جب پاکستانی عورتیں سماجی تبدیلی کا حصہ بن گئیں
میرے لیے مخلص دوستوں کا ہر تحفہ قیمتی ہوتا ہے لیکن کتاب کا تحفہ تو میں کچھ اور بھی قیمتی سمجھتا ہوں۔ میرے دوست کامران احمد اور افشیں کامرین نے جب مجھے فوزیہ سعید کی کتاب
ON THEIR OWN TERMS
EARLY 21ST CENTURY WOMEN ’S MOVEMENTS IN PAKISTAN
دی تو میں بہت خوش ہوا۔ ان دنوں میں بلند اقبال کے ساتھ مل کر کینیڈا ون ٹی وی کے لیے مغربی عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی جدوجہد کے پروگرام تیار کر رہا تھا۔ اس تیاری کے دوران یہ جان کر میرے علم میں اضافہ ہوا کہ پچھلی دو صدیوں میں فیمنزم کی سماجی تحریک میں شامل عورتوں کا جن تحریکوں سے قریبی رشتہ تھا ان میں سیکولر ازم ’سوشلزم‘ کمیونزم ’انرکزم اور ہیومنزم کی تحریکیں بھی شامل تھیں۔
مغربی عورتوں کی جدوجہد کی کہانی پڑھ کر میرے دل میں مشرقی عورتوں اور خاص طور پر پاکستان کی جیالی ’بہادر اور نڈر خواتین کی جدوجہد کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے اور فوزیہ سعید کی کتاب نے ان سوالوں کے تسلی بخش جواب فراہم کیے۔
فوزیہ سعید کتاب کے دیباچے میں لکھتی ہیں کہ پاکستان میں پچھلی نسل کی نمائندہ خواتین بیگم جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ نے جس جدوجہد کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کی تھی یہ کتاب اسی جدوجہد کو آئندہ نسل کی لڑکیوں اور عورتوں تک پہنچانا چاہتی ہے تا کہ عورتوں کی آزادی و خود مختاری اور عزت نفس سے زندگی گزارنے کی یہ روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہے۔
فوزیہ سعید خود بھی ایک سماجی کارکن ہیں اور اس وقت سے فعال ہیں جب عورتوں کے سماجی کارکن بننے کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ فوزیہ سعید نے مغرب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشرقی عورتوں کی جدوجہد پر تحقیق کی اور اس تحقیق کے نتائج اپنی کتابوں اور مقالوں میں پیش کیے تا کہ مشرقی مرد اور عورتیں ان کوششوں کو جان اور پہچان سکیں اور ان کی کوششوں اور کامیابیوں کو سراہ سکیں۔
فوزیہ سعید نے ان تحریکوں کا مقابلہ ’جن کی مالی مدد مغربی ممالک کے اداروں نے کی‘ ان تحریکوں سے کیا ہے جن کی ابتدا دھرتی ماں کی کوکھ سے ہوئی اور جنہیں مقامی عورتوں نے پروان چڑھایا۔ انہوں نے اپنے تجربے ’مشاہدے اور مطالعے سے زمینی حقائق‘ سماجی مسائل اور عورتوں کی چار تحریکوں کی انفرادی اور سماجی نفسیات کا تجزیہ پیش کیا تا کہ آئندہ کی تحریکیں اس کی روشنی میں آگے بڑھ سکیں اور پاکستان میں عوام و خواص ایسے عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کر سکیں جن میں عورتیں نہ صرف مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل کر سکیں بلکہ اپنی خفیہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بھی کر سکیں۔
فوزیہ سعید اپنے قارئین کو بتاتی ہیں کہ جب معاشرے کا ایک ہمدرد گروہ اپنے سماجی مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے غور و تدبر کرتا ہے اور اپنے مسائل کو شعوری طور پر حل کرنے اور راستے کی تمام رکاوٹوں کا سمجھداری سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایک تحریک کی بنیاد پڑتی ہے اور اپنی منزل کی طرف رواں ہوتی ہے۔ ہر تحریک اپنے سماجی حالات کے ساتھ بدلتی ہے اور آخر میں اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔
فوزیہ سعید کہتی ہیں کہ عورتوں کی ان تحریکوں میں مرد بھی شامل تھے۔ بعض مرد شروع میں قائد بھی تھے لیکن انہوں نے عورتوں کا ساتھ دیا ان کی حوصلہ افزائی کی اور پوری کوشش کی کہ عورتیں ان تحریکوں کی قیادت کریں جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ اس طرح عورتوں نے اپنے مسائل کے حل تلاش کیے۔
یہ چار تحریکیں مندرجہ ذیل ہیں
پہلی تحریک جنوبی پنجاب کی PEASANT MOVEMENT تھی جس کا مقصد اراضی کے حقوق حاصل کرنا تھا
دوسری تحریک FISHFOLK MOVEMENT تھی جس کا مقصد عزت نفس سے زندگی گزارنا تھا
تیسری تحریک عورتوں کی HEALTH WORKER ’S MOVEMENT تھی جس کا مقصد عورتوں کا اپنی صحت کا مناسب خیال رکھنا تھا
اور چوتھی تحریک AASHA MOVEMENT تھی جس کا مقصد کام کرنے والی عورتوں کو نفسیاتی اور جنسی استحصال سے بچانا تھا۔
فوزیہ سعید نے اپنی کتاب میں ان تحریکوں کا تفصیل سے تجزیہ پیش کیا ہے۔
مثال کے طور پر آشا تحریک کا آغاز 2001 میں چند خواتین کی جدوجہد سے ہوا پھر آہستہ آہستہ اس تحریک کا دائرہ کار پھیلتا چلا گیا اور وہ تحریک ملک گیر ہو گئی۔ اس تحریک میں مختلف انسان دوست اور انسانی حقوق کے اداروں کے مردوں اور عورتوں نے شرکت کی اور بڑھاوا دیا۔ آخر میں اس تحریک کو پارلیمنٹ کا تعاون حاصل ہوا اور ایک ایسا قانون بنا جس میں ملک کے کسی بھی ادارے میں اگر کسی عورت کا نفسیاتی ’معاشرتی یا جنسی استحصال ہو تو وہ شکایت کر سکتی ہے تا کہ وہ ادارہ اس مسئلے کا حل تلاش کر سکے۔ اس تحریک نے عورتوں کو کام کرنے والے مختلف اداروں میں احساس تحفظ حاصل کرنے میں کافی مدد کی۔
کتاب کے آخر میں فوزیہ سعید نے ان تحریکوں کی کوششوں اور آزمائشوں سے سیکھے ہوئے اسباق درج کیے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے خضر راہ کا کام کریں گے۔
میری نگاہ میں یہ کتاب ان تمام مردوں اور عورتوں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو عورتوں کا احترام کرتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ وہ عزت نفس سے زندگی گزاریں اور انہیں پاکستان میں مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل ہوں۔
میری نگاہ میں پاکستانی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک عورتیں کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا اور وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے قابل نہیں ہوں گی۔
میں فوزیہ سعید کو پاکستانی عورتوں کی جدوجہد پر ایسی پرمغز کتاب لکھنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
میں کامران احمد اور افشیں کامران کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس کتاب کا قیمتی تحفہ دیا۔
کچھ عرصہ پیشتر فوزیہ سعید ایک کار کے حادثے کا شکار ہو گئی تھیں۔ اب وہ صحت مندی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ میری سیکولر دعا ہے کہ ان کی جسمانی و ذہنی صحت مکمل طور پر لوٹ آئے تا کہ وہ خدمت خلق کے کام کو جاری کر سکیں۔
فوزیہ سعید بھی عاصمہ جہانگیر کی طرح بہت سی پاکستانی لڑکیوں اور عورتوں کا رول ماڈل ہیں اور ہر پاکستانی کو ایسی دلیر اور بہادر عورتوں پر فخر کرنا چاہیے۔




