ایک ماں کا دس سالہ بیٹے کے نام خط


میرے پیارے معصوم!

بڑا دل تھا کہ میں تمہیں خط لکھوں۔ دل کی باتیں کہوں۔ تمہاری شرارتیں بیان کروں۔ تمہارے چھوٹے بھائی کے قصے تحریر کروں۔ تمہارے باپس (بابا) کی فکریں اور خواب اور محنتوں کی کہانی رقم کروں۔ جن کو تم پڑھو ، جب تمہیں یہ نامہ ملے۔ تم اس پیار کو محسوس کرو۔ جب تم اس کو چھوؤ۔ تم ان لفظوں کی حدت کو اپنے دل پر جانو، جب تم ان کو پڑھو۔ تم اس لمس کی نرمی کو اپنے دل پر اترتا دیکھو، جب تم اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑو۔ اور پھر تم اپنا جوابی مراسلہ مجھے بھیجو۔ بہت سوالوں سے بھرا۔ معصوم اندیشوں کو کہتا ہوا۔ معمول سے ہٹ کے انوکھے تخیلات پر مبنی، لمبا دیباچہ۔ اور پھر میں تمہیں اس کا جواب دوں۔ یوں ہم لکھتے رہیں۔ وہ سب کہہ دیں جو کسی لمحے ان کہا رہ گیا ہو۔ یوں ہمارے پاس لکھی ہوئی یادوں کا ایک سلسلہ ہو۔ جب چاہو، اٹھاؤ اور پڑھو اور باتیں شروع۔

سوچتی تھی کہ جب کبھی تمہیں خط لکھوں گی تو بڑی امید افزا کہانیاں بیان کروں گی۔ پھولوں اور خوشبو کی یادیں، خوش کن مستقبل کے خوابوں کی پلاننگ، باہمی محبت اور دوستوں کے ملن کی داستانیں رقم کروں گی۔ لیکن آج تو میں پریشان ہوں اور شاید خود سے خفا بھی۔ پتہ ہے آج صبح تمہارے سکول جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ایک اور کمزور ملک طاقتور دشمن کے بھینٹ چڑھ گیا۔ کشمیر، فلسطین، عراق، ایران، افغانستان کے ساتھ اب یوکرائن کی باری ہے۔ عالمی سیاست اور طاقت کا کھیل اب یورپ میں داخل ہو گیا ہے۔ آگ کا وہ کھیل جو ہمارے ارد گرد سالوں سے جاری تھا اب کسی اور جاگیر اور دہلیز سے لپٹ گیا ہے۔ ہم بحیثیت مسلم اپنے بھائیوں کے لئے آج تک کچھ نہیں کر سکے تو انسانیت کے لئے کیا کریں گے؟

میرے بچے! یہ جو مظلوم ہوتا ہے ناں، یہ بس ظلم کا مارا ہوتا ہے۔ جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ امید کا طالب ہوتا ہے۔ کسی نجات دہندہ کا منتظر ہوتا ہے۔ اور ان کی مدد کا حکم ہمیں ہمارا دین اور اخلاق دونوں دیتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ جب تم بڑے ہو گے تو میں ہوں گی بھی یا نہیں۔ لیکن میری دعا اور تمنا ہے کہ تم عمر کے جس حصے میں بھی ہو، مددگار بنو۔ اللہ کو ماننے والے بنو۔ سائنسدان ہو یا گیم ڈویلپر، موسیقار کہلاؤ یا کھلاڑی، محقق ہو یا دانشور۔ ہر روپ درد چننے کا ہو۔ دلیری، بہادری، یقین اور راست گوئی کا ہو۔

تم بھی کہو گے کہ ایسی بھی کیا مایوسی کہ مما اتنی آزردہ ہیں؟ تو میری عزیز جان! کوئی بھی ذی روح ایک دم نہیں گرتا۔ کوئی بھی انسان یک دم حوصلہ نہیں ہارتا۔ یہ لمحوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تو سالوں، مہینوں اور نسلوں کا بویا ہوتا ہے جو قطرہ قطرہ دل میں شگاف کر کے اتنا بے حوصلہ کرتا ہے کہ پریشانی اپنے آپ لاشعور سے شعور تک ظاہر ہو جاتی ہے۔ ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ اس سے پہلے ایک اور عمر رسیدہ کو ناموس رسالت ﷺ کے نام پر سر عام قتل کر دیا گیا۔ اب تم خود بتاؤ کہ کیا یہ وجہ اذیت نہیں۔ سچ کہوں تو میں تو بڑی شرمندگی میں گھر جاتی ہوں جب ایک نام نہاد مسلمان معاشرے میں یوں کوئی مارا جاتا ہے۔ کوئی اقلیتی مذہبی شدت پسندی میں محصور ہو جاتا ہے۔ میرے لئے تو یہ غم ہی بہت ہوتا ہے۔

خیر! ابھی میں نے دوبارہ کاغذ، قلم تھاما ہے۔ بیچ میں اٹھ کے میں لان میں جا بیٹھی تھی۔ تمہیں پتہ ہے کہ بہار کے سندیسے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انار، انگور اور انجیر جنہیں سردی اور خزاں گہری نیند سلا کر سب پتے، پھل اور ہریالی چرا لیتے ہیں۔ دوبارہ بیدار ہو گئے ہیں۔ ننھی ننھی کونپلوں نے سر نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے کہ وہ کبھی مردہ ہوئے ہی نہیں۔ اور وہ جس فاختہ کے گھونسلے سے انڈے گر کے ٹوٹنے پر تم دنوں بے حال رہے تھے۔

اس نے پھر سے بوگن ویلیا کی بیل پر نیا گھونسلہ بنا کر انڈے دیے ہیں اور ان سے بچے نکلنے کی منتظر ہے۔ بلکہ اس دفعہ تو بیا بھی موتیا کے اندر اپنا گھر بنا گئی ہے۔ نیلے ہمنگ پرندے، سبز چڑیاں، بھوری بلبلیں، سفید اور کالے چھوٹے پرندے، ہد ہد اور رنگ برنگی تتلیاں سب ہمارے پودوں پر کھیلنے اور گانے آتے ہیں۔ اور مجھے یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندگی اور امید کے نمو کا موسم ہے۔

میرے بیٹے! میری دعا ہے کہ جنگ کے بعد امن کا موسم آئے۔ در بدری کے بعد اپنے آنگن کی چاشنی کا موسم آئے۔ جدائی کے بعد ملن کا وقت آئے۔ موت کے سناٹے کے بعد حیات کی نوید آئے۔ بارود کی بو کے بعد رنگوں اور پھولوں کی خوشبو آئے۔ اور تم بہت سے پیامبروں میں سے ایک پیامبر ہو۔ تب میں تمہیں دوبارہ خط لکھوں۔ تب تک کے لئے اللہ کی امان میں دیا۔

فقط
تمہاری ماں۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.