ننھی پری۔ عورتوں کا عالمی دن اور ہمارا معاشرہ


بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
گھر جو خدا کو پسند آئے وہاں ہوتی ہیں

خبروں سے ننھی پری کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سن کر دل اتنا بوجھل ہوا کہ بار بار آنکھیں چھلکنے کو تیار۔ سارا دن آنکھیں دھندلی ہوتی رہیں اور پھر بے چین ہو کر لکھنا شروع کر دیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ باپ جیسی شفیق ہستی ایسا بھی کر سکتی ہے۔ عورتوں کا عالمی دن تھا مگر دل ہی اتنا پریشان تھا کہ کسی کی وش نہ وصول کی نہ کسی کو مبارک دی۔ اس واقعہ کے پیچھے شاید ہمارے معاشرے کی روایتی بے حسی وجہ بنی۔ ہمارے ہاں بیٹے اور بیٹی میں واضح لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو بیٹیوں کو خوش دلی سے خاندان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے اس چیز سے منسوب کرتے ہیں کہ بیٹیوں سے ڈر نہیں لگتا ان کے نصیب سے لگتا ہے حالانکہ مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جس خدا نے بیٹی دی ہے وہ اس کے نصیب کا بھی ذمہ دار بھی ہے۔

مگر شاید یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے جو ہمیں بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے سے روکتی ہے۔ ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر کہتے ہیں چلو اللہ بیٹا دے دیتا باپ کا سہارا بنتا بیٹی بچاری کیا کر سکتی ہے۔ اس عورت یا بیوی کا رتبہ بہت بلند ہو جاتا ہے جو پہلی بار بیٹے کی ماں بنتی ہے۔ ہمارے ہاں تو  یہاں تک کہا جاتا ہے اللہ خوش ہوتا ہے تو بیٹی عطا کرتا ہے مگر جہلا کہتے ہیں اللہ تو خوش ہوتا ہے پر لوگ خوش نہیں ہوتے۔ اس واقعہ پر باپ سے زیادہ معاشرہ ذمہ دار ہے کیوں کہ ہم ہی بیٹوں کے ذہنوں میں ڈالتے ہیں کہ بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں۔ ہم تو شاید عرب کے کفار سے بھی بدتر ہیں وہ جو بھی کرتے تھے اسلام سے قبل کرتے تھے پھر ہم تو نام نہاد مسلمان ہیں اور رہتے بھی اسلامی ملک میں ہیں۔

یہاں پر میں اپنے والد صاحب کی کتاب ”اے اللہ میں حاضر ہوں“ سے ایک اقتباس دینا چاہتی ہوں

باب نمبر 33 : مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ یہ باب اس مقام کے بارے میں ہے جہاں عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ اس واقعہ سے وہ باب میرے ذہن میں پھر سے تازہ ہو گیا۔

”قیام مکہ کے دوران ایک روز عرب لوگوں کی دختر کشی کی رسم کا ذکر آیا تو پتا چلا کہ وہ علاقہ قریب ہی ہے دل بے چین ہو گیا کہ وہ مقام دیکھا جائے۔ مگر پدرانہ کمزوری پاؤں کی زنجیر بن رہی تھی کہ وہ مقام کیسے دیکھ پاؤں گا جہاں کتنے ہی معصوم جگر گوشے پیوند خاک بنائے گئے ہوں گے۔ ۔ زمانۂ جاہلیت کے خاتمے کے بعد ایک شخص نے اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنی بیٹی کو دور صحرا میں لے گیا وہ سارا راستہ پیار بھری باتیں کرتی رہی اور پوچھتی رہی ابو ہم کہاں جا رہے ہیں۔ آخرکار آبادی دور رہ گئی تو میں نے پہلے سے ایک کھودے ہوئے گڑھے میں اسے دھکا دیدیا اور اوپر سے مٹی ڈالنے لگا یہاں تک کہ اس کا وجود ڈھک گیا وہ“ یا ابی یا ابی ” (ہائے میرے ابو ہائے میرے ابو) پکارتی رہی لیکن میرے اوپر شیطان کا غلبہ تھا مجھے رحم نہ آیا۔ (صفحہ 312۔ 317 )

یقین کریں اب بھی ہر ماں بیٹی پیدا کرتے ہوئے ڈرتی ہے اور ڈرتی رہے گی۔ کبھی نصیب کے نام پر اور کبھی معاشرے میں عزت کم ہونے کے ڈر سے۔ اس ظالم شخص نے تو فوراً نفرت کا اظہار کرتے ہوئے مار دیا اپنی بیٹی کو مگر کچھ شقی القلب ایسے بھی ہیں جو محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ بیٹیاں تو پریاں ہوتی ہیں کبھی سنا ہے بیٹی نے بے وفائی کی ہو ہمیشہ بیٹے ماں باپ کو چھوڑ کر جاتے ہیں، مرتے دم تک جان نہیں چھوڑتیں جان بن جاتی ہیں۔

ہمیشہ اپنی پریشانیاں ہنس کر سہ جاتی ہیں جانتی ہیں کہ والدین کو ان کا دکھ لے ڈوبے گا۔ بہت سی ایسی عورتیں ہیں جو شوہروں سے مار کھا کر بھی والدین کے سامنے ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بہت خوش ہیں تا کہ والدین مطمئن ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس بچی کی ماں کو صبر آ جائے اور جو ہم منہ سے کہتے ہیں اس پر عمل کی توفیق ہو۔ آمین

Facebook Comments HS