جنوبی ایشیا پیوٹن کے ساتھ کھڑا ہے
بالآخر بدھ کے روز، دنیا کے 193 میں سے 141 ممالک نے یوکرین پر حملہ کرنے پر روس کی مذمت کی اور طاقت کے بے جا استعمال کو روکنے کا کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ مطالبہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ایک غیر معمولی اجلاس میں ایک قرار داد کی شکل میں کیا۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت جنوبی ایشیائی ممالک نے ووٹنگ سے اجتناب کیا جس کا فائدہ روس کو ہوا۔
پاکستان اور بھارت کو یورپی یونین (EU) اور امریکہ (US) کی جانب سے ”صحیح کام کرنے“ کے لیے بے پناہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا لیکن دباؤ کی نوعیت مختلف تھی۔ اسی طرح ان ممالک اور روس کے تعلقات کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ پاکستان نے بس حال ہی میں روس کے لئے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اسے شدید سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہندوستان ایک طویل عرصے سے روس کا ساتھی ہے لیکن اسے ہلکے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
ابتدائی بات یہ ہے کہ چین اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مل کے ہندوستان نے یوکرین پر روسی حملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر معمولی اجلاس کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گزشتہ اتوار کو ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ اور 10 اور ممالک نے جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا لیکن بھارت ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اگلے دن پیر کو 1950 کے بعد سے اپنی نوعیت کا 11 واں نادر جنرل اسمبلی اجلاس شروع ہوا۔ اس کا اہم مرحلہ بدھ کو ہوا جب اقوام متحدہ کے ارکان کی بھاری اکثریت نے روس کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔
اجلاس کے اس مرحلے سے ایک روز قبل اسلام آباد میں 20 سے زائد ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز نے ایک مشترکہ پریس بیان جاری کیا جس میں پاکستان سے روس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ان میں یورپی یونین کے ممالک مثلاً آسٹریا، بیلجیم، بلغاریہ، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، اٹلی، پرتگال، پولینڈ، رومانیہ، اسپین، سویڈن اور ہالینڈ کے سفیر شامل ہیں۔ یورپی یونین کے وفد کے سربراہ، جاپان، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر، کینیڈا اور برطانیہ کے ہائی کمشنرز اور آسٹریلیا کے چارج ڈی افیئرز بھی شامل ہیں۔
نیوزی لینڈ ان ممالک کے ساتھ نہیں تھا جو حیران کن ہے کیونکہ اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ نیوزی لینڈ عموما آسٹریلیا کے پیچھے چلتا ہے اور یہ اس کی کسی حد مجبوری بھی ہے۔
ان ممالک کے ساتھ چلنے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پچھلے سال ان میں سے کچھ ممالک اور امریکہ کے سفیروں نے ترکی میں ایک اپوزیشن لیڈر کو متعدد الزامات میں قید کرنے کے خلاف بیان جاری کیا تھا۔ مشترکہ بیان میں ان سفیروں نے کہا کہ قید انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
لیکن صدر رجب طیب اردگان نے اسے دوسری صورت میں دیکھا۔ انہوں نے اسے ترکی کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور ترک وزارت خارجہ کو حکم دیا کہ وہ ان تمام کو پرسنل نان گراٹا (نا پسندیدہ شخصیت) قرار دے کیونکہ یہ سب ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے۔
کسی کو بھی اس ردعمل کی توقع نہیں تھی اور پھر ان تمام سفیروں نے اردگان سے معافی مانگی اور اس عزم کو تازہ کیا کہ وہ آئندہ ترکی کے اندرونی معاملات میں مزید مداخلت نہیں کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان اردگان کی پیروی کر سکتے ہیں۔ وہ اکثر اردوگان کی مثالیں بھی دیتے ہیں۔ یہ دونوں لیڈر حدود سے تجاوز کرنے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔ یقیناً، خان نے پہلے ہی یہ باور کرانے میں کوئی شک نہیں چھوڑا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو خطے میں مغربی پالیسیوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، ان کے بار بار بیانات نے قومی میڈیا میں بہت ہلچل مچا رکھی ہے۔
اپنے عوامی خطابات اور بیانات میں وہ امریکہ کی علاقائی پالیسیوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ افغان جنگ ڈالروں کے لیے لڑی گئی اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکا نے اسے دہشت گردی کا نام دیا۔ وہ مسلسل کابل میں طالبان حکومت کے لیے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن امریکا ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کر رہا۔ اس کے باوجود، افغانستان کے اقوام متحدہ میں موجود نمائندوں نے پاکستان کے بر عکس روسی جارحیت کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
اگرچہ خان کے دورے کے بعد روس کے ساتھ معاہدوں کی کوئی تحریری دستاویز سامنے نہیں آئی ہے، لیکن وزیر اعظم عوامی طور پر ان توانائی اور سیکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو روس سے مل سکتا ہے۔
انہوں نے ماسکو میں اس وقت جانے کا بھی فیصلہ کیا جب روس نے یوکرین پر حملہ شروع کیا۔
اس حد تک جانے کے بعد ، اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ خان یورپی یونین کے سفیروں کی درخواست پر پیچھے ہٹ جائیں اور روس کی مذمت کریں۔ سو ایسا ہوا بھی نہیں۔ لیکن پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں ان کے طاقتور حامیوں اور مشیروں میں شاید ہی کوئی روسی شہری ملے۔ وہ زیادہ تر یورپی اور امریکی شہری ہیں جن کے بڑے پاکستان چھوڑ گئے تھے۔
یورپ اور امریکہ کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان کے شہری پاکستانی وزیر اعظم کو کیوں روس کی جانب دھکیل رہے ہیں اور وہ کیوں وزیر اعظم کو اپنے ملکوں کے سفیروں کی بات ماننے کا نہیں کہ رہے۔
اس کے برعکس، ہندوستان میں ان سفیروں نے ایسا کوئی تحریری مطالبہ نہیں کیا باوجود اس کے کہ UNSC کی ووٹنگ میں ہندوستان کی عدم شرکت واضح طور پر مغربی ممالک کے خلاف روس کی حمایت کی علامت تھی۔ مزید یہ کے ہندوستانیوں کو جنگ زدہ یوکرین چھوڑنے میں مدد کرنے پر پولینڈ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے لکھے گئے خط میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندرا مودی نے روس کا نام لیے بغیر امن کی بات کی ہے۔
ایک اور ناقابل فہم حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی یورپ اور امریکہ میں پاکستانیوں سے زیادہ ترقی کرتے ہیں اور بیرون ملک مقیم ہندوستانی بہت پرجوش انداز میں مودی کی حمایت نہیں کرتے۔ سلامتی کونسل میں ہندوستان چین کے ساتھ کھڑا ہے لیکن امریکہ اور یورپی جہازوں کے ساتھ جنوبی بحیرہ چین کی نگرانی بھی کرتا ہے۔ بھارت کی روس کے جنگی مواد پر انحصار کی ایک طویل تاریخ ہے جسے کھلے عام پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔
پاکستان نے ایسا کچھ نہیں کیا اور روس سے اس کے تعلقات تازہ ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ اور یورپی ممالک نے انڈو پیسیفک پالیسیاں بنائی ہیں جن میں ہندوستان کا ذکر بہت زیادہ اور پاکستان کا ذکر بہت کم ہے۔
خان کے دورہ ماسکو سے پہلے اسلام آباد میں سوشل میڈیا پر بہت کم مغربی سفارت کار روس پر کھل کر تنقید کر رہے تھے۔ وہ بظاہر خان کے روس کی طرف جھکاؤ کو ذہن میں رکھتے ہوئے لیکن اب انہوں نے عوامی سطح پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہ انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے تمام نفیس سفارتی آپشنز ختم کر چکے تھے۔ یہ ہماری خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی کے جادوگروں کی طرف سے پاکستان کے دیرینہ یورپی یونین کے دوستوں کے لئے عدم احترام کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر حسن شہزاد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ابلاغیات کے پروفیسر ہیں اور ان کا یہ کالم ایڈیٹ ہو کے بول انگلش میں چھپا ہے


