کچھ تلخ نظموں کی معیت میں۔ ۔ ۔



بہار کی ایک سہ پہر فیض آباد کے ایک ہوٹل میں ذیشان حیدر اور میں بیٹھے تھے۔ مجھے ذیشان نے کسی سلمان حیدر کی ایک نظم سنائی جس کا عنوان آخری رجز تھا۔ اس نظم نے اپنے لکھنے والے کا تعارف مجھ تک پہنچا دیا کہ لکھنے والا خود کو مرنے والوں کے قبیلے سے جوڑتا ہے نہ کہ تلواریں لیے رتھوں پہ قبائیں عبائیں پہنے قبضہ گیروں کے ساتھ۔ شعر میں یوں تو کئی ایک خود کو اسی قبیلے کا فرد گردانتے ہیں مگر ان کا طرز عمل کچھ اس کے خلاف ہی چلا جاتا ہے۔ اس نظم اور نظم کے شاعر سے میری پہلی شناسائی ہی بہت اچھے ماحول میں ہوئی۔ مگر اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس نظم کا شاعر کس قدر دل کے قریب آ جانے والا ہے۔ خیر، وقت گزرتا رہا اور گاہے گاہے اس کوئی سلمان حیدر کی نظمیں نظر سے گزرتی رہیں اور یہ کوئی سلمان حیدر، سلمان بھائی بن گیا۔

سلمان پر افتاد کا ایک سلسلہ آغاز ہوا اور اس افتاد کے بعد ہجرت ایسی افتاد۔ سلمان نے زندہ رہنا اور لکھنا جاری رکھا۔ اب یہ سطریں لکھتے ہوئے سلمان حیدر کی کتاب میرے سامنے کھلی ہوئی ہے اور میں ان نظموں کے باطن میں سفر کر رہا ہوں۔ یہ سفر پہلودار بھی ہے اور پیچ دار بھی۔ میری لاچاری کہ نہ میں نقاد ہوں اور نہ ہی باریک بین قاری۔ مگر ان نظموں میں کچھ ایسی بات ہے جو مجبور کر رہی ہے کہ اس سفر کے تجربے میں دوسروں کو بھی شریک کیا جائے۔ سو یہ تحریر بس ایک تجربے میں شرکت کی دعوت ہی ہے۔ سردست یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ نئی نظم میرے لیے ہمیشہ ایک معما ہی رہی ہے، پڑھتے ہوئے بھی اور کہتے ہوئے بھی۔ اس نظم کو کیسے حل کیا جائے اس سوال کا جواب کم از کم میرے پاس، آج بھی نہیں ہے۔ نئی نظم کے اس بہاؤ اور الجھاؤ کے درمیان حاشیے پر لکھی نظمیں میرے ہاتھ لگتی ہے تو میں اس کو بھی سلجھانے کی کاوش میں لگ جاتا ہوں (یہ جانتے بوجھتے کہ میں ایسا کر نہیں پاؤں گا)۔

چلیے ہم کتاب کی جانب بڑھتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس شاعر کا بنیادی سروکار ہے کیا؟

اس آب و ہوا میں جب ہمارے اچھے خاصے سنجیدہ اور قابل احترام شعر گو دربار کے بلاوے کے منتظر رہتے ہیں اور دربار کا بلاوا ملنے کو شرف کا باعث سمجھتے ہیں، یہ شاعر اس آب و ہوا میں گھلتے زہر سے زخم خوردہ ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے نتیجے میں خود اپنی ذات میں در آنے والی اذیت کی تشخیص کر کے اس سے جان چھڑوائے اور محبت جو اس کی منزل ہے، خواب ہے اس کی اور بڑھ جائے۔ اس کے خواب کا راستہ ایک آزار رساں حقیقت سے ہو کے گزرتا ہے۔ اور اسے اپنے خواب تک پہنچنے کے لیے اس آزار رساں حقیقت کے کانٹے راستے سے صاف کرنے ہوں گے۔ سو وہ ان کانٹوں کو چنتا ہے اور ان کانٹوں کو چنتے ہوئے اس کے ہاتھ خون آلود ہو جاتے ہیں اور زخم سینے کے اندر لو دینے لگتا ہے۔

سلمان کی نظمیں الجھی ہوئی ہیں۔ جب ان کو سلجھانے نکلتے ہیں تو ہاتھ خون آلود ہو جاتے ہیں اور اگر ذرا غور سے دیکھیں تو اس خون میں ہمارے علاوہ بھی کسی کا خون چمک دیتا ہے۔ یہ چمک دیکھ لینے والے دل بھی اس زخم سے اپنا اپنا حصہ پاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ادب کے پیچھے لاحقے لگا کر اسے مسلسل نعرہ بازی بنایا جاتا رہا ہے، لیکن ہمیں سلمان کی نظمیں پڑھتے ہوئے بہت محتاط رہنا ہو گا کہ یہ نظمیں ایسی نہیں کہ ان کے شاعر کو کسی ایک کھونٹے سے باندھ کر اپنی سہل پسندی کو داد دے لی جائے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ نہ شاعری کے ساتھ انصاف ہو گا نہ سلمان کے ساتھ۔ بات کہیں کی کہیں نکل گئی۔ خیر، سلمان کا سروکار شاید وہ تعطل ہے جس کے بیچ ہم ٹھہر گئے ہیں۔ اس تعطل میں کئی جیتے جاگتے انسان ہمارے سامنے کھو جاتے ہیں۔ اگر سلمان ان کا نوحہ پڑھ کے گزر جاتا تو شاید وہ ایک اچھا رپورتاژ تو بنتا، شاعری نہیں۔ سلمان اس گمشدگی کے دوران دیکھنے والوں کے اندر جو ایک شے گم ہوتی جاتی ہے اس کے پرسان حال میں لگ جاتا ہے۔ یہیں خبر شاعری بننے لگتی ہے۔ ذرا ایک نظر یہ سطریں تو دیکھیے :۔

ابھی میرے دوستوں کے دوست لاپتہ ہو رہے ہیں
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد ۔ ۔ ۔ میں

اب ذرا مجید امجد کی نظم سانحات کو دھیان میں لائیے اور اس نظم کے یہ مصرعے دیکھیے :۔
کوئی بھی واقعہ کبھی تنہا نہیں ہوا
ہر سانحہ اک الجھی ہوئی واردات ہے

سلمان کی سطروں کا متکلم اس دنیا کا فرد ہے جو اس میں بسنے والے کروڑوں انسانوں سے متصل ہے۔ یہ کڑیاں جو اس نے قائم کی ہیں، جن کا اختتام اس کی ذات پہ ہوتا ہے دراصل اسی حس تعلق کا شاخسانہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہے۔ کتاب کے دیباچے میں سلمان نے خود کو ایک خوف زدہ آدمی بتایا ہے لیکن یہ خوف دراصل اس کی ذات میں موجود ان ناموں کی گرہ کا خوف ہے جو نام اس سے پیوست ہیں۔

ان نظموں میں جمالیاتی تصور وہی معاشرے کا لگا بندھا جمالیاتی تصور نہیں ہے۔ یہ نظمیں کونسٹرکٹڈ جمالیات کے دائرے سے باہر جست بھر کے ان گوشوں کی اور بھی لپکتی ہیں جن کی گنجائش ہمارے ادب اور معاشرے میں کچھ زیادہ نہیں رکھی گئی۔ ذرا ایک اور نظم کی چند سطریں دیکھیے :۔

وہ اپنے باپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے
گمشدگی کی عمر کو پہنچ گیا تھا
اس نے اپنا بچپن ان سرمئی سڑکوں پر گزارا
جو آبادیوں اور ویرانوں کو
قیدیوں کی طرح آپس میں باندھے رکھتی ہیں
ہوا نے اس کے ساتھ سسکیاں بھریں
اور پہاڑوں نے اس کے بین دہرا دیے
ویرانوں نے اپنا سناٹا اس کے ساتھ کر دیا
(آنکھوں سے بہتی دعا)

ان سطروں میں ہوا، پہاڑ اور سناٹے ایک پورے خطہ زمین کا مزاج اور اس میں گندھی ہوئی کیفیات قاری کے ہمراہ کر دیتے ہیں۔ لفظ اپنے لغوی اور روایتی معنی سے کچھ بڑے ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ پھر اس نظم کا فکری سروکار وہ ہے جس کے اظہار پہ جابجا قدغنیں بٹھا دی گئی ہیں۔

سلمان کی نظمیں قرات کے دوران اور پس از قرات قاری کی حسیات اور ذہن میں بیک وقت ایک ڈسٹربینس پیدا کرتی ہیں۔ اور بجائے خالص ذہنی سرگرمی کے حسیات کو متوجہ کر کے اپنے تجربے میں شریک ہو جانے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ رویہ گزشتہ دو دہائیوں کی اردو شاعری میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ کہتا ہے :۔

ہوا گلیوں میں ان بچوں کو ڈھونڈتی ہے
جن کے بال اسے بگاڑنے تھے
وہ غصے میں کھڑکیوں کے کواڑ جھنجھناتی لوٹ جائے گی
بچوں نے ماؤں سے معاہدہ کر لیا ہے
ایمبولینس کے ہوٹر کی آواز نکالنے پر وہ نہیں ڈانٹیں گی
اور دوستوں سے ملنے کی بچے ضد نہیں کریں گے
(ہوا کے ہاتھ آخری خط)

یہ نظمیں گرد و پیش کی بکھرتی ہوئی بے چینی کے انسانی ذات میں سرایت کر جانے کے المیے سے جنم لیتی ہیں۔ گردوپیش، جو ایک تعطل ایک عجیب و غریب اور آزار رساں بیگار سے بھرا پڑا ہے۔

سلمان نے ہیئت کے حوالے سے بیشتر نثری نظم کو اختیار کیا ہے مگر ورق پلٹتے پلٹتے ہمارا سامنا اس کی آزاد نظموں سے بھی ہو جاتا ہے اور جب ان آزاد نظموں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان نظموں میں بیشتر ایسی نظمیں ہیں جنہیں ہم سلمان کے خواب یعنی محبت کی نظمیں کہہ سکتے ہیں۔ یہ نظمیں ہمیں بتاتی ہیں کہ شاعر اس خاردار حقیقت سے گزرتے ہوئے اور زخم زخم ہوتے ہوئے بھی اپنے خواب سے گریزاں نہیں ہوا۔ وہ مدھم مدھم لے اور ردھم میں محبت کے یہ گیت لکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے :۔

محبت روایت نہیں ہے
محبت وہ پامال رستہ نہیں ہے
کہ آتے ہوئے موڑ کی ہر خبر
کرم خوردہ کتابوں کے بوسیدہ صفحوں کی
دھندلی لکیروں میں چھپ چھپ کے عریاں ہوئی ہے۔
(روایت نہیں ہے )

نظم پڑھتے ہوئے ان آنکھوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو محبت کو بھی کسے لگے بندھے رواج کے تحت دیکھنے پر آمادہ نہیں۔ ان پوروں کو محسوس کیا جا سکتا ہے جن سے خون ٹپک رہا ہے لیکن وہ مسلسل اپنے خواب کی جانب رواں ہیں۔

خواب کی جانب دوڑتے ہوئے ایک حساس انسان اس خارزار حقیقت میں کیا سے کیا ہو جاتا ہے سلمان ہمیں بتاتا ہے :۔

تمہارے کسے ہوئے بدن سے تازہ چنی ہوئی کپاس کی خوشبو اٹھتی ہے
میں تمہیں دھاگے کے لچھے کی ایک سرے سے تھامتا ہوں
اور تم پہلو بدلتی صوفے پر بکھرنے لگتی ہو
تمہیں میں نہیں میری نظمیں پسند ہیں
میں اپنی نظموں کے علاوہ جو کچھ ہوں
وہ ان نظموں اور ہمارے سامنے رکھی کافی سے زیادہ تلخ ہے۔
(سیکنڈ کپ)

سلمان کی بنائی ہوئی دنیا کا خمیر اسی آس پاس کی دنیا، اس کے دکھوں، اس کی کہانیوں سے اٹھا ہے سو وہ تلمیح اٹھانے دور دراز کے ریگستانوں یا مراکز کی طرف جانے کے بجائے ایک مقامی اسطورے کی ساخت میں لگ جا تا ہے۔ اس کی نظموں آنکھوں سے بہتی دعا یا قصہ گو کا المیہ خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔ وہ کہتا ہے :۔

وہ مجھ سے اپنے اجداد کا قصہ سننا چاہتے ہیں
جس کے ختم ہونے پر
وہ مقدس کتاب کا حوالہ دے کر
پہاڑوں سے اتارے گئے قبیلوں کی طرف کوچ کر جائیں گے

کن لوگوں نے کسے مقدس کتاب کا حوالہ دے کر پہاڑوں سے اتارا اور پھر کیا ہوا، یہ تاریخ کا ایک باب تو ہے ہی مگر سلمان نے اسے ایک شعری پیراڈائم کا حصہ بنا کر ہمارے لیے کئی اور پہلو وا کر دیے ہیں۔

میں شاید اب تک کسی کی کتاب کا مضمون یا تبصرہ اسی لیے نہیں لکھ سکا کیونکہ میں سمجھ نہیں پاتا کہ ہم خوابوں پر کلام کرتے کرتے میں بھی الجھ سا گیا ہوں۔ ہاں! ہم اتنا ضرور جان لیتے ہیں کہ سلمان کو اپنے دکھ عزیز ہیں۔ وہ ان دکھوں کو بسر کرتا ہے اور ایک متوازی تاریخ کا حصہ بھی بناتا جاتا ہے۔ وہ محبتیں کرتا ہے تو ان محبتوں کو یہ خارزار حقیقت اسی طرح ڈسٹرب کرنے لگتا ہے جیسے اس کی شاعری ہمیں۔ سلمان اس آزار رساں حقیقت سے مزاحم ہوتا ہے تو ہمیں اسی روایت کا ایک تابندہ فرد لگتا ہے جس کے بنیاد گزار شاہ حسین، بابا بلھے شاہ اور وہ سب لوگ تھے جنہوں نے ملا شاہی کے مذہب اور مذہبی اقدار سے بغاوت کی اور محبت کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کی سعی۔ سلمان کی یہ کتاب ہمیں محض ہماری معروضی حقیقتوں سے نہیں جوڑتی بلکہ ان حقیقتوں کے بیچ پوشیدہ سلسلہ وار انہدام کے ذائقے سے بھی روشناس کراتی ہے۔ ان نظموں کو پڑھ کر ایک تلخی ہمارے تالو سے چمٹ جاتی ہے۔ ایسی تلخی جو بہت پہلے ہمارے رگ و پے میں اتر جانا چاہیے تھی۔ زمانہ اور گردش زمانہ بہت سفاک ہے، دیمک کی طرح لفظوں اور آوازوں کو چاٹ جاتا ہے، سو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کون باقی رہ جائے گا کسی ایک مصرعے، ایک شعر، ایک سطر کے باعث۔ لیکن جب بھی تاریخ پلٹ کر اس ستم زدہ عہد کو دیکھنا چاہے گی تو شاید اسے سلمان حیدر کی ان نظموں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

احسان اصغر
3مارچ 2022
شال کی ایک سہ پہر

Facebook Comments HS