سعادت حسن منٹو کے پاگل یا علامہ اقبال کے غازی و پر اسرار بندے
میں بطور پاکستانی اپنے آپ کو اکثر سعادت حسن منٹو کے افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا کردار پاگل لگتا ہوں، لیکن کبھی کبھی سوچ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے علامہ اقبال کا شاہین، غازی اور پر اسرار بندہ بھی سمجھنے لگتا ہوں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے کردار میں رہنا زیادہ پسند ہے کیونکہ اس کا حق اظہار کافی وسیع ہے جس کے استعمال سے طبیعت ہلکی ہو جاتی ہے۔ میں جیسا ہوتا ہوں، مجھے ویسے ہی میرے دیگر ہم وطن لگ جاتے ہیں۔ غازی اس لیے کہ ہم نے خود اپنے آپ سے جنگ لڑی اور اس میں بغیر کسی شہادت کے فتح یاب ہوئے۔ ہم نے ان حملوں میں اپنی زبان، ثقافت، تاریخ، اخلاقیات، عقل و دانش وغیرہ کو شکست فاش دی اور پر اسرار اس لیے کہ ہم پھر بھی زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔ ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں، اپنا تعارف ایک ایسے ہی عظیم گردوں کے ٹوٹے ہوئے تارے کے طور پر کرواتے ہیں۔
لیجیے اب برطانیہ میں آباد پاکستانی ہم وطنوں کی سنیے اور دیر تک سر دھنیے۔ میں نے ابھی دنیا نیوز چینل لگایا تو خبروں میں مشرقی لندن کے علاقہ الفورڈ میں منعقدہ ایک تقریب پہ رپورٹ پیش کی جا رہی تھی جس میں پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ایک گروہ پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا جس نے بھارتی پائیلٹ ابھینندن کا جہاز گرایا تھا۔ ابھینندن کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا اور ہر سال 28 فروری اسی تناظر میں منانے کا عہد کیا جا رہا تھا۔
وہ تو جو تھے سو تھے، لیکن یہاں ہمارے ٹی وی رپورٹر بھی ایسے واقعات کی کوریج کے لیے چلے جاتے ہیں اور پھر وہ رپورٹ جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے کے لیے نشریاتی ادارے نشر بھی کر ڈالتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ برطانیہ کی جن سڑکوں پہ وہ اپنے جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ایسا کرنے کا حق اس قوم کو بھی حاصل ہے جنہوں نے سیاچین چھینا، کشمیر پہ جو چاہا کر چکے ہیں، پاکستان کو دو ٹکڑے کر چکے ہیں۔ اگر وہ اپنی ان کامیابیوں کو منانا شروع کر دیں تو؟
برطانیہ میں آباد پاکستانیوں نے اپنے آپ کو مسلم دنیا کی قائد قوم کے طور پر بھی منوا لیا وہ اس طرح کی عیدین کے تہوار اب محض اسلامی نہیں، بلکہ پاکستانی تہواروں کے طور پر منائے جاتے ہیں۔ مشرقی لندن میں واقع گرین سٹریٹ کو اس مقصد کے لیے پاکستانی جھنڈوں سے سجایا جاتا ہے۔ ایسا ہی 14 اگست کو ہوتا ہے۔ پاکستان کے قومی / ملی نغموں سے پوری گرین سٹریٹ گونج اٹھتی ہے۔ ان تہواروں کے تناظر میں لگنے لگتا ہے جسے گرین سٹریٹ کے گرین اور پاکستانی جھنڈے کے سبز رنگ میں کوئی خاص مذہبی و ملی رشتہ ہے۔
یہاں پاکستانی ہر شعبہ زندگی میں پاکستان کا سر خوب فخر سے بلند کر رہے ہیں۔ مقامی کونسلوں میں کونسلر منتخب ہوتے ہیں۔ وہ اپنی حیثیت میں اپنے آبائی وطن کا قرض یوں چکاتے ہیں کہ 14 اگست کو کونسل عمارت پر پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں۔ پرچم کشائی کی اس تقریب میں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بطور مہمان خصوصی پاکستان کے سفیر کو بلایا جائے۔ اب چونکہ دیکھا دیکھی ایسی تقریبات کا انعقاد ہر کونسل میں ہونے لگا ہے، اس لئے اکیلے سفیر صاحب کے لیے سب کو نمٹانا ناممکن ہو گیا ہے، لہذا وہ اس نیک کام کے لیے بعض تقریبات میں سفارتخانے کے دیگر افسران کو بھیج دیتے ہیں۔ چونکہ ان کونسلوں میں بھارت نژاد کونسلروں کی بھی کمی نہیں اور اگر وہ 15 اگست کو ترنگا لہرانے کا پروگرام بنا لیں تو؟ ویسے اس بات کا توڑ بھی ہے۔ ہم کہیں گے کہ ہم برطانیہ میں آباد وہ پہلی تارک وطن قوم ہیں، جس نے یہاں کی مقامی کونسلوں پر اپنے آبائی وطن کا جھنڈا لہرانے کا سلسلہ شروع کیا۔


