میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے


صحافت میں آنے کے بعد روزانہ صبح دو، تین اخبارات پڑھنا عادت بنالی تھی، سینئرز نے مشورہ دیا کہ اگر صحافت میں رہنا ہے تو اخبارات کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے، دو دہائی قبل اخبارات کا مطالعہ صحافی کے لئے ضروری ہی نہیں بلکہ مجبوری ہوتا تھا کیونکہ معلومات کے اور ذرائع میسر نہ تھے، موبائل جیسا عذاب نہ تھا، ویب سائٹس بھی نہ تھی اور ٹی وی چینلز کا سونامی بھی نہ تھا، اب اخبارات پڑھنا مجبوری نہیں رہی، رات کو ٹی وی چینلز کا ایک خبر نامہ سن لیں، صبح تمام اخبارات اسی طرح کی سرخیوں کے ساتھ چھپے ملیں گے اس لئے اب ان میں دلچسپی ہی نہیں رہی

تین برس سے ”ہم سب“ کی ویب سائٹ کا قاری ہوں، یہاں اچھی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں، اس لئے اس کا مستقل قاری بن گیا، کیونکہ اب زیادہ خبریں واٹس ایپ اور ٹویٹر سے ہی مل جاتی ہیں، پڑھنے کا ٹھرک تو تھا ہی مگر لکھنے کی بیماری سے محفوظ رہا، بہت کم لکھا کرتا تھا، یہاں بعض خواتین کی تحریریں مسلسل مردوں کو گھٹیا، کمینہ، بے غیرت، ہوس کا مارا، خصی اور نجانے کیا کیا ثابت کرنے کے لئے باقاعدگی سے لکھی جاتی ہیں

عورتیں جس طرح اپنی معصومیت اور پاکیزگی کا رونا رو رو کر کرتی ہیں، اس سے لوگ ان کے آنسوؤں سے متاثر ہو کر ان کو معصوم اور مظلوم سمجھنے لگتے ہیں بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ نوعمر لڑکیوں کے ذہنوں میں مرد کے بارے میں منفی تاثر قائم ہو جاتا ہے جس کو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا کر اپنی جیون ساتھی کو بھی اسی قماش کا سمجھ کر اس سے نفرت کرتی ہے اور اپنا گھر اجاڑ بیٹھتی ہیں

میڈیا میں رہتے ہوئے لاکھوں کہانیاں پڑھ چکے اور چھاپ چکے ہیں، ان واقعات کا اختتام یہی ہوتا ہے کہ جنسی ہراسانی کا موقع عورت کی جانب سے ہی دیا گیا تھا، ”باغی“ خواتین کی اس بات سے متفق ہوں کہ جنسی تعلق بنانے یا نہ بنانے میں عورت کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے اگر عورت نہیں چاہتی تو زبردستی کرنا حیوانیت ہے مگر یہاں تک بات پہنچنے کی نوبت کا موقع بھی عورت کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے

عورت کو معصوم، مظلوم سمجھنے والی لکھاری خواتین کبھی بیگو ایپ کھول لیں، پھر بتائیں کہ اس میں قصور وار مرد ہے یا عورت، جو نہیں جانتے کہ بیگو ایپ کیا ہے تو ان کے لئے عرض ہے یہ جدید دور کے کوٹھے ہیں ان کو ڈیجیٹل کوٹھے کہہ لیں، اس ایپ پر خواتین رات کے پچھلے پہر اپنے سینوں پر کیمرے فوکس کر کے اور ٹائٹس پہن کر ایک ٹانگ اٹھا کر پوز بنا کر مردوں سے جو گفتگو فرماتی ہیں وہ بھی سن لیں، وہاں خواتین ٹائٹس پہن کر کیمرہ ٹانگوں پر فوکس کرتی ہیں اور بیک گراؤنڈ میں گانا چل رہا ہوتا ہے، ببلو پا۔ اور ساتھ ٹانگیں کھولتی بھی ہیں، یہ سب دیکھ اور سن کر یہی خواتین یہ گانا گانا شروع کر دیں گی ”توبہ توبہ کرا دتی توں ظالما“ ، قصور بے غیرت مردوں کا ہے جو سیکڑوں کی تعداد میں اس براڈ کاسٹر کی براڈ پر بیٹھتے ہیں، پھر ان کے عاشق ہزاروں روپے کے ڈائمنڈ خرید کر ان کو سینڈ کرتے ہیں

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، خواتین یہ اعتراض تو کرتی ہیں کہ ان کو واٹس ایپ ہر ڈک کی تصویر بھیج دی جاتی ہے، ایک رات کا کیا لو گی؟ کا پوچھا جاتا ہے، اب ان کو کیا بتایا جائے یہ کام ہم معصوم مردوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے، خواتین چہرہ چھپا کر اپنے جسم کے نچلے حصے کی فل برہنہ تصاویر میسنجر پر بھیجتی ہیں اور لکھتی ہیں، WAXED BODY

ایسی خواتین کو جواب نہ دیا جائے یعنی اگنور کر دیا جائے تو اگلے روز پوچھتی ہیں، مرد نہیں ہو، خصی ہو، اب ان کو کیا بتایا جائے کہ عمر گزری ہے اس دشت کی سیاہی میں، رات دو بجے ڈیوٹی کر کے گھر جاتے ہوئے سڑکوں پر اندھیرے میں کھڑی عورتیں جو لباس پہن کر اشارے کرتی ہیں، ان سے پوچھنا تو فرض ہے نا کہ ایک رات کا کیا لو گی؟ ، وہ بیس ہزار سے شروع ہوتی ہے اور پندرہ منٹ کی ڈیل کے بعد دو ہزار روپے پر مان جاتی ہے، اس میں بھی مرد کا ہی قصور ہے کہ وہ اس کا ریٹ کیوں لگا رہا ہے

مرد کی اتنی جرات کبھی ہوتی جب تک عورت اس کو رات گئے اپنے گھر نہ بلائے اور گھر داخل ہونے کا راستہ بھی نہ بتائے، پھر رات بھر مزے کرنے کے بعد صبح اٹھ کر مرد کو گالیاں بھی دیتی ہیں، ہوسٹل میں رہنے والی خودمختار عورتیں اگر مردوں کے ساتھ پیکیج ڈیل کر کے ایک ہفتے کے ہنی مون پر نہ جائیں تو مرد کی جرات ہی نہیں کہ وہ عورت کی طرف دیکھ سکے، یہ ٹپہ شاید اسی لئے بنایا گیا ہے، ”تیری میری یاری ہو گئی اک سوڈے دی بوتل تے“

ہمارے مذہب اور معاشرتی روایات کی کچھ پابندیاں ہیں، انسان ان پابندیوں سے آزاد رہے گا تو یہی مسائل پیدا ہوتے ہیں، یہی کچھ مغرب نے کیا آج ان کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہیں جہاں اکثر بچے حرام کے پیدا ہوتے ہیں جن کے والد کا ہی علم نہیں ہوتا، اللہ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، اچھائی برائی کی تمیز کرنے کی بھی صلاحیت اور عقل عطاء کی ہے، اس لئے چند پابندیاں ضروری ہیں جس سے زندگی ڈسپلن میں رہتی ہے

جن کو یہ پابندیاں پسند نہیں، ان کی اپنی مرضی ہے مگر وہ دوسروں کو تو خراب نہ کریں، ان کی مرضی ہے، ان کا جسم، ان کی مرضی ہے، وہ بغیر شادی بچے پیدا کریں مگر نسلیں خراب نہ کریں، خودمختار عورت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان پابندیوں سے آزاد ہو گئی ہیں، ہر جگہ کا ایک ماحول ہوتا ہے، جس کے مطابق انسان کو وہاں جانا چاہیے، دفاتر یا بازاروں میں عورت لو نیک گلہ اور کیپری پہن کر چلی جائے اور امید رکھے کہ مرد ان کو دیکھ کر نظر نیچی کر لیں تو یہ نہیں ہو سکتا ، اسلام نے ان حالات میں مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم بھی دیا ہے مگر یہاں حلال، حرام کی تمیز اب کس کو رہ گئی ہے

استاد نے نوعمری میں پہلا سبق ہی یہ دیا تھا کہ دیکھو بیٹا انجوائے اپنے لئے کرنا، لوگوں کا دکھانے کے لئے نہیں، میں نے سوال کیا وجہ؟ تو استاد نے کہا اس کا یہی جواب ہے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنا، ہر معاشرے میں مرد و خواتین کی کچھ تعداد ہوتی ہے جو معاشرتی پابندیوں کا لحاظ نہیں کرتیں جس کی وجہ سے یہ باتیں سامنے آتی ہیں، ان معاملات میں کیونکہ چسکا ہوتا ہے اس لئے یہ بات زیادہ مشہور ہوجاتی ہے

انسان کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے مگر وہ دوسرے کو مجبور نہیں کر سکتا ہے کہ جو اس کے redicalنظریات ہیں سب اس کے مطابق ہی چلیں، میری زندگی کا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جب تک عورت کی طرف سے پہل نہ ہو، بات آگے بڑھ ہی نہیں سکتی، عورت معصومیت اور مظلومیت کا رونا چھوڑ کر زندگی کو اصولوں کے مطابق گزارے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ عورت خود تو ہر حد پار کر جائے اور مرد کچھ کرے تو وہ گھٹیا، کمینہ۔ انڈیا کی فلم کا ایک گانا ہے جس کا ایک مصرعہ ہے۔ میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے

  • 06/03/2022 at 11:15 شام
    Permalink

    well written

Comments are closed.