تکلیف میں مبتلا بیٹی کی باپ کو تسلی


ابو، آپ تو نہ روئیں۔

وہ دن عام طرح کا ایک دن تھا، ایسا دن جو گزر جائے تو یاد نہیں رہتا۔ تسبیح کے دانوں کی طرز کا ایک ہم رنگ دن، ایک دفعہ گزر گیا تو آپ اس کی شناخت نہیں کر پاتے، مگر مجھے علم نہ تھا کہ وہ دن ایک عام دن نہ رہے گا۔

میں اپنے دفتر میں بیٹھا عمومی کاموں میں مصروف تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔
ہیلو، عاطف صاحب سے بات ہو سکتی ہے۔
جی، میں عاطف بول رہا ہوں۔
عاطف صاحب، میں کانونٹ سکول سے عباس بول رہا ہوں۔ آپ کی بیٹی ہمارے پاس چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے۔
جی، جی، خیریت ہے؟

خیریت ہی ہے، اصل میں بیٹی بھاگ دوڑ کر رہی تھی کہ ڈیسک سے جا ٹکرائی ہے۔ اس کی کمر میں درد ہے۔ آپ آ کر اسے لے جائیں۔

چوٹ زیادہ تو نہیں آئی۔
جی، کچھ زیادہ چوٹ تو محسوس نہیں ہو رہی۔
ٹھیک، میں آ رہا ہوں۔
میں نے جلدی سے کچھ جاری کام نبٹائے اور سکول کی طرف روانہ ہو گیا۔
کیا حال ہے؟
ابو، ڈیسک کا کونا کمر میں لگ گیا تھا، درد ہو رہی ہے۔
چلو، یہیں سے ہسپتال چلتے ہیں۔

میو ہسپتال میں بہن ڈاکٹر ہے سو اسے فون کیا اور گڑھی شاہو لاہور میں واقع سکول سے بیٹی کو لے کر سیدھا میو ہسپتال چلا گیا۔

بیٹا، کیا ہوا؟ کمر میں ڈیسک کا کونا لگا ہے جس کی وجہ سے تکلیف ہے۔
چلیے، اس کی کمر کا ایکسرے کرواتے ہیں اور اس کے بعد ہڈیوں کے ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب، یہ میری بھتیجی ہے، سکول میں بھاگتے دوڑتے ڈیسک کا کونا کمر میں لگ گیا ہے۔ یہ اس کے ایکسرے ہیں۔

شعبہ ہڈی میں تین ڈاکٹر بیٹھے تھے، انہوں نے ایکسرے سفید برقی سکرین پر لگائے اور ایک دوسرے سے طبی اصطلاحات میں بات کرنے لگ گئے، بہن بھی اس گفتگو میں شریک تھی۔

دیکھیے، کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ ہاں، کمر کے پانچویں مہرے پر بال برابر ٹوٹ یعنی ہیئر لائن فریکچر ہے، مگر بچوں کی بڑھوتی کی عمر ہوتی ہے سو جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ ایک دو دن کھیل کود کی احتیاط کریں۔

شام ہو گئی مگر درد کم نہ ہوا۔

ابو، میری کمر میں ابھی بھی درد ہے۔ آپ کی کمر میں جب درد ہو تو آپ تیراکی کے لیے جاتے ہیں، میرا خیال ہے کہ تیراکی کے لیے چلتے ہیں۔

ٹھیک ہے بیٹی، اپنا تیراکی کے کپڑے لو اور ہم سوئمنگ کے لیے چلتے ہیں۔
اب کیسا حال ہے؟
کچھ بہتر ہے۔
یہ آئس کریم کھاؤ، اس سے طبیعیت بہتر محسوس کرو گی۔
رات تکلیف میں گزری۔ بیٹی کا درد بڑھتا جا رہا تھا۔ صبح اسے لے کر دوبارہ ہسپتال گئے۔
ڈاکٹر کو پچھلے دن کی روداد سنائی اور ایکسرے دکھائے۔

دیکھیے، آپ بلاوجہ پریشان ہو رہے ہیں۔ کل بھی ڈاکٹروں نے دیکھا تھا اور ایکسرے میں ہیئر لائن فریکچر ہے، کچھ دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔

مگر بیٹی بہت تکلیف میں ہے۔
بچے ایسے ہی کرتے ہیں، آپ فکر نہ کریں۔
آپ اسے سی ایم ایچ میں سپیشلسٹ کو ریفر کر دیں۔
آپ کو بتایا ہے کہ آپ بلاوجہ پریشان ہو رہے ہیں اور مجھے بھی پریشان کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب، آپ مہربانی کریں اور اسے سپیشلسٹ کو ریفر کر دیں۔
اچھا میں یہ لکھ رہا ہوں کہ والد کے اصرار پر سپیشلسٹ کو بھیجا جا رہا ہے۔
جی، شکریہ۔

بیٹی کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔ سی، ایم، ایچ پہنچے تو وہ چلنے سے لاچار تھی۔ ویل چئیر پر اسے لے کر ہڈیوں کے سپیشلسٹ تک پہنچے۔

ابو، مجھے بہت درد ہے، جلدی سے ڈاکٹر کو دکھائیں۔
بھائی، بیٹی کو بہت تکلیف ہے۔ اسے جلد ڈاکٹر کو دکھا دیں۔
سر، آپ سے پہلے مریض آئے ہیں، ان کے بعد ہی باری آئے گی۔
لیکن اگر کوئی زیادہ تکلیف میں ہو تو خیال کیجئیے۔

ایک مریض نے آگے آ کر ریسیپشنسٹ سے کہا، یہ پیاری سے بیٹی بڑی تکلیف میں لگ رہی ہے۔ آپ اس کو میری جگہ آگے بھیج دیں۔

ڈاکٹر صاحب، سکول میں بیٹی گری تھی، ڈیسک کا کونا کمر میں لگ گیا تھا۔ یہ ایکسرے ہیں، میو ہسپتال میں بھی دکھایا ہے، دوائیاں بھی دے رہے ہیں مگر تکلیف بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

کمر کی ہڈی کو تھوڑا سا نقصان پہنچا ہے۔ جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ بچی کی تکلیف دیکھ کر میں اسے ہسپتال میں داخل کر لیتا ہوں۔ کمر پر باندھنے کے لیے بڑی بیلٹ بھی لکھ رہا ہوں کہ حرکت نہ ہو۔ اس کے علاوہ سکون آور ادویات بھی لکھ دی ہیں۔ آپ باہر ریسیپشن سے داخلے کے کاغذات بنوا لیں۔

رات ہسپتال کے کمرے میں گزری۔ کمر پر چوڑی بیلٹ باندھ دی گئی تھی۔ بیٹی سکون آور ادویات کے اثر سے جب نکلتی تو انتہائی تکلیف کا بتاتی۔ جسم کے ایک ایک حصے میں شدید تکلیف تھی۔ ہسپتال کے سفید بستر پر کوئی بیٹھتا بلکہ صرف ہاتھ ہی رکھتا کہ بستر میں معمولی سا ارتعاش پیدا ہوتا تو اس کی درد سے چیخیں نکل جاتیں۔

یہ کمر کی تکلیف تو سارے جسم میں نہیں جا سکتی۔ یا اللہ کرم کا معاملہ کر۔ آج بیٹی کی نویں سالگرہ بھی ہے، اور اتنی تکلیف، اتنا درد کہ اس چھوٹی سی بچی کی برداشت سے باہر ہے۔ ماں کی آنکھیں پانی سے بھری ہیں، وقتاً فوقتاً سب سے چھپ کر دوپٹے سے آنکھیں پونچھتی ہے۔ باپ کو سمجھ نہیں آ رہی، کیا کرے کہ بیٹی کی تکلیف کم ہو۔ بہن بھائی پریشان ہیں کہ چھوٹی بہن کا درد کیسے کم کر سکیں۔ پریشانی ان کے چہروں پر ثبت ہے۔

یا اللہ، یہ کیا ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ معمولی معاملہ ہے، اور بیٹی کی تکلیف کچھ اور بتاتی ہے۔ بیٹی بھی ایسی کہ پورے گھر کی جان ہے۔ اس کی تکلیف یوں کہ ہم سب کی جان کسی نے چیر کر رکھ دی ہے۔

دن کے گیارہ بجے ڈاکٹر بہن نے کہا، بھائی میں نے ایک ٹیسٹ کا وقت لے لیا ہے۔ آپ ایمبولینس کا بندوبست کریں، بیٹی کو سروسز ہسپتال کے سامنے آغا خان لیب لے کر جانا ہے۔

کون سا ٹیسٹ؟
بون میرو ٹیسٹ۔
اف، وہ تو بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
جی مگر یہ ضروری ہے۔
یا اللہ، یہ کیا ہو رہا ہے۔ چھوٹی سی بچی کس مشکل میں ہے۔ یا اللہ، اپنا رحم کردے۔
ایک بجے دوپہر ہم لیب میں تھے۔

ماں باپ ٹیسٹ میں اندر بیٹی کے ساتھ آسکتے ہیں۔ ماں ساتھ نہیں جانا جاتی، اس کے دوپٹے کا سرا پہلے ہی پانی سے بھرا ہے۔

ڈاکٹر صاحب، میں میو ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں اور یہ میری بھتیجی ہے اور یہ میرے بھائی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ جیسے ہی اس ٹیسٹ کا نتیجہ نکلے تو آپ مجھے اس فون نمبر پر بتا دیں۔

جی ڈاکٹر صاحبہ، میں آپ کو بتا دوں گا۔
ہم یہ ٹیسٹ بے ہوشی کے بغیر کریں گے، سو یہ تکلیف دہ ہو گا۔
جی، میں جانتی ہوں۔

وہ کمرہ میرے لیے کمرہ امتحان کی مانند تھا، اور امتحان بھی ایسا جس میں آپ کو دھکیل دیا جائے، نہ سوالوں کا علم، نہ جوابوں کا پتہ، نہ نتیجے کی خواہش، نہ رجسٹریشن، نہ رول نمبر، بس امتحان ہی امتحان، طوالت کے اندازے کے بغیر، طوالت ویسے بھی بے معنی کہ وہاں لمحہ لمحہ نہیں ہوتا صدی کی مثل کٹتا ہے۔

بیٹی کو پہلو پر لٹایا گیا، وہ تکلیف سے چیخی تھی۔ کمر میں ایک لمبی سوئی اتار دی گئی۔ وہ سوئی میرے کلیجے میں بھی ساتھ اتری تھی۔

وہ تکلیف سے بولتی تھی، میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا اور چہرہ دوسری جانب کہ پانی سے بھری آنکھوں سے ویسے بھی سب منظر دھندلا تھا۔

ہم واپس ہسپتال کے کمرے میں تھے۔

چار بجے بہن نے مجھے ایک طرف لے جا کر بتایا۔ خبر اچھی نہیں، بون میرو کی رپوٹ کے مطابق بیٹی میں خون کا کینسر پھیلا ہوا ہے۔ خون میں اسی فیصد سے زیادہ بلاسٹ سیلز ہیں، جس کے وجہ سے جسم کا ہر حصہ انتہائی تکلیف میں ہے۔

اوہ، میرے خدا۔ دفعتاً سب ساکت ہو گیا، ذہن کام کرنا چھوڑ گیا۔ ہر طرف خلا تھا اور ایک بے وزنی کی کیفیت تھی۔

دوسرے لمحے بہت سے خیالات ذہن میں در آئے، کیا، کیوں، کیسے؟

کیا؟ اب کیا ہو گا؟ کیا بیٹی زندہ رہے گی یا نہیں؟ ڈاکٹروں نے تشخیص میں اتنی دیر لگادی کہ اب کیا ہو گا؟

کیوں؟ آخر ہم ہی کیوں؟ اتنے بڑے سکول میں دو ہزار بچیوں میں سے ایک بچی کو کینسر ہوتا ہے اور وہ ہماری بیٹی ہے، آخر کیوں؟

کیسے؟ اب کیسے علاج کا معاملہ آگے چلانا ہے؟
مگر آج بیٹی کی سالگرہ بھی ہے۔ آج تو سالگرہ منائیں، اگلے سال کا کچھ علم نہیں۔

شام چھ بجے کیک لایا گیا، ہسپتال کے کمرے میں کچھ غبارے لگا دیے۔ کچھ تحفے خرید لیے گئے۔ ایک گڑیا ہے جو آنکھیں جھپک کر دنیا کو دیکھتی ہے۔ رنگ برنگی پینسلوں کے ہمراہ رنگ بھرنے کی ایک کتاب ہے کہ بے رنگ منظر میں مرضی کے رنگ بھر سکیں۔ ایک بیٹی کی فریم کی گئی مسکراتی تصویر ہے کہ تکلیف سے نکل سکنے کا خیال پیش کرتی ہے۔

بیٹی کیک کاٹنے کے لیے بیڈ سے اٹھتی ہے تو تکلیف سے رو پڑتی ہے۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوتے ہیں۔ وہ باپ کو دیکھتی ہے، سخت تکلیف میں ہونے کے باوجود ایک ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کرتی ہے، اور باپ کو کہتی ہے۔

ابو، آپ تو نہ روئیں۔

نوٹ: اس دن کے بعد زندگی نے ایک الگ موڑ لیا۔ بیٹی کے علاج کے لیے پاکستان چھوڑنا پڑا۔ سالہا سال کینسر کے علاج اور علاج کے اثرات نے پورے خاندان پر اپنے نقوش چھوڑے۔ اگر موقع ملا تو اس بابت بھی لکھوں گا۔

الحمدللہ بیٹی اب بیماری سے صحت یاب ہے اگرچہ فالو اپ ابھی جاری ہے اور کیموتھراپی کے اثرات کا علاج کیا جا رہا ہے۔ احباب سے دعا کی درخواست ہے۔

جو خاندان اس طرح کے امتحان سے گزر رہے ہیں، ان کو یہی کہنا ہے، فان مع العسر یسرا، ”بے شک سختی کے بعد آسانی ہے“ ۔

ہمت سے چلتے چلیں، یہ وقت گزر جائے گا۔

Facebook Comments HS

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor