ذہنی امراض اور ان کی وجوہات

ہمارا ذاتی اعتقاد ہے کہ ادیب حضرات کو ایک دفعہ زندگی میں ہسپتال برائے شعبہ ذہنی امراض ضرور جانا چاہیے۔ انسانی نفسیات سے الجھتے، اپنوں کے درمیان زندگی سے ہاتھ دھوتے، روتے، چیختے پکارتے یہ انسان نہ صرف ہماری توجہ اور ہمدردی کے اہل ہیں بلکہ ان موضوعات کو اجاگر کرنا ہر اہل قلم کا فریضہ ہے۔ ہمارے ہاں ان موضوعات پر بہت کم لکھا گیا ہے ۔ اگر ہمارا کوئی عزیز شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو تو ہم اس کا علاج کروانا یا کسی کو بتانا نہایت معیوب سمجھتے ہیں جبکہ ماہرین نفسیات کے مطابق روز بروز ذہنی امراض کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر دس میں سے آٹھ افراد ذہنی مرض کا شکار ہیں۔ ہمارے اردگرد ہزاروں افراد اپنی زندگی کا بڑا حصہ ڈپریشن میں گزارتے ہیں جن سے ان کی ذات سے وابستہ ہر شخص متاثر ہوتا ہے مگر وہ اپنے اس مرض سے لاعلم رہتے ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی نے بلاشبہ بہت ترقی کر لی ہے مگر شعوری طور پر ہم آج بھی پست ہیں۔ انسانی نفسیات سے نابلد اپنے پیاروں کو زندگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے سامنے ہمارے عزیز زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔ اگر آپ کا کوئی عزیز آپ سے کہے کہ میں اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوں تو خدایا ان کے سامنے فلسفہ مت جھاڑیے، تسلی کے جھوٹے بول مت بولیے بلکہ کسی اچھے ماہر نفسیات کو دکھائیں یہ نہایت ضروری ہے۔
ہماری ایک عزیز ہستی نے ہمیں بتایا کہ میں دو سال سے ذہنی اذیت کا شکار تھی لاشعوری طور پر خوف مجھ پر ہمہ وقت طاری رہتا۔ میں نے اپنے عزیزو اقارب سے بیان کیا تو مجھے مشورہ دیا گیا کہ بس نماز قرآن پڑھیں یہ شیطانی وسوسے ہیں اس طرح میں نے اپنی زندگی کے دو قیمتی سال ذہنی اذیت میں گزارے اور کسی سے بیان نہیں کیا۔ میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ ہونے کی بنا پر ہمارا مختلف ہسپتال کے دورے پر جانا معمول کا کام ہے۔ اس دوران ایک دلچسپ شخصیت سے ملاقات ہوئی اور اس کردار میں ہمیں اپنا آپ دکھائی دیا۔
مریضہ کی والدہ سے گفتگو کرنے کے بعد علم ہوا کہ مریضہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ آج سے دو ماہ پہلے کسی دینی مدرسہ میں داخل کروایا گیا اس کے بعد سے مریضہ نے اپنا آپ کھو دیا۔ احساس گناہ نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی، اپنی ذات سے لاپروا خلا میں گھورتی یہ لڑکی خدا سے اس قدر خوف کھانے لگی کہ آج مینٹل ہسپتال کے بستر پر موجود ہے۔ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ خدا جو اپنے بندے سے ستر ماوٴں سے زیادہ محبت کرتا ہے، اس رب کی محبت و عشق ڈالنے کی بجائے مولوی نے خدا کا خوف دل میں بٹھا دیا۔
ہمیں بچپن ہی سے بتایا جاتا ہے کہ بیٹا یہ کام نہ کرو اللہ ناراض ہو گا، ایسا کیا تو خدا سزا دے گا یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ بیٹا اگر گناہ ہو جائے تو توبہ کا در کھلا ہے، وہ مہربان اپنے لطف وکرم سے بخش دے گا، پچھلی توبہ یاد نہیں کروائے گا، دھتکارے گا نہیں بلکہ تمہارے بکھرے وجود کو سمیٹ لے گا۔ خدا کی اس طرح سے محبت ہمارے دلوں میں کیوں نہیں ڈالی گئی؟ کافی دیر تک ہم سر جھکائے اس مضطرب ماں کے سامنے بیٹھے رہے جس کی بیٹی خدا سے خوف کی بنا پر زندگی موت کی کشمکش میں تھی۔ ہمارے پاس تسلی کے دو بول تک نہ تھے۔ اس کیفیت سے ہم بھی گزر چکے ہیں اس لیے اس ماں کے کرب کا بہت قریب سے مشاہدہ کر سکتے تھے۔
ایک ماہر نفسیات سے گفتگو کرنے کے بعد ہمیں علم ہوا کہ روز بروز ذہنی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ اس وقت کسی ڈاکٹر سے تشخیص کرواتے ہیں جب مرض حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ان موضوعات پہ بات کرنا ہی ناگوار سمجھا جاتا ہے۔ ہماری ایک عزیز ہستی نے ہمیں بتایا کہ ان کی والدہ اس قدر ذہنی مرض کا شکار تھی کہ کہا کرتیں تھیں کہ میری ٹانگ ٹوٹ گئی ہے یہ نماز نہ پڑھنے کی سزا ہے۔ کیا خدا جو اتنا مہربان ہے اپنے بندے سے انتقام لے سکتا ہے؟
گناہ اور ثواب میں الجھتا انسانی وجود اپنے مہربان رب سے اس قدر خائف کیوں ہے؟ ہماری عصری اور دینی مدارس آج تک رب سے عشق ہماری رگوں میں جاری نہ کر پائے۔ آپ اپنے عصری تعلیمی اداروں کا حال دیکھیے، تعلیم کے نام پر فحاشی، عریانیت، لادینیت، بے راہ روی دے رہے ہیں اور ہمارے دینی مدارس اس قدر انسان کو تشدد پسند بنا رہے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ایسے دینی مدارس ہر وقت خوف گناہ کے احساس میں انسانی شخصیت کو پامال کر رہے ہیں۔ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم آئندہ صحت مند نسلیں پروان چڑھا سکیں گے؟ کیا ہم ایسی نسل کی پرورش کر پائیں گے جو ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر مضبوط ہو؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ ذہنی اذیت کا شکار ہیں تو کیا کریں؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ پہلی فرصت میں کسی اچھے ماہر نفسیات کو دکھائیں۔ اگر آپ کے جسم کا کوئی حصہ اذیت میں ہوتا ہے تو آپ یقیناً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اسی طرح آپ کا دماغ آپ کے وجود کا حصہ ہے، اگر خدانخواستہ وہ کسی اذیت کا شکار ہے تو علاج کروانا معیوب نہیں۔ جس طرح ہمارا جسم بیمار ہوتا ہے ویسے ہی روح کا بیمار ہونا ایک عام بات ہے۔ ماہر نفسیات کی تشخیص کے بعد ان کی تمام ہدایات پر عمل کریں۔ یاد رہے کسی اچھے کوالیفائیڈ ڈاکٹر سے علاج کروائیں کیونکہ نیم حکیم خطرہ جان ہے اور جان ہے تو جہاں ہے۔ اس کے بعد زندگی کی طرف لوٹنا شروع کریں، مسکراہٹیں بکھیریں، زندگی کا آغاز پھر سے کریں، ہر دن ایسے گزاریں جیسے یہ زندگی کا آخری دن ہے۔
زندگی میں بہت ساری چیزیں ناگوار گزرتی ہیں، صبر کا دامن تھامیں۔ جس نے جو کیا وہ یکسر بھول جائیں، اپنے معاملات اپنے رب کے سپرد کر دیں، وہ آپ کے بکھرے وجود کو سمیٹ لے گا۔ شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیے ضرور نکالیں۔ چائے کا مگ لے کر گھر کے کسی کونے میں خود سے کلام کریں، اپنے اہداف معین کریں، لوگوں سے بلاوجہ الجھنا چھوڑ دیں۔ یقین کیجیے اصل کامیابی خود کو جاننا ہے اور اپنی ذات، شخصیت اور کردار پہ وقت اور پیسہ خرچ کرنا ہی اصل حاصل زندگی ہے۔
روز ورزش کریں، مثبت باتیں سوچیں اور منفی خیالات کو خود کے قریب نہ آنے دیں۔ مایوسی اور نا امیدی سے دور رہیں، اپنے پیاروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ ممکن ہو تو سوشل میڈیا کا استعمال کم سے کم کریں۔ لاحاصل خواہشات انسان کو بلاوجہ تھکا دیتیں ہیں اس لیے زندگی کے ہر تلخ تجربے سے سیکھیں۔ جن چیزوں کو بدلنے پہ قدرت نہ رکھتے ہوں انہیں ویسے ہی قبول کیجیے اور سب سے اہم اپنے رب پر توکل کیجیے وہ ستر ماوٴں سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہے آپ کا یوں ٹوٹ کر بکھرنا یقیناً اس رب کو بھی پسند نہیں۔
اپنے پیاروں کے لیے زندگی کی طرف پلٹنا شروع کریں۔ اچھی کتب کا انتخاب کریں، روز ڈائری لکھیں، اپنی چھوٹی چھوٹی جائز ضروریات زندگی کو پورا کریں۔ جو زندگی کے سفر میں جہاں بچھڑنا چاہے اسے وہیں مسکرا کر جانے دیں۔ زندگی کے ہر سٹیشن پر مختلف لوگ ملیں گے آپ کس کس کو روکیں گے؟ اس لیے جو جہاں بچھڑنا چاہے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ جائیں۔ کتابوں سے دوستی کر لیں، قلم و قرطاس کو اپنا رفیق جانیے، یہ بہترین دوست ہیں۔ مثبت رہیں، مسکراہٹیں بکھیریں، آسانیاں پیدا کریں اور زندگی کو بھرپور انداز میں جئیں۔


جناب سویرا بتول۱ مضمون کی شروعات آپ نے بہترین انداز سے کی ہیں لیکن بعد میں آپ نے اس کو مذہب و معاشرت کا ملغوبہ بنادیا۔ خود ہی کہا کہ نفسیاتی مریضہ کو بس تلاوت و نماز پر لگادیا گیا نتیجتاََ دو سال تک اذیت میں مبتلا رہی۔ مطب صاف ظاہر ہے کہ ان چیزوں سے بیماریوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن بعد میں خود ہی کافی جگہوں پر یوٹرن لیتی رہی تکلیف میں رب کو یاد کیا کریں وہ تکلیفات ہٹا دیگا۔ اگر اسی طرح ہے تویہ کیوں لکھا کہ وہ مریضہ دوسال تک اذیت میں رہی باوجود تلاوت و نماز کے۔ ازراہ کرم معاشرے کے خوف یاموروثی عقائد کی وجہ سے حقائق کو حقائق کی طرح ہی بیان کرنے سے نہ ہچکچائیں، مذہبی تڑکے ساتھ نہ لگایا کریں۔ ایک طرف اس تڑکہ کی مخالفت بھی کرتی رہی لیکن ساتھ ہی ساتھ خود بھی ملانی بن بیٹھی۔ عقل و شعور یہ طریقہ بالکل ہی ایکسیپٹ نہیں کرتا۔
ویسے تحریر کا جو مدعا ہے اس نے کافی متاثر کیا اور شعوری طور پر سوچنے پر مجبور کیا۔ بہت بہت شکریہ