جاب کی مجبوریاں اور امید کا دامن
اپنی ذات سے متعلق لکھنا ہر انسان کے لئے مشکل ہوتا ہے، کیونکہ انسان اپنی خامی و خوبی سے بعد از خدا واقف ہے، خود کے متعلق لکھتے ہوئے اس کی عقل و شعور اسے مختلف مراحل پر سوچنے کا موقع دیتی ہے اور یہاں عدالت کا ہونا ضروری ہے کہ خود سے متعلق بھی حقیقت لکھی جائے، میرا موضوع ’میں‘ بالکل نہیں، لیکن میں وہ بتانا چاہتا ہوں جو میں نے خود دیکھا، کیونکہ ہم ہر اس بات پر کسی حد تک یقین کرتے ہیں جو خود کے ساتھ ہو یا جو آپ کو بتانے والا ہو اس کے ساتھ بیتی ہو،
سٹڈی کے ساتھ جاب کا ارادہ رکھنا اور پھر اسے مکمل کرنا آسان نہیں، اور خاص کر اس فرد کے لیے جس نے بچپن کے خوشگوار دن گزارے ہوں، بہرحال موجودہ وقت آج کے نوجوان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی عمر سے بڑھ کر کام کریں اور اپنے ہدف سے پہلے اس کے لیے تیار ہو جائے تو آج نوجوان اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اس راہ پہ بھی چلتے ہیں، اور میں نے بھی یہ راہ اپنا لی۔
جس وقت میں جاب کی تلاش میں نکلا تو بہت سی پریشانیاں آئیں، بہرحال جیسے بھی جو بھی حاصل ہوا اس پر خدا کا شکر ہے۔
جاب کے دوران وہ کچھ دیکھا جو شاید اس سے پہلے دیکھنے کو نہ ملتا، دل دہلا دینے والی باتیں، رونگٹے کھڑے کردینے والی چیزیں، میں نے کام کے دوران ان نوجوانوں کو بھی دیکھا جنہیں دیکھ کر زبان بول پڑتی کہ اسے یقیناً یہاں کوئی مجبوری لائی، اور جب بھی بات کی تو جو سوچا وہی پایا، آپ یقین جانیں یہ اکثر نوجوان جو آپ کو کام کرتے نظر آتے ہیں اس کم عمری میں یہ مجبوریوں کے مارے ہوئے ہیں، دوران جاب میں ایک تیرہ یا چودہ سال کے بچے سے ملا، میرا دل چاہا کہ میں اس سے پوچھو کہ اے ماں کی جان تم اس عمر میں کہاں آ گئے، جب میں نے اس سے پوچھا تو میں متعجب ہوا کہ وہ کئی میلوں کا سفر کر کے کام کے لئے آیا ہوا ہے اور اسے کام کرتے ہوئے دو سال کا عرصہ ہو گیا، میں نے پوچھا کہ کام کیوں کرتے ہو؟
ابو کیا کرتے ہیں؟ تو خاموشی سے بولا کہ ابو دل کے مریض ہیں، کام نہیں کر سکتے، تین بہن بھائی ہیں، میں سب بڑا ہوں اور باقی بہن بھائی پڑھتے ہیں، میں نے اس کے بعد جب بھی اس کی طرف دیکھا تو اس کی مسکراہٹ پروقار تھی اور پرامید ہوتی، ایک اور نوجوان سے ملا والد صاحب نشے کے عادی تھے، والدہ کو چھوڑ کر چلے گئے، سات یا آٹھ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور کام کر کے اپنے گھر کا چولہا جلا رہا تھا،
میں نے اور بھی چند ایک سے باتیں کی آپ یقین جانیں میرے بیاں سے باہر ہیں لوگوں کی مجبوریاں، نہ جانے کہاں کہاں سے سفر کر کے کئی کئی میل کا ، یہ مجبور نوجوان اور بچے آتے ہیں اور سارا دن نہ صرف اپنا پسینہ ہی نہیں بلکہ خون تک بہا کر ، سردی ہو یا گرمی، بیمار ہیں یا تندرست کام کر کے اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں،
میں نے پوچھنا ہی چھوڑ دیا، یہاں ہر ایک دوسرے سے بڑا مجبور نظر آتا ہے۔
اب ہم ان تمام باتوں کے نتیجے کی طرف چلتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا کا لاکھ شکر ہے کہ میں آج تک خدا کی ذات سے نا امید نہیں ہوا، لیکن میری امید میں اضافہ ان افراد سے مل کر ہوا، کبھی بھی خدا کی ذات سے نا امید نہ ہوں، کبھی اپنی مجبوری اور پریشانیوں کو دنیا کی سب سے بڑی پریشانی نہ سمجھیں اور نہ ہی خدا سے نا امیدی ظاہر کریں، اگر کبھی خدا سے نا امید ہو جائیں تو ان افراد کو مل لیں جو نہ جانے اپنی پریشانیوں اور اپنی قسمت میں لکھے امتحان کے حل کے لئے مسکراتے ہوئے پسینہ بہانے اور مشقت والے کام کے لئے نکل پڑتے ہیں اور یقیناً آپ کے اردگرد ایسے بہت سے افراد موجود ہوں گے جو زندگی سے زندہ رہنے کے لئے ہی لڑتے ہیں اور چہرے پر پروقار ہنسی ہوتی ہے، نا امیدی میں ہمارے شکوے خدا سے ختم نہیں ہوتے، اگر شکوہ ہی کرنا چاہیے تو ان پسینہ اور خون بہا کر گھر کا چولہا جلانے والوں کو کرنا چاہیے لیکن یہ نا امیدی ظاہر نہیں کرتے، جب بھی ان کے پاس بیٹھیں تو ہمیشہ خدا کا شکر کرتے ہوئے پائیں گے، کیا ہم سچ میں اس بچے سے زیادہ مجبور ہیں اور بے کس ہیں جو دس یا گیارہ سال کی عمر میں کئی میل کا سفر کر کے گھر کا چولہا جلا رہا ہے، شکوہ ہی کرنا چاہیے تو اسے کرنا چاہیے، آپ کو اور مجھے کیا حق کہ جن کا بچپن خوشگوار رہا ہو، نا امیدی ہی ظاہر کرنی چاہیے تو اس تیرہ سال کے بچے کو کرنی چاہے اور شکوہ ہی خدا کی بارگاہ میں کرنا ہے تو اسے کرنا چاہیے، لیکن نہیں وہ پرامید اور فاتحانہ مسکراتا ہے کہ میں زندگی سے جیت چکا ہوں،
آخر پر کچھ باتیں یاد رکھیں کہ امیدی اور نا امیدی کا تعلق کسی حد تک آپ کی تخیلاتی زندگی اور حقیقی زندگی سے ہوتا ہے، ہم اپنی خودساختہ تخیلاتی زندگی میں شہنشاہ بنتے ہیں، اور بڑی بڑی خواہشات کو جنم دیتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم نا امید ہو جاتے ہیں، بعض اوقات حالات و واقعات اور ہماری کوتاہی ہمیں ہمیں کامیابی کے راستے پر نہیں رہنے دیتی، لیکن ان پریشانیوں اور مصیبتوں سے پر زندگی سے ہم نا امید کیوں ہوں، اگر خوشیوں کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں دستک دیتے رہیں، کبھی تو دروازہ کھلے گا اور وہ آپ کی امید کھولے گی، اگر زندگی کی دوڑ میں دوڑتے ہوئے گرنے والے ہوں تو سنبھل جائیں اور اگر گر گئے ہیں، تو اٹھیں اور پھر سے دوڑیں، گرے نہیں رہنا چاہیے، یاد رکھئے گا جو انسان پریشانی و مصیبت میں مسکرا سکتا ہے وہ کبھی نا امید نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ٹوٹ سکتا ہے، یاد رکھیں کہ آپ کی پریشانی دنیا کی کوئی آخری یا بڑی پریشانی نہیں کہ جس کا حل نہیں، ہم یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ بس مجھ پر جو مصیبت آئی ہے اس سے بڑی کوئی مصیبت ہو ہی نہیں سکتی، یہ دنیا کی آخری اور نہ حل ہونے والی پریشانی ہے، ایسا بالکل نہیں ہے، ہر پریشانی کا حل ہے اور دنیا میں نا امیدی نام کی کوئی چیز نہیں، آج کا انسان جس زمانے میں جی رہا ہے وہ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے، اس زمانے میں سب ممکن ہے، انسان نے اب تک بہت سی مصنوعی ترقی کی اور ابھی انتہا اور بھی ہے، اس لئے اپنے لئے چیزیں تخلیق کریں، اپنے لئے آسانی پیدا کریں، سب کچھ ممکن ہے بس امید کا دامن نہ چھوڑیں، جب بھی نا امیدی قریب آئے تو خود سے بھی زیادہ مجبور و بے کس انسان کی طرف دیکھیں، ہو سکے تو کام کرتے ہوئے کسی اپاہج کو دیکھ لیں، اندھے، بہرے محنت کش کو دیکھ لیں، اگر وہ کر سکتا ہے تو آپ کی تو ذات مکمل ہے، کوئی کمی نہیں، اگر کہیں کمی ہے تو وہ ہے سوچ کی، امید کی، اپنی امید میں اضافہ کریں اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دیں، وہ کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا، اور انسان کو تو بالکل بھی نہیں کیونکہ ہم اس کے نائب اور خلیفہ ہیں۔


