عورت آزادی مارچ اور اسلام


وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اور ان رنگوں کو نمایاں کیا ہیں ہمارے پیارے دین اسلام نے کسی جو مقام و بلند مرتبہ اسلام نے عورت کو بخشا ہے کسی بھی مذہب میں نہیں دیا گیا ہے اور تمہیں اسلام نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے اور بیٹی ہے تو اسے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور بہن ہے تو سراپا دعا ہے اور اگر عورت ہے بیوی تو مرد کی پوشاک و لباس کی مانند ہیں اس کے نصف ایمان کو پورا کرنے کا سبب ہے روح جسم کی مانند ہے کہ عورت کو مرد کی پسلی سے تخلیق کیا گیا ہے اس لئے عورت کی تحفظ کی ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے مرد کا فرض ہے کہ وہ اس کے تحفظ کے حقوق و فرائض کی پاسداری کرے۔

اسلام وہ دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں زندگی گزارنے کی تعلیمات دیتا ہے اسی طرح رشتوں کے حقوق و فرائض اور ان کی ادائیگی کے بارے میں بتاتا ہے زمانہ جاہلیت میں لڑکی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لڑکی کا پیدا ہونا معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام کی آمد کے بعد اسلام میں عورت کا تحفظ کیا اس کے حقوق بتائے اور ایک عظیم اعلی مقام و مرتبہ سے نوازا ہے لیکن اتنے سال اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم ایک بار پھر زمانے جاہلیت کی طرف لوٹ رہے ہیں جس سے ہمیں اسلام کی اعلی اخلاقیات اور اقدار نے نکالا تھا۔

ہم ایک بار پھر دشمنوں کی چالوں کا شکار ہو رہے ہیں دشمنان اسلام میں عورت کو آزادی کے نام پر سنہری خواب دکھا کر اپنے انسانی شکنجوں میں جکڑ لیا ہے عورت کے حقوق کے علمبردار آزادی کے نام پر فساد پھیلانے میں مصروف عمل ہیں اسلام نے جو تعلیمات دی تھیں پردے کے متعلق عورت کے حقوق و فرائض سے متعلق ان کے خلاف پروپیگنڈا کر کے نئی نسل کی عورت کو مغربی رنگ کے طرز زندگی کو اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

دشمنان اسلام میں میڈیا کے بڑھتے ہوئے زور کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اندر موجود زہر ہماری نئی نسل میں اتارنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے عورت مارچ جیسے وحشیانہ احتجاجات سامنے آرہے ہیں آزادی کے نام پر ہم اتنے آگے نکلتے جا رہے ہیں کہ اپنی اخلاقیات و اسلامی تعلیمات کو بھول بیٹھے ہیں مغربی طرز زندگی کو اپنا کر ہم بہت قابل فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔

عورت مارچ کے نام پر شروع کی جانے والی دشمنوں کی سازش میں ایسے نعرے سامنے آئے ہیں کہ شرم و حیا کا پردہ چاک ہو کر رہ گیا ہے جو باعث شرمندگی بھی ہے اور عورت کو دین سے دور کیے جانے کا سبب بھی ہے۔ اپنے اصولوں و مبادیات گھڑ لائے ہیں جو اس کی فطرت سے متصادم ہے اور ایمانی قدروں کے سراسر منافی ہیں۔ ایسے سنہری خواب اغیز بدبودار غیراخلاقی رہن سہن کو آزادی کے خوبصورت لبادے میں لپیٹ کر ہماری نوجوان نسل کو زبردستی تھمایا جا رہا ہے۔

ہم نے جس مقصد کے لیے یہ وطن پاکستان حاصل کیا تھا آزادی کا جشن منایا تھا کہ ہم اپنی اسلامی تعلیمات کی پیروی اپنی مرضی سے کر سکیں گے اور اللہ رسول ﷺ کے احکامات کی تعمیل آزاد رہ کر سکیں گے لیکن دشمنوں نے اس آزادی کا بدلہ ہم سے ایسے لیا کہ اپنی غیر اخلاقی تہذیب کو ہماری نئی نسل کی رگوں میں زہر قاتل کی طرح سرایت کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے برے کی تمیز و تہذیب ختم ہوتی جا رہی ہے اور آزادی مارچ جیسی چیزیں جیسی تحریک سامنے آ رہی ہیں۔

کہتے ہیں نہ کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح بظاہر مغربی طرز زندگی میں دی گئی آزادی تعفن زدہ ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ ہماری نئی نسل کی دوری اسلام نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے اور آزادی کے نام پر فحاشی کا پردہ ڈال دیا ہے جو زندگی سے بھر پور ہے اور وہ اس زندگی کو اپنا نے اس کی تقلید میں وہی نعرے لگا رہے ہیں جو ان کے خلاف ان کی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اسلام نے عورت کو ایک نسل کو جنم دینے کا مرتبہ دیا ہے کہا جاتا ہے کہ اگر مرد برا ہو تو وہ خود برا ہے لیکن اگر ایک عورت بری ہے تو وہ ایک نسل کو برا بنانے کا سبب بنتی ہے اس کی ذمہ دار ہوتی ہے کیوں کہ انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے اسلام نے عورت کو عظیم الشان مقام و مرتبہ سے نوازا ہے اسلام نے عورت کو ایک پوشیدہ چیز سے تشبیہ دی ہے۔ اور اسے پردے کا حکم دیا ہے اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے بھی روکا ہے۔

قرآن پاک میں سورہ احزاب میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : ”اور تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور عہد جاہلیت کا اظہار زینت نہ کرو۔“

ایک جگہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ : ”ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔“

عورت کا یہ تحفظ دین اسلام کے دشمنوں سے ہضم نہیں ہوتا اور وہ مسلسل اس پر مصر رہتے ہیں کہ عورت کو اس کے گھر کے تحفظ سے نکال کا زمانے کی گندی نظروں میں بے سرو سامان لا کر کھڑا کر دے اور عورت کو اسلامی تعلیمات سے باہر کر سکے جس کے لیے عورت کی آزادی کے نام پر احتجاج اور مارچ کیے جا رہے ہیں۔ کبھی آزادی اور برابری کے حقوق کے نام پر اور آزادی نسواں کے نعرے لگا کر بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے مزاحیہ تو عورت کے حقوق کی بات لگتی ہے لیکن اس کا درپردہ مقصد اخلاقیات کو ختم کر کے دین اسلام کی بنیادی اخلاقیات اور اعلی اقدار کو زوال پذیر کرنا ہے۔

عورت کو گھر کے تحفظ سے نکال کر لذت و شہوت رانی کے بازاروں میں بکنے والا مال بنانا ہے ان کی نظر میں عورت اپنے گھر کے معاملات اور اولاد کی تربیت کے سلسلے میں آزاد ہے اور کمانے اور برابری کے حقوق کے نام پر دوسروں کی نگاہوں میں تحقیر زدہ ہونا آزادی نسواں ہے۔ چاہے اس میں اس کو اپنی عفت و عصمت سے اخلاق و کردار سے کیوں نہ ہاتھ دھونے پڑیں۔

اسلام کی رو سے ایسے آزادی مارچ کی مذمت کی جاتی ہے جو آزادی کے نام پر عورت سے اس کی عزت اس کے بخار کا سودا کرنے کا کہتی ہے اسلام میں عورت کو نئی نسل کو پروان چڑھانے کا فریضہ دیا ہے اس کو زندگی کے کسی بھی شعبے میں اپنا ہونا دکھانے سے نہیں روکا ہے لیکن اخلاقیات کی پاسداری اپنی عزت حرمت کی حفاظت کا بھی پابند کیا ہے اپنے گھر کی تشکیل کی ذمہ داری بھی دی ہمیں مغرب کی ان چالوں کو سمجھ کر آزادی کے نام پر مانگی جانے والی غیر اخلاقی اقدار سے بچنا ہیں اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھ کر عمل کرنا ہے ورنہ پچھلی زوال پذیر قوموں کی طرح ہمیں بھی تباہی اور بربادی کے دہانے تک جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا اسلام ایک عالم گیر اور آفاقی دین ہے جہاں ہر کسی کے حقوق و فرائض کا تعین انصاف کے ساتھ کیا گیا ہے ہمیں مغرب کی اس آزادی مارچ کے درپردہ گھناؤنے مقاصد کو پورا ہونے سے روکنا ہے اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے اور برائیوں اور فسادی فتنہ کے شر سے سے محفوظ فرمائے ہمارے ملک کو مکمل اسلامی ریاست بنا کر تا قیامت کے لیے تاریخ کے سنہری اوراق میں امر کر دے ہم سب کا خاتمہ بالخیر ہو آمین ثم آمین۔
(ادارہ اس مضمون کو اختلاف رائے کا حق رکھتے ہوئے شائع کر رہا ہے)

Facebook Comments HS