اشرافیہ کی سیاست میں پبلک کہاں ہے


ہمیشہ کی طرح عدم استحکام کا شکار رہنے والے پاکستانی سیاست اور حکومت کی کشتی ایک بار پھر بھنور میں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروا دی گئی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے کامیابی کے بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن تاحال حکومت کے کسی اتحادی کو توڑ نہیں سکی۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں کی طرف سے باضابطہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک پر حکومتی یا اپوزیشن میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا واضح اعلان نہیں ہوا۔

ہر جماعت اپنے سیاسی پتے اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومتی اراکین قومی اسمبلی کو اور حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کہ ہر دو صورتوں میں غیر آئینی اور غیر قانونی ہی نہیں بلکہ جمہوریت اور اس کے مستقبل کے لیے غیر اخلاقی اقدام بھی ہے لیکن ہماری سیاست ہمارے سیاست دانوں کی اناؤں کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دینے پر انہیں اٹھارہ کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی ہے حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران خان اور اس کی حکومت کے خلاف غیر ملکی طاقتیں سازش کر رہی ہیں اور مبینہ طور پر اپوزیشن کو بیرونی عناصر سے تقویت مل رہی ہے وزیراعظم پاکستان نے اپنے حالیہ میلسی میں منعقد ہونے والے جلسے میں امریکہ اور یورپی یونین سمیت مغربی طاقتوں کو آئینہ دکھایا ہے کہ وہ کیوں کر پاکستان کو یوکرین اور روس کے معاملہ پر مغربی طاقتوں کا ساتھ دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں یورپی ممالک کے سفراء کی طرف سے لکھے جانے والے خط کو وزیراعظم پاکستان نے سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے انہوں نے یورپ اور امریکہ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان کے کردار کی تحسین نہیں کی گئی، اور یہ کہ پاکستان مغرب کا غلام نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار ہے۔ جس پر اپوزیشن نے کہا کہ پاکستان کا یہ بیان یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں خرابی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ یورپی ممالک کو جاتا ہے لاکھوں پاکستانی یورپی ممالک میں کاروبار اور روزگار سے جڑے ہوئے ہیں ان کی طرف سے بھیجا گیا زرمبادلہ پاکستان کی معیشت میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو لے کر جہاں مغربی ممالک اور امریکہ روس پر پابندیاں لگا رہے ہیں وہیں چائنا اور دیگر کچھ ممالک روس کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔ ایسی حالت میں جہاں دنیا عالمی سطح پر واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بھی عروج پر ہے۔ ماضی میں بھی پاکستانی حکومتیں بننے اور ٹوٹنے میں مبینہ طور پر غیر ملکی عوامل کار فرما رہے ہیں اسی تناظر میں حکومت کی طرف سے جب یہ دعوی کیا گیا کہ ان کے خلاف بیرونی سازش ہو رہی ہے تو اس دعویٰ کو عوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔

پاکستانی عوام کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا ذمہ دار امریکہ اور مغربی ممالک کو سمجھتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعصاب کی جنگ جاری ہے اس کے ساتھ لفظی گولہ باری اور میڈیا پر اپنے اپنے ہمنواؤں کے ذریعے پروپیگنڈا بھی خوب ہو رہا ہے عدم اعتماد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن عمران خان کی حالیہ جلسوں اور تقریبات میں کی گئی تقاریر سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ وہ اپوزیشن کے لیے کوئی آسان ہدف نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے اندر تقسیم اور دھڑے بندی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے مرکز اور پنجاب میں مزید سیاسی بلاک ابھر رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف شدید کنفیوژن ہے۔ کون کس کے ساتھ ہے، یا کس کے ساتھ جائے گا کسی نے کوئی دو ٹوک اعلان نہیں کیا۔ تاہم ہر شخص اپنی سیاسی قیمت اور اہمیت بڑھانے کے چکر میں ہے۔ علیم خان کی انٹری نے مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب کو بھی سیاسی اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر وزیراعلی پنجاب سے متعلق سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

عثمان بزدار اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود تحریک انصاف میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ اور ایک متحرک وزیر اعلی کے طور پر ان کی شخصیت نہ ابھر سکی۔ اس وجہ سے پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی عثمان بزدار کی وزارت اعلی سے نالاں ہیں۔ اراکین صوبائی اسمبلی سمجھتے ہیں کہ عثمان بزدار حکومت کی کی بد انتظامی اور غیر مقبولیت سے اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کو پنجاب میں بڑا سیاسی دھچکا لگ سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی کی ایک بڑی تعداد پنجاب میں وزارت اعلیٰ میں تبدیلی چاہتی ہے۔ دوسری طرف پرویز الٰہی صاحب جو کہ گرم ہوتی سیاسی ہانڈی میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے چکر میں تھے پنجاب میں علیم خان کی انٹری سے بدمزہ ہوئے ہیں۔

مرکز اور پنجاب دونوں جگہ پر تحریک انصاف کی حکومت دباؤ میں ہے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد جمع تو کروا دی ہے لیکن کامیابی کی صورت میں کیا منظر ابھر کر سامنے آئے گا یہ بات ابھی پسے پردہ ہی ہے

پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی محاذ پر سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے پشاور میں ہونے والے بم دھماکے سے ثابت ہوا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ معصوم لوگوں کی جانیں لینا ان کے لئے مشکل نہیں ہے۔ کمر توڑ مہنگائی ہر روز عام آدمی کو زندہ درگور کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے اس ماہ کے شروع میں پٹرولیم مصنوعات پر جب ریلیف دیا گیا تو اپوزیشن نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہ کسی طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔

ایک جگہ پر تیل کی قیمتیں منجمد کرنے کا اعلان آنے والی حکومت اور مستقبل کی معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ چند روز قبل جو بات حکومتی نمائندے کہہ رہے تھے، اب اپوزیشن دہائی دے رہی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں، لیکن سیاسی عدم استحکام نے اس مہنگائی دو چند کر دیا ہے۔ عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر شاید ہی کوئی حکومت عوام کو ریلیف دے سکے۔

سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کو جنم دیتا ہے۔ موجودہ حکومت کے گھر جانے کی صورت میں قائم کیا گیا کوئی بھی سیٹ اپ ہماری سیاسی اشرافیہ کی انا کی تسکین تو کر سکتا ہے لیکن اس میں عوام کی فلاح کا کوئی منصوبہ بنانے کی سکت نہ ہوگی۔ کھیل شروع ہو چکا ہے لیکن اس کا انجام کیا ہو گا کسی کو معلوم نہیں۔ رسہ کشی، اخلاقی انحطاط، بولیوں اور قیمتوں کی اسیر ہماری جمہوریت، سیاست اور حکومت میں بندہ مزدور کے درد کا کوئی درماں نظر نہیں آتا۔ یہی اس نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

Facebook Comments HS