قاضی عابد: یاد کا اک استعارہ
قدما اور اسلاف کی تحریروں میں ہم پڑھتے رہے ہیں کہ فلاں استاد صاحب رخصت ہوئے، سینکڑوں شاگردوں اور جاننے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ ایسے چند جملے پڑھتے اور آگے گزر جاتے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تحریر کے معنی ایک دم نہیں کھلتے، تخلیق فوراً فوراً آشکار نہیں کرتی، تب معنی دیتی ہے جب اس کیفیت سے باہم چار ہوتے ہیں۔ 21 فروری 2022 کو قاضی عبدالرحمن عابد تنہا جنت کے رستوں پر چل پڑے۔ (اللہ ان کی مغفرت کرے، درجات بلند کرے۔ ) سینکڑوں، ہزاروں، دوستوں، شاگردوں آشنا اور نامعلوم آشنا کو سوگوار چھوڑ گئے۔ میں اس وقت گورنمنٹ کالج، یونی ورسٹی کے نئے کیمپس کالا شاہ کا کو میں کلاس لے رہا تھا جب یہ خبر شعبہ اردو سے افسوس کے ساتھ آئی۔ آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ زبان سے جاری فیض کا مصرعہ بار بار اپنے معانی دے رہا تھا:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
قاضی عابد سے پہلا تعارف اس وقت ہوا جب ایم۔ اے (اردو) کے آخری سال میں تھا۔ ملتان سے ہمارے شعبہ میں زبانی امتحان کے لیے تشریف لائے تھے۔ آخری لیکچر کے بعد ہم کلاس سے نکلنے لگے تو شفیق استاد ڈاکٹر محمد نعیم ورک آئے اور ان کے ابتدائی کلمات میں تعارف کے ساتھ، گرچہ تب ان سے باقاعدہ تعارف نہیں ہوا تھا، ہمیں بیٹھنے اور ان کی روشن خیالی سننے کے لئے ٹھہرا لیا۔ قاضی عابد نے خود طالب علموں سے مکالمہ کے لیے کہا تھا۔
(ہماری خوش بختی) ۔ چند ثانیے بعد وہ ہاتھوں میں چائے کا مگ لیے، خوب صورت تبسم کے ساتھ، علم سے بوجھل اور فکر کی روشنی سے چمکتی آنکھوں لیے سامنے موجود تھے، اپنے لیے چند کلمات کہہ کر انھوں نے یگانہ، ن م راشد پر بات کرنا شروع کی۔ یہ چند منٹ کی باتیں ہمیں یگانہ اور ن م راشد کے نئے معنوں سے ہم کلام کروا دیا۔ انھوں نے آفتاب احمد کی ان دو شاعروں پر لکھی گئی پر مغز کتابوں کو پڑھنے کی تلقین کی۔ اور یگانہ کے شعر سنائے :
علم کیا علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
یہ ناؤ چلی کہ کنارہ چلا
کہیے کیا بات دھیان میں آئی
قدامت پسند اور جدت پسند لوگوں کے حوالے سے سمجھایا۔ ساتھ ہی ہنستے بھی جاتے ہیں اور کہے جاتے ہیں کہ دیکھو تمہارے زندیق استادوں نے اس روشن خیالی کے لئے کیسے کیسے طعنے سنے ہیں۔ ساتھ ہی قدما کہ لیے شعر سنایا:
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے بیگانہ مگر بنا نہ گیا
یہ تھی ان سے چند منٹ کی ملاقات۔ بعد میں ہم نعیم صاحب سے ملے ان کی شخصیت اور علمی کاموں کے حوالے سے مزید جانا اور ان کی اساطیر پر نہایت معنی نما کتاب خریدی اور پڑھی۔ کم و بیش چار، پانچ سال تک ان سے ملنا ہوا پر نہ ہوا۔ ایم۔ فل کرنے کے بعد ہم درس و تدریس میں مصروف ہو گئے۔ نعیم صاحب نے ٹھکانہ بدلا، ہم نے شہر۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور چلے آئے۔ کسی نہ کسی بہانے میں ان سے رابطہ کرتا رہا اور گاہے گاہے ملاقات کے لیے بھی حاضر ہوتے رہے۔
نعیم صاحب نے پھر مکاں بدلا اور اس بار اورینٹل کالج تشریف لے گئے، اور میں بھی زندگی کی سخت بے روزگاری کاٹ کر گورنمنٹ کالج لاہور میں بھرتی ہو گیا۔ شفیق استاد سے ملاقات کا سلسلہ گاہے گاہے سے روز روز کا ہو گیا۔ مجھے یاد ہے جس دن میرا نوکری کے لیے زبانی امتحان کے بعد انٹرویو تھا، بعد اس کے ہمیشہ کی طرح میں اور دیرینہ دوست فخر زمان (استاد ایچی سن کالج) وقت لیے بغیر شفیق استاد کے پاس پہنچے اور لیجیے جناب قاضی عابد اپنی خوش گوار اور مردانہ مسکراہٹ کے ساتھ براجمان ہیں۔
اور نعیم صاحب ہم نالائق شاگردوں کا تعارف کروا رہے ہیں۔ قاضی صاحب علم دوست، علم پرور اور دوست نما آدمی تھے۔ میرا تحقیقی کام جو شفیق استاد کے نگرانی میں تھا، جب انھیں پتہ چلا کہ میرؔ جیسے بڑے شاعر پر اسلوبیاتی کام تھا تو انھوں نے سکھانے کے انداز سوال کیا کہ ”کیا میرؔ کی شاعری میں لہجے سے معنی بدل جاتا ہے؟“ میں نیا خون، پرجوش اور ڈنگ مار کر حروف تہجی کے ہر لفظ کا بتانے لگ گیا کہ کون کون سے حرف ہیں جن کی صوت نہیں ہے اور وہ خود دوسرے حرفوں سے مل کے صوت دیتے ہیں۔
میری بات سنی اور سراہا، اور پھر پوچھا کہ کیا لہجے سے معانی بدل جاتا ہے؟ میں نعیم صاحب کی طرف دیکھا کیا اور اتنا کہہ سکا کہ ہاں بدل جاتا ہے۔ سچ تھا میں سوال کی نوعیت نہیں سمجھا سکا تھا۔ انھوں نے میرا خجل پن دور کیا اور فوراً اپنا دوست بنا لیا، یا یوں کہ میں نے خود کو ان کا دوست بنا لیا۔ لسانیات کے موضوع پر مفید مشوروں کے ساتھ نقادوں اور لسانیات والوں کی فاش غلطیوں کی طرف اشارہ بھی کیا اور سمجھایا کہ کس طرح احتیاط سے اس موضوع کا انتخاب کرنا۔
انھوں نے اپنی خوش گوار مردانہ مسکراہٹ کو اس دوران بھی غائب نہ ہونے دیا۔ وہ تبھی ملتان کی واپسی کے لیے نکل پڑے یا یوں تھا کہ ہمارے جانے پر کچھ دیر کے لیے اور ٹھہر گئے تھے۔ ہم ان کے ساتھ گاڑی تک آئے اور تصویر بنانے کی خواہش کی جسے خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے ہمیں ایک ساتھ فریم میں جڑنے کا موقع دیا۔ ان سے تیسری ملاقات بھی نعیم صاحب کے ہاں ہوئی جہاں جو پردے تھے حائل وہ گر گئے، ہوا یوں کہ میں قاضی صاحب کے ساتھ تھا کہ مجھے شیراز خان کا فون آیا جب اس نے پوچھا کہ کہاں ہو تو میں نے کہا کہ قاضی کے پاس کہنے لگا کہ کون سے قاضی میں نے برجستہ کہا ارے وہی جو عابد بھی ہیں۔
مرے جملے کی داد دی اور خوب ہنسے اور نعیم صاحب کو کہنے لگے دیکھو آپ کا شاگرد کیا کہہ رہا ہے۔ انھیں دنوں وہ فیمینزم پر کام کر رہے تھے اور کچھ مضامین ان کے ان موضوع پر نکالے ہوئے تھے اور ایک پبلشر ان کے پاس آیا ہوا تھا ان سے ان کو ٹائپ کروانے کا کہہ رہے تھے میں تمام باتیں سنا کی اور فوراً اپنی خدمات پیش کردی۔ انھوں نے پتہ پوچھا اور چند دنوں کے بعد مضامین ڈاک سے وصول کر رہا تھا۔ میں نے ایک بول کر لکھنے والے سافٹ وئیر سے پندرہ دنوں میں تمام کو بول کر لکھ لیا مگر جب ان کی پروف کی باری آئی تو ہر سطر میں چھ سے آٹھ الفاظ کی املا درست نہیں تھی۔
کام ایک ماہ سے چھ ماہ تک بڑھ گیا۔ کچھ نوکری کی ذمہ داریاں اور کام کو وقت پر دینے کی تڑپ، یہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ پر مجال ہے قاضی صاحب کے چہرے یا زبان پر ایک شکایت کی شکن پڑی ہو۔ اسی دوران پی۔ ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے لیے اورینٹل کالج آئے، ساتھ ڈاکٹر عابد سیال بھی تھے، ان سے ملا، کام میں دیر کی معذرت کی، مجھے گلے لگا کر کہا ”یوں نہیں پیارے“ ۔ ہنوز کتاب شائع نہیں۔ اب پتہ نہیں اس کتاب کا کیا ہو گا۔
دوسری بہت ساری ملاقات کے بعد ان سے آخری ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی جو ترکی اور گورنمنٹ کالج کی اردو سے محبت کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی۔ پاکستان میں کوئی بھی، کہیں بھی ادبی پروگرام ہو رہا ہے قاضی صاحب وہاں موجود نہ ہو یہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ بہت ہمہ گیر شخصیت و وجاہت کے مالک تھے۔ آسمان بیلن (مہمان خصوصی) ، ڈاکٹر فخر الحق نوری (سابقہ ڈین اورینٹل کالج ) ، ڈاکٹر صائمہ ارم (صدر شعبہ اردو، جی سی یو لاہور) ، ڈاکٹر سعادت سعید (سینئر پروفیسر جی سی یو لاہور) ، ڈاکٹر قاضی عابد (ڈائریکٹر سرائیکی سینٹر، ملتان) ، ڈاکٹر محمد نعیم ورک (ایسوسی ایٹ پروفیسر اورینٹل کالج) ، ڈاکٹر کامران صاحب ( اورینٹل کالج لاہور) ، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی (پروفیسر جی سی یو لاہور) ، ڈاکٹر سفیر حیدر (پروفیسر جی سی یو لاہور) ، نظم کے اچھے شاعرحماد نیازی، اور دوسرے اساتذہ اس میں شامل تھے۔
پروگرام شروع ہونے سے چند پہلے قاضی صاحب نے دور سے دیکھا تو دل آویز، خوش گوار اور قاتل مسکراہٹ کے ساتھ، دونوں ہاتھوں کو مرے رخ پر لا کر حال احوال دریافت کرتے رہے۔ اختتام پروگرام پر ان سے ملا بہت خوش ہوئے۔ پروگرام قابل تعریف تھا۔ اسی اثنا میں کچھ انتظامی امور کے سلسلے میں جانا پڑا، مہمانوں کے لیے کھانے کا احتمام تھا۔ کھانے پر میں موجود نہیں تھا مجھے باقاعدہ بلایا۔ تمام کام چھوڑ کر میں حاضر ہوا۔ تمام اساتذہ سامنے بیٹھے تھے میں دادا استاد ڈاکٹر سعادت سعید کے ساتھ طالب علمانہ حیثیت سے بیٹھ گیا۔
قاضی صاحب نے سنجرانی صاحب سے میرا تعارف کروایا تو سنجرانی صاحب مسکرا کر کہتے ہیں ”بچہ تگڑا ہے“ ۔ ڈاکٹر صائمہ ارم نے نوری صاحب سے میرا تعارف کروایا تو وہ کہنے لگے ہاں میں ایم۔ فل کا زبانی امتحان لے چکا ہوں۔ اچھا شاگرد ہے۔ قاضی صاحب نے تعریفی نظروں سے دیکھا۔ تمام لوگ شام تک بیٹھے رہے۔ میرا جی اور ن م راشد پر بات ہوتی رہی، ڈاکٹر سعادت سعید اور قاضی صاحب ان شاعروں کے بہترین نقاد ہیں۔ ”اقبال کے بعد نظم کا بہترین شاعر کون ہے؟
راشد یا کوئی اور؟ یہ کہ راشد کا شاعری میں مقام و مرتبہ کیا ہے؟ یہ طے کرنا کوئی اتنا بھی ضروری نہیں“ یہ قاضی عابد اپنا موقف بتا رہے تھے۔ محفل مکمل ہوئی اور مہمان رخصت ہونے لگے میں نوری صاحب کو چھوڑنے اورینٹل کالج تک آیا اور قاضی عابد مہمان خانے چلے گئے۔ بعد میں، میں ان سے نہیں مل سکا۔ کیا خبر کس کس طرح کا غم لیے وہ رہتے تھے، دوستوں اور شاگردوں کو اس کی خبر بھی ہونے پاتی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہے اور میں خدا کو بھی سنگدل، سفاک، قاتل نہیں کہوں گا، کیوں کہ اس جرم کے سزاوار اور لوگ ہیں، انھوں سے حساب لیا جائے، انھیں سے لیا جانا چاہیے۔


