جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات کا طریقہ کار، مسائل اور عوامی امنگیں


جنوبی کوریا کے 20 ویں صدارتی انتخابات رواں ہفتے 9 مارچ کو بدھ کے روز ہونے جا رہے ہیں۔ ملکی آئین کے مطابق ایک امیدوار صرف ایک بار ہی پانچ سال کی مدت کے لیے صدر بن سکتا ہے اور یہ صدارتی امیدوار ایک ہی بار کثرت رائے سے منتخب ہوتا ہے دوسری بار الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ جنوبی کوریا میں تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 2000 کی دہائی تک ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا۔ 2007 کے الیکشن میں ٹرن آؤٹ قدرے کم ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ 63 فیصد تھا۔ کوریا میں الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی انتخابات کی کمپین کا دورانیہ 22 دن کا ہوتا ہے۔

جنوبی کوریا میں الیکشن لڑنے والے امیدواران کو انتخابی نشان کی بجائے انتخابی نمبر الاٹ کیا جاتا ہے اور یہ نمبر الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن اپنے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی الاٹ کرتا ہے۔ رواں الیکشن میں کل 14 امیدوار صدارتی دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں لیکن حقیقت پسندانہ مقابلہ روایتی طور پر صرف پہلے دو امیدواران میں ہی ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی تیسرے اور چوتھے نمبر والا امیدوار پورے الیکشن کا پانسہ پلٹ دیتا ہے۔

اگر تیسرے اور چوتھے نمبر والا پہلے دو امیدواران میں سے کسی ایک کے حق میں دستبردار ہو جائے تو الیکشن کے نتائج کچھ واضح ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسے فیصلے کو لوگوں کی ایک کثیر تعداد ناپسند بھی کرتی ہے۔ اگر کبھی محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز خیال کیا جاتا تھا تو شاید اب سیاست بھی اس فہرست میں جگہ بنا چکی ہے۔

جنوبی کوریا میں الیکشن مہم کے مخصوص دن ہوتے ہیں اس دوران تمام امیدواروں کو اپنی اپنی مہم چلانا ہوتی ہے۔ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک مہم کا وقت مقرر ہوتا ہے، امیدوار کھلی جگہوں پر جلسے کرتے ہیں اور ان کے سپورٹرز مخصوص تیار کیا ہوا ایک چھوٹا ٹرک لے کر گھومتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ووٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ اسی طرح چوک چوراہوں میں امیدوار کے سپورٹر (جو زیادہ تر دیہاڑی دار ہوتے ہیں ) اپنے اپنے امیدوار کا پوسٹر پکڑ کر ہر آنے جانے والے کو سلام کرتے ہیں اور ووٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کی برابر سائز کی تصاویر نمبروں کے حساب سے مخصوص جگہوں پر لگانے کی اجازت دی ہوتی ہے۔ یہ تصاویری پوسٹر مقامی یونین کونسل لگاتی ہے نا کہ امیدوار خود۔

کوریا میں اب امریکی طرز کا الیکشن سے قبل صدارتی مکالمہ بھی شروع ہو چکا ہے جس میں ہر امیدوار اپنی جماعت اور اپنا ذہن عوام الناس کے سامنے رکھتا ہے۔ مکالمے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات پر ان امیدواروں کی روز کی مقبولیت کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ اعصاب شکن مشق الیکشن کے اختتام تک جاری رہتی ہے۔ ان مکالموں میں ہر پالیسی چاہے معیشت ہو یا خارجہ پالیسی پر کھل کر بات ہوتی ہے اور پینلسٹ ان امیدواران سے ہر ایشو پر سوالات کرتے ہیں۔

الیکشن میں لگائے گئے نعروں اور اس کے اثرات پر بات کرنے سے قبل ہم اس حالیہ انتخابی دنگل کے پہلے دو امیدواروں کے بارے میں اپنے قارئین کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان انتخابات میں پہلا نمبر مسٹر لی جے۔ مئیونگ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جو حکومتی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایت یافتہ ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پاور پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار مسٹر یون سوک۔ یؤل ہیں۔ (اب باقی ماندہ آرٹیکل میں ہم پہلے نمبر کے امیدوار کو مسٹر لی اور دوسرے نمبر کے امیدوار کو مسٹر یون لکھیں گے ) ۔

ڈیموکریٹک پارٹی آف کوریا کے امیدوار مسٹر لی کوریا کے ایک شہر سونگنام کے مئیر اور پھر صوبہ کھئیونگی کے گورنر رہ چکے ہیں۔ مسٹر لی گزشتہ الیکشن میں اپنی جماعت کے اندرونی الیکشن میں کوریا کے موجودہ صدر مسٹر مون سے ہار گئے تھے۔ جبکہ دوسرے نمبر کے امیدوار مسٹر یون سابق چیف پراسیکیوٹر جنرل ہیں۔ یہ صاحب سیاست میں نووارد ہیں لیکن اپنی کچھ صلاحیتوں کی وجہ سے بہت جلد ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

مسٹر یون کی شہرت ان کے بے باک بولنے اور پھر اپنے فیصلوں میں موجودہ صدر کی انتظامیہ پر سخت تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ سابق خاتون صدر کے جیل جانے پر ان کی پارٹی کو اپنا نام تبدیل کرنا پڑا تھا لہذا پارٹی کے نئے برانڈ کے ساتھ انہیں نئے چہرے کی بھی ضرورت تھی وہ ریٹائرڈ چیف پراسیکیوٹر جنرل مسٹر یون نے پوری کر دی۔ اور اس طرح وہ روایتی پارٹی کے روایتی ووٹرز کو اپنے گرد اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ خالصتاً وہی طریقہ تھا جو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کامیابی میں استعمال کیا تھا۔

کوریا کے الیکشن کو سمجھنے کے لیے یہاں کے سیاسی نظام کو ایک نظر دیکھنا ضروری ہے۔ کورین سیاسی نظام میں تین پہلو بہت اہم ہیں جن میں علاقائیت، یہاں کی سیاسی جماعتوں کا سسٹم اور موزوں امیدواروں کا انتخاب اہم ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح جنوبی کوریا میں بھی علاقے کے فیکٹر کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور قدامت پسند پیپلز پاور پارٹی ابھی تک علاقائی سپورٹ کو اولیت دیتے ہیں۔ تاریخی طور پر کوریا کا جنوب مشرقی حصہ قدامت پسندوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ جبکہ جنوب مغرب میں بسنے والے لوگ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

اس علاقائی تقسیم کی بھی تاریخی وجوہ ہیں۔ خطی سیاست و آبادیات کے محققین کے مطابق یہ معاشی و سیاسی تقسیم ساتویں صدی میں باجکے اور شیلا سلطنتوں کے درمیان بھی موجود تھی جو بعد میں سلطنت گوریو اور سلطنت جؤسن سے ہوتی ہوئی 1960 اور 1980 کے مارشلاؤں کے ادوار میں بھی رہی۔ اسی طرح موجودہ الیکشن کی کمپین میں بھی قدامت پسند امیدوار پوسان، السن، تھیگو اور صوبہ کھئیونگی کے شمالی و جنوبی علاقوں میں آگے ہیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ملک کے جنوب مغربی شہروں گوانگجو، جیجو اور صوبہ چھلا کے شمال اور جنوبی علاقوں میں پاپولر ہیں۔

کوریا میں سیاسی جماعتوں کی ہئیت اور ان کے فیصلے بھی صدارتی انتخابات پر بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ اگر تنقیدی حوالے سے دیکھا جائے تو کوریا کی سیاسی جماعتوں کا اندرونی ڈھانچے کوئی بہت زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ پئیو تحقیقاتی سنٹر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 84 فیصد کورین سمجھتے ہیں کہ جنوبی کوریا کی جمہوریت کوئی قابل رشک نہیں ہے اسے بہت بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے یا اسے مکمل طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر 2016 کے بعد قدامت پسند سیاستدانوں کے اندر ایک مسلسل ہنگامہ آرائی رہی ہے۔ اگر موجودہ پیپلز پاور پارٹی کا ہی جائزہ لیا جائے تو گزشتہ پانچ سالوں میں یہ جماعت مختلف اقسام کے وقتی میک۔ اپ کرتی تین بار مختلف ناموں سے دوبارہ سیاسی عمل میں کھڑی ہے۔ یہ جماعت کئی تقسیموں سے گزرتی کئی جماعتوں سے الحاق کرتی کئی جگہوں پر ضم ہو چکی ہے۔ اسی طرح کوریا میں امیدواران کا پارٹی تبدیل کر لینا اپنی جگہ درد سر ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خصوصاً نوجوان طبقہ ان سیاسی چالبازیوں سے تنگ آ چکا ہے جس کی وجہ سے لوگ غیر جانبداری کی طرف مائل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ اس غیر جانبداری کی بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کے آپسی الحاق اور نئے ناموں سے سیاست ہے جسے لوگ سیاسی شناخت کا بحران سمجھتے ہیں۔

اسی طرح سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدوار کا چناؤ بھی صدارتی انتخابات میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس حالیہ انتخاب میں دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدوار جنوبی کوریا کے روایتی طریقہ کار کے مطابق نہیں چنے گئے۔ عمومی طور پر ایسے امیدوار کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کم از کم قومی اسمبلی میں کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہو یا کم از کم سیاسی جماعتوں میں سینئیر عہدوں پہ رہ چکا ہو۔ اس الیکشن کے دونوں امیدوار ملکی پارلیمنٹ میں کام کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے جبکہ گزشتہ چار صدور اور ان کے مخالف امیدوار ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ساتھ قومی پارٹیوں کی قیادت کا وسیع تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی میں بھی متحرک رہتے تھے۔ جنوبی کوریا کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ تخت کے دونوں امیدوار سلطنت سے باہر کے ہیں۔

اس حالیہ الیکشن میں لوگوں کی رائے ہے کہ منتخب ہونے والا صدر ملکی معیشت کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ کے ایشوز کو بھی حل کرے کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے کوریا میں گھروں کی قیمتیں اور ماہانہ کرائے بہت حد تک بڑھ گئے ہیں جس نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ کرونا ایشو پر بھی ٹھوس اور سکہ بند پالیسی کے خواہش مند ہیں۔ سوشل ویلفیئر بھی ایک اہم ایشو ہے لوگوں کی ایک کثیر تعداد چاہتی ہے کہ حکومت سوشل ویلفیئر کی رقم بڑھائے جبکہ 30 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اس رقم کو مزید کم کیا جائے کیونکہ یہ رقم وہ ٹیکسز کی صورت ادا کر رہے ہیں لہذا اسے ملکی اکانومی بہتر بنانے میں خرچ ہونا چاہیے نا کہ ویلفیئر میں۔

اسی طرح خارجہ پالیسی اور ملکی سلامتی کے حوالے سے بھی صدر کی پالیسی عوام کے ووٹ کو اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ جنوبی کوریا میں خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام امریکی بہتر انداز میں کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب کورین فورسز کو خود یہ کام کرنا چاہیے۔ اسی طرح چین اور جاپان سے تعلقات پر پالیسی بھی ووٹر کے فیصلے پر اثر ڈالتی ہے۔ جنوبی کوریا کے انتخابی نعروں کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت کو درست کرنے کے بعد شمالی کوریا سے تعلقات کا نعرہ ترپ کا پتہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی شمالی کوریا سے اتحاد یا بہتر تعلقات کی حامی رہی ہے۔

ان حالیہ الیکشن میں تیسرے نمبر والے امیدوار مسٹر ہن چھول۔ سو جو پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور کوریا میں تقریباً 10 فیصد کے قریب ووٹ رکھتے ہیں نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی سمیت دوسرے نمبر کے امیدوار مسٹر یون کی حمایت کرتے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر اب قدامت پسند امیدوار مسٹر یون کا پلڑا بھاری محسوس ہوتا ہے لیکن الیکشن کے نتائج سے پہلے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

چوتھے نمبر کی امیدوار جسٹس پارٹی کی سربراہ مسز سم سانگ۔ جنگ ہیں جو کہ تقریباً 3 فیصد ووٹ بینک رکھتی ہیں انہیں نے تیسرے نمبر کے امیدوار کے الیکشن سے دستبرداری کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے کیونکہ محترمہ سم سانگ۔ جنگ ملک سے دو جماعتی نظام کے خاتمے کی خواہاں ہیں۔ انہوں یہ بھی کہا ہے کہ مسٹر ہن نے دوسرے نمبر کے امیدوار کی حمایت کر کے دو جماعتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے اور ان لوگوں کے ووٹ کی بے عزتی کی ہے جنہوں نے ان کی پالیسی اور سوچ کو ووٹ دیا تھا۔

قدامت پسندوں کی اندرونی خلفشار اور توڑ پھوڑ اور ان کی نئی جماعت پیپلز پاور پارٹی کی جانب سے سابق پراسیکیوٹر جنرل مسٹر یون کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی سے لے کر تیسرے نمبر کے امیدوار کے اس غیر متوقع فیصلے کی وجہ سے جنوبی کوریا کے حالیہ الیکشن بدترین صدارتی انتخابات تصور کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا کہ منتخب ہونے والا صدر جنوبی کوریا کے موجودہ مسائل کو کہاں تک حل کرے گا اور عوام کی امنگوں پر کتنا پورا اترے گا؟

 

Facebook Comments HS