پانچ ہزار کلومیٹر دور لڑی جارہی جنگ اور پاکستان
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے ایک بار کہا تھا ”روس ایک بار کہیں پہنچ جائے تو آسانی سے واپس نہیں جاتا“ ۔
اب جب کہ روسی فوجیں یوکرین کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں وہ اپنے اہداف حاصل کیے بغیر واپس جائیں گی اس کا تصور بھی محال ہے۔ بلکہ ممکن ہے مغرب کی کمزور پوزیشن کو دیکھتے ہوئے روسی فوجیں مزید آگے بڑھیں اور اطراف میں موجود دیگر یورپی ریاستوں پر بھی حملہ کر دیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ روز سٹیٹ آف دی یونین سے اپنے پہلے خطاب میں اپنی بات کا اعادہ کیا کہ امریکی فوج یوکرین میں روسی فوج سے لڑنے نہیں جائے گی یہ بات انہوں نے ایسے وقت میں کی ہے جب روسی صدر نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ہائی الرٹ پر لگا دیا ہے۔ 79 سالہ امریکی صدر جو ایک پیشہ ور وکیل رہے ہیں روس کی گولیوں کا جواب صرف بولیوں سے دے رہے ہیں۔ امریکا اور یورپ روسی صدر کو ڈرانے، دھمکانے یا اپنے ارادوں سے باز رکھنے میں بری طرح سے ناکام نظر آرہے ہیں۔
پیوٹن کو کم ازکم روس میں چیلنج کرنے والا اس وقت کوئی نہیں ہے ان کے قریب ترین سمجھے جانے والے نیشنل سکیورٹی کے سیکرٹری نکلولائی پتروشیف، چیف آف سٹاف گلا سیموف یا فیڈرل سکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنیکوف، بھی صدر پیوٹن پر اثر انداز ہونے یا مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ایسے میں آنے والے وقتوں میں پیوٹن نے کیا فیصلہ کرنا ہے یہ صرف پیوٹن ہی جانتے ہیں۔ 2018 میں ایک انٹرویو کے دوران جب روسی صدر سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا ”اگر روس کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ایٹمی ہتھیار ضرور استعمال کریں گے ایسی دنیا کا کیا فائدہ جس میں روس نہ ہو“
ایسی مشکل اور خطرناک صورتحال میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے نہایت احتیاط اور غیر جانبداری کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی وضع کرنا ہوگی۔
پاکستانی وزیر خارجہ جو اس وقت سیاسی ریلیوں کی قیادت میں مصروف ہیں کو اپنے دفتر واپس پلٹنا ہو گا، پاکستان کی اپوزیشن کو بھی اعلی وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی سیاست کو فی الحال افراتفری سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے میڈیا کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے اسے بھی اپنے ٹاک شوز میں اس اہم بین الاقوامی مسئلے پر بات کرنا چاہیے تاکہ ایک بہتر اور متوازن رائے کو سامنے لایا جا سکے۔ جنگ اگرچہ پاکستان سے پانچ ہزار کلومیٹر دور لڑی جا رہی ہے لیکن اس کے اثرات سے بچ پانا شاید ممکن نہ ہو۔

