عوامی مارچ۔ 48 گھنٹے۔ چوہدری شجاعت کی عیادت


پیپلز پارٹی کا عوامی مارچ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور عکس بے نظیر کی قیادت میں رحیم یار خان پہنچ چکا ہے۔ سندھ کے بعد پنجاب میں بھی عوامی مارچ کا والہانہ استقبال اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ عوام اب تبدیلی سرکار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس لیے عوامی مارچ کا ہر جگہ شاندار استقبال ہو رہا ہے۔ رحیم یار خان کے بعد ملتان اور پھر براستہ لاہور سے اسلام آباد کا سفر بذریعہ جی ٹی روڈ جہاں جیالوں میں نئی جان ڈال دے گا وہاں پر عام آدمی کی تکالیف اور مشکلات کی بھی بھرپور ترجمانی کرے گا۔ ایک اچھے ہوم ورک اور بہترین انتظام کے ساتھ ساتھ عوامی مارچ کو درحقیقت تبدیلی سرکار کی نا اہلی اور بدترین طرز حکمرانی نے رنگ بھر دیا ہے۔

اس کی دلیل یہ کہ جب عوامی مارچ گھوٹکی پہنچا تو میڈیا ذرائع کے مطابق گھوٹکی سے تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی سردار شہر یار خان شر نے عوامی مارچ کے ٹرک پر سوار ہو کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ سندھ کے حقوق کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے اپنی وکٹ کی حفاظت نا کرسکے۔ یہی نہیں بلکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے وزارت آبی وسائل، پاور اور پٹرولیم اور بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے بھی اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھیجتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا حتمی فیصلہ ہے۔ 2019 میں معاون خصوصی بننے والے رند سردار کی دیر سے سہی مگر بالآخر آنکھ کھل ہی گئی اور حسن اتفاق کہ ٹھیک وقت پر آنکھ کھلی۔

آنکھ تو وزیراعظم کی بھی ٹھیک وقت پھر کھلی اور بھاگے بھاگے چوہدری شجاعت کی عیادت کو پہنچے۔ اس ملاقات کے بعد میڈٰیا کے ذریعے جو تاثر دینے کی کوشش کی گئی اس کی وضاحت ایم این اے چوہدری طارق بشیر چیمہ کو میڈیا پر آ کر کرنی پڑی مدعا یہ کہ پنجاب اور وفاق کی قیادت کے مسئلے کو سلجھائے بغیر صرف عیادت ہی کی گئی۔ گجرات کے چوہدری سیانے ہیں ہواؤں کا رخ بڑی جلدی پہچان لیتے ہیں لہذا اس ملاقات سے کپتان کو سیاسی فائدہ نہیں اٹھانے دیا اور بیانات کی تردید اور تصحیح کراتے رہے مطلب یہ کہ اب چوہدری بھی مزید بوجھ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ہیں

اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ دن قبل پیکا ترمیمی آرڈیننس کے حق میں دلائل دینے والے کپتان کے ایک کھلاڑی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس لینے کو تیار ہیں اور ہم نے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو مکمل اختیار دیا ہے کہ جس طرح وہ کہیں گے اسی طرح کر لیں گے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اچھی بات ہے کہ حکومت کو اس ایشو پر اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ اس کو سلجھانا چاہتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسا متنازعہ آرڈیننس جاری کرنے کی ضرورت کیا تھی جس کو چند دن بعد ہی واپس لینے کی بات کرنی پڑ گئی

اپوزیشن کا دباؤ جتنا بڑھتا جا رہا ہے اس کے نتیجہ میں اب آہستہ آہستہ تحریک انصاف کو چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا جس طریقے سے اس بھان متی کے کنبے کو کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے سے جوڑا گیا ہے جس طرح سے تبدیلی کا بت تعمیر کیا گیا تھا اسی طریقے سے اب یہ بت مسمار ہوتا جائے گا۔ سب سے پہلے ناراض اراکین چھوڑیں گے اس کے بعد اتحادیوں کے ختم نہ ہونے والے گلے شکوے سامنے آئیں گے اور ان کی طرف سے عدم تعاون کا سلسلہ شروع ہو گا۔ حکومت جائے نہ جائے مگر آئے روز اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا رہی بات عوام کی تو وہ ویسے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آئی ہوئے ہیں

ایسے میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوید سنائی کہ ان کے نمبرز پورے ہو گئے ہیں اور اپوزیشن نے اپنا ہوم ورک پورا کر لیا ہے۔ مولانا کے مطابق آئندہ دو سے تین روز اہم اور 48 گھنٹے بہت ہی اہم ہیں ان کے مطابق وہ زرداری اور میاں صاحب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اپوزیشن میں کسی نکتے پر اختلاف نہیں ہے مولانا کے مطابق فی الوقت یہ طے ہے کہ حکومت کو چلتا کیا جائے یعنی خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے۔ مطلب یہ کہ بہار کی امید نا سہی مگر خزاں کے ٹالنے پر اپوزیشن مکمل طور پر متفق ہے

اس مجموعی سیاسی صورتحال کا لب لباب یہ ہے کہ ملکی سیاسی منظر نامہ اپنے منطقی نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپوزیشن ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق ہو چکی ہے اور طے کرچکی ہے کہ جلد سے جلد حکومت کو گھر بھیجا جائے ایسے میں عوامی مارچ کے دوران جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا موقف بڑا واضح تھا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی بننے والی حکومت کا صرف ایک مینڈیٹ ہو گا اور وہ الیکشن ریفارمز ہوں گی۔ یہ ریفارمز کر کے فی الفور انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ اقتدار عوامی منتخب نمائندوں کو منتقل کیا جا سکے

مگر ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب سب تلاش کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ ایمپائر کا فیصلہ کیا ہو گا۔ مولانا کے مطابق ایمپائر نیوٹرل ہو چکا ہے اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد بھرپور طریقے سے کامیاب ہوگی اور اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت قائم تو رہے گی مگر یہ موت سے زیادہ بدتر زندگی جیسی ہوگی۔ ایک ایسی حکومت جس کا کوئی دن سکون سے نہیں گزرے گا اور عوامی سطح پر حکومت کی مقبولیت کا گراف اور زیادہ تیزی سے گرنا شروع ہو جائے گا۔ اگر نیا بجٹ موجودہ حکومت نے دیا تو نئے ممکنہ ٹٰیکسز میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور عوام کے لیے مراعات کے مطالبات کا ایسا طوفان آئے گا جس کو پورا کرنا شاید حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ گویا عیش و عشرت کے دن ختم ہوئے اور اب ہر دن کانٹوں کی سیج پر گزرنے والا ہے۔

Facebook Comments HS