمار گیٹ موجود ہیں جو کسی نہ کسی کی یاد میں بنائے گئے ہیں۔ انگریزوں نے یہ گیٹ بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے وفادار سپاہیوں کو نہیں بھولتے اور ان کی قدر کرتے ہیں۔

جو کسی ایک کا وفادار ہوتا ہے اور دوسرے کا دشمن تو لازم ہوتا ہے!

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مین گیٹ سے ہٹ کر مناسب فاصلے پر ایک کنوپی بنائی گئی تھی اور اس کے نیچے برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کا مجسمہ رکھا گیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اپنے مطالبے کے حق میں انھوں نے کافی ہنگامہ کیا اور اس دوران مجسمے کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔ ہنگامہ کرنے والوں نے وہاں سبھاش چندر بھوش کا مجسمہ رکھ دیا۔ بھارتی حکومت نے بادشاہ کا مجسمہ وہاں سے ہٹا دیا۔ اب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اسے کہاں رکھا جائے۔

ایک رائے یہ تھی کہ اسے برطانیہ بھجوا دیا جائے، جس پر عمل نا ہوسکا۔ دوسرا یہ حل تجویز ہوا کہ دہلی میں واقع برطانیہ کی ایمبیسی میں رکھا جائے لیکن وہاں اتنی جگہ نہ تھی۔ بالآخر اسے آخری چارہ کار کے طور پر ایک ایسی جگہ پر رکھا گیا جہاں اور بہت سارے مجسمے رکھے ہوئے تھے، یہ ایک وسیع پارک ہے جہاں اور بھی بے شمار مجسمے پڑے ہیں۔

اسے کہتے ہیں زمانے کی ناقدری۔ جب بادشاہ تھا تب اس کے لیے سب کچھ تھا، جب وہ بادشاہ نہ رہا تو اس کے مجسمے کے لیے جگہ بھی باقی نہ رہی۔

میں اور رنبیر صاحب کافی دیر تک وہاں پر رہے۔ ہم نے مختلف ناموں کو پڑھنے ہی میں اپنا زیادہ وقت صرف کیا۔ حالانکہ اس کا کوئی فائدہ تو نہیں تھا۔ اس وقت دہلی میں یہ سب سے آسان پکنک پوائنٹ ہے جہاں آپ گزرتے ہوئے بھی رک سکتے ہیں۔ انڈیا گیٹ کے بارے میں

David A. Johnson and Nicole F. Gilbertson
نے اپنی کتاب
Commemorations of Imperial Sacrifice at Home and Abroad: British Memorials of the Great War

میں کافی تفصیل دی ہے۔ اس کتاب میں انڈیا گیٹ کے علاوہ بھی کئی اور یادگاری عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ میں نے بھی اس کتاب کے کچھ حصوں کا مطالعہ کیا ہے۔ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے 1۔

Facebook Comments HS