میں تمثال ہوں: مرتعش جنس کی داستان


ابتدا ً شیطانی، مذموم نیز مذہبی اور سماجی لحاظ سے گھٹیا لذتیت، آزاد جنسی میل ملاپ یا حریص جنسیت کو شہ دینے کہانی سمجھے جانے کے باوجود، یہ دراصل عورت کے وجود کا طاقتور ادعا ہے۔ یہ خود شناسی کاوہ عمل ہے جس کی تقویت کا سبب یہ حقیقت ہے کہ کیسے جنسی اعتبار سے میچور اور پرکشش عورت کا جسم مردوں کے لیے سحر کار ہوتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسی وسیع فضا قائم کرتی ہے جو فتح مندی یا جرم کے احساس سے مبرا ہے۔ چاہے جانے یا قبول کیے جانے کی بے لگام خواہش ہی عورت کو مردوں کی صحبت میں مسلسل رہنے سے سکون حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

جنسی بے اطمینانی یا مرد کی توجہ کی لت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام غلط جگہوں پر محبت کی تلاش ہو؛ یہ خود ادراکی کا ایک عمل ہے جو جنسی خواہش کی توسیع نہیں ہے۔ بے حیائی صرف ایک خرابی یا ذہنی خرابی کی علامت نہیں ہے۔ یہ انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں پوشیدہ گرہ ہے کیونکہ انسانی زندگی ایک ایسے رشتے پر استوار ہے جو قربت اور بے حسی کے درمیان مسلسل ڈولتا رہتا ہے۔ یکجائی، دوستی یا شادی کی شکل میں، اضطراب اور تناؤ پیدا کرتی ہے، جسے صرف تیسرے شخص کی شمولیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ شمولیت کھچاؤ کے لیے ضروری انسداد اور توازن کی قوت فراہم کرتی ہے۔ ایک رشتہ مسلسل اضطراب، عدم تحفظ، اور جذباتی قربت سے دوچار رہتا ہے، اور تھامس فوگارٹی کے مطابق، دو فریقی تعلق فطری طور جب غیر مستحکم ہوتا ہے تو ایک سہ فریقی تعلق جنم لیتا ہے۔ ایسا ساری زندگی چلتا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا، ایک شخص کس قسم کے تعلقات میں ہے۔ دو اشخاص کے رشتے میں تناؤ کے کی کیفیت میں، باہر کی مداخلت بوجھ کو ہلکا کرتی ہے۔ چارلس ڈکنز اور ڈی ایچ لارنس نے ایسے نسوانی کرداروں کے مختلف بہروپ کو پرجوش انداز میں پیش کیا ہے، خاص طور پر نینسی (اولیور ٹوئسٹ، 1838 ) اور لیڈی چیٹرلی (لیڈی چیٹرلی کا پریمی، 1928 ) ، روایت سے جڑے ہونے اور دونوں کرداروں کی وجہ سے بہت اہم ہیں۔ اردو افسانے کی مستحکم روایت کے باوجود شاید ہی کسی اردو ادیب نے تنوع کی تلاش میں پرجوش محبت کے جذبے کی دلکش داستان پیش کرنے کی کوشش کی ہو۔ یہ نامور مصنفہ عارفہ شہزاد پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تکمیل کریں جو غائب ہے۔ یہ کہانی لکھنے کا ایک منفرد انداز ہے جس کا مصنف کو پورا حق حاصل ہے!

ان کا تازہ ترین ناول ”میں تمثال ہوں“ ( 2021 ) ، جس کی ظاہری ساخت جنسی فریب و گمراہی سے عبارت ہے، دراصل شہوانی نہیں بلکہ بے ہنگم زندگی کی پریشان کن اور لرزہ خیز کہانی بیان کرتا ہے جس میں عورت خود نمائی سے خود کو پدرانہ معاشرے کی طرف سے عائد کردہ شرائط سے بالاتر سمجھتی ہے۔ ناول سات محبتوں کے معاملات پر پھیلی ایک دھڑکتی ہوئی کہانی سے پردہ اٹھاتا ہے۔ یہ لذتیت کی تلاش میں سرگرداں بری یا نفسیاتی طور پر تباہ شدہ عورت کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں رشتوں کی متجسس پریشانیوں سے آگاہ کرتا ہے۔

یہ سات مختصر ابواب میں ہے جو مرکزی نسوانی کردار تمثال کی ڈائری پر مبنی ہے۔ یہ ڈائری اس کی بے اطمینانی کی مظہر اور اطمینان کی مستقل جستجو کی عکاس ہے۔ ناول کا آغاز ایک ماہر نفسیات، ڈاکٹر احسن کو بھیجی گئی ای میل سے ہوتا ہے، جس سے تمثال نے اس وقت رابطہ کیا جب آخری (ساتویں عشق ) کی علیحدگی نے اسے مکمل طور پر مایوس کر دیا تھا۔ اسے شدید ڈپریشن سے نکالنے کے لیے، ڈاکٹر نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے محبوب کو قطع تعلقی کا خط لکھے مگر محبوب کے پاس کبھی نہ بھیجے۔ ہو سکتا ہے اس کوشش میں وہ کئی خط لکھنے پر مجبور ہو، لیکن یہ خطوط اس کے مسترد کیے جانے کے شدید احساس کو کم کریں گے، اور اس کی

معمول کی زندگی کو بحال کر نے میں معاون ہوں گے۔ اس بات سے تمثال، جو ایک تخلیق کار ہے، متفق نہیں ہوتی۔ وہ جو اباً لکھتی ہے :

”عجیب ماہر نفسیات ہیں۔ تخلیق کار ہوتے ہوئے بھی آپ کو یہ نہیں پتا کہ پہلا عشق ہی آخری نہیں ہوتا۔ ساتواں عشق بھی پہلا ہو سکتا ہے اور پہلے عشق کو کوئی آخری خط لکھ سکتا ہے؟ عشق اپنی بساط نہیں لپیٹ سکتا۔ نہ پہلا نہ دوسرا اور نہ آخری“

اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ کیوں گمراہی میں مبتلا ہوئی، تمثال لکھتی ہے :

”کہتے ہیں عورت معشوق ہوتی ہے عورت کو ہمیشہ محبوب کے طور پر دیکھا یا دکھایا گیا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے میں تو ازلوں سے ہی عاشق رہی ہوں۔ کبھی سوچتی ہوں یہ اپنی صنف کی نفسیات سے بغاوت کی سزا ہے کہ مجھے بار بار ہجر بھوگنا پڑتا ہے۔ کوئی محبت مجھے بھولی نہیں، ہاں احساسات بدل گئے ہیں۔

میں نے اپنی صنف کے مخصوص کردار کے خلاف بغاوت کی۔ اس لیے مجھے جدائی کا خمیازہ برداشت کرنا پڑا۔ ”
تمثال یہ اعتراف کرتی ہے :

”میری عجیب سی نفسیات ہے۔ میں نے اپنے کسی پرانے عشق سے قطع تعلق نہیں کیا۔ ہاں تعلق کی نوعیت کو صاف واضح کر دیتی ہوں۔“

یہ حیران کن لگتا ہے کہ ایک پر وٹگو نسٹ کردار، جو کہ مرد کی صحبت کا شدید رجحان رکھتا ہے، سب سے پہلے ہم جنسی کے تجربے سے گزرا۔ خواہش کی زندگی میں، خواہش کو کچلنا، موہومیت، وعدہ خلافی، اور وفاداری دماغ کی یکساں طور ناقابل افتراق حالتیں ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو لاینحل ہے۔

عارفہ شہزاد کی خوشنما نثر بیانیہ کے تخلیقی استعمال سے مملو ہے۔ اس میں بے باک جنسی عمل کا اظہار بالکل نہیں ہے بلکہ قابل ستائش حد تک ایماندار ہونے کے لیے وہ تعریف کی مستحق ہیں۔ تاہم اس ناول کے ظاہری انداز سے کوئی شخص اس میں جنسی خیالات پر مبنی مواد ڈھونڈنے پر مائل ہو سکتا ہے جو یقیناً غلط نقطہ نظر ہے۔

Facebook Comments HS