گالیوں دھمکیوں سے اب کام نہیں بنے گا


جو لوگ عمران خان صاحب کی سیاسی کامیابی کو کرکٹ کے ورلڈ کپ میں ملنے والی فتح، شوکت خانم ہسپتال، نمل یونیورسٹی یا ان کے شخصی کرشمے کا نتیجہ سمجھتے رہے ان کی عقل پر ہم کئی بار ماتم کر چکے ہیں۔ دو ہزار چودہ کے بعد ملکی سیاست میں جو کچھ ہوا وہ ایک منصوبہ تھا اور تحریک انصاف کی حکومت اسی منصوبے کا تسلسل تھی۔ بعض وجوہات کے باعث مگر اب یہ منصوبہ مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ورنہ محب وطن ”دانشوروں“ پر طاری خود فریبی کی کیفیت، جس کا نام رومان رکھا گیا تھا اتنی تیزی سے تحلیل نہ ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کا بھوت جن ذہنوں پر طاری تھا، اکثر سے اتر چکا۔ باقیوں سے اتر رہا ہے اور جو زیادہ ہی بیمار ہیں، جلد ان سے بھی اتر جائے گا۔ جو پہلے نہیں مانتے تھے اب وہ بھی مان چکے ہیں کہ تبدیلی کے غبارے کو اڑان دینے کے لیے ہوا کہیں اور سے بھری گئی تھی۔ جھرلو پھیر کر ملک بھر کے لوٹے اور کھوٹے سکے اکٹھے کیے گئے تھے، زبانیں خشک کی گئیں تھیں اور لبوں پر قفل ڈالے گئے تھے۔ اس منصوبے کا حصہ بننے پر مجبور کرنے کے لیے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، نہ ماننے والوں پر مقدمات قائم ہوئے۔

ایک خاص وقت میں ایسے عدالتی فیصلے سامنے آئے اور نیب نے اس قسم کے اقدامات کیے جنہیں واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز، بی بی سی اور اکانومسٹ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے رہے۔ کچھ صحافتی میر کارواں بھی عوام کو ابلتے گٹر، ادھڑی سڑکیں دکھا کر اور یہ آگاہی دے کر کہ یہ ہے تیس سال سے باریاں لینے والوں کو ووٹ دینے کا نتیجہ اس منصوبے کا دانستہ یا غیر دانستہ حصہ بنے۔ اس سب کے باوجود منصوبہ مکمل کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے آثار نظر نہیں آئے تو انتخابی عمل کچھوے کی چال چلایا گیا، ایک ایک ووٹ بھگتانے میں مخصوص جگہوں پر گھنٹوں کا وقت صرف کیا گیا۔

صرف مخصوص جماعتوں کو یہ شکایت رہی کہ ان کے انتخابی نشان پر ووٹ ڈالنے والے افراد کو یہ کہہ کر روکا جا رہا ہے کہ متعلقہ پولنگ اسٹیشن میں ان کے ووٹ کا اندراج نہیں لہذا انہیں یہاں ووٹ ڈالنے کی سہولت نہیں دی جا سکتی۔ آر ٹی ایس بیٹھ گیا، پولنگ ایجنٹس کو دھکے پڑے۔ فارم 45 کی ادائی جو انتخابی عمل کا لازمی مرحلہ تھا مکمل نہ ہوا۔

منصوبے کو نئے ریاست مدینہ کی تشکیل اور تبدیلی کی نوید بتا کر کیا کیا سبز باغ دکھائے گئے، عوام سے کتنا جھوٹ بولا گیا دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے موجودہ حکومت وطن عزیز کی واحد حکومت تھی جس کو انتہائی فرینڈلی اپوزیشن ملی، تمام ادارے جس کی پشت پر تھے۔ اور تو اور میڈیا بھی مکمل تابع فرمان تھا، الا چند ایک زبانوں کے کہیں سے مخالفانہ آواز سنائی نہیں دی۔ کوئی ایک وعدہ جو وفا ہوا اور کوئی ایک کام جو پھر بھی مکمل ہوا؟

اتنی جلدی فریب ختم ہوا، اور تبدیلی کے نام پر دیے گئے دھوکے کی اصلیت سامنے آ گئی؟ جو اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں خود کام آ گئے ان کی حالت دیکھ کر حیرت اور افسوس کے ساتھ عبرت ہوتی ہے کہ قدرت کتنی جلدی کسی کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو اس کے منہ پر دے مارتی ہے۔ جن باتوں پر ماضی کے حکمرانوں کو طعنے اور گالیاں دی جاتی تھیں، ناک سے لکیریں نکال کر اور الٹا لٹک کر موجودہ حکمرانوں کو ہر وہ کام کرنا پڑا۔ کتنی قابل رحم حالت ہے دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ توڑنے کو وکٹیں گرانا کہا جاتا تھا آج یہی اپنی جماعت کے ساتھ ہو رہا ہے۔

دیگر جماعتوں سے جب لوگ ٹوٹ کر تحریک انصاف میں شامل ہوتے تھے ان کی کردار کی پختگی کی داستانیں لکھی جاتی تھیں، اب وہی لوگ تحریک انصاف کی ڈوبتی کشتی چھوڑ رہے ہیں منتظر رہیں ان کے متعلق دوبارہ کیا ارشاد ہو گا۔ تحریک انصاف کی حکومت گورننس کے مسائل اور اپوزیشن کی تحریک کے سامنے تو پہلے ہی ڈھیر ہو چکی تھی نئی آزمائش اب اس کے لیے اندرونی بغاوت کی صورت بھی سامنے آ چکی ہے۔ اس بغاوت کے سدباب کی کوشش اور بیساکھیوں کے بغیر اپنی اصل حیثیت کے اعتراف کی بجائے نیا جھوٹ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ حکومت کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے۔

ہر سمجھدار شخص جانتا ہے کہ حکومت کی مشکلات عالمی سازش کا نتیجہ ہیں یا پھر کسی نا قابل معافی نا فرمانی کا۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنے سرمائے سے عمران صاحب کو وزیراعظم بنوانے میں کتنی مدد کی اور ان کو کیا صلہ ملا؟ کس کو علم نہیں کہ سیاسی بنیاد پر سنائے گئے ایک فیصلے کو بیلنس کرنے میں جہانگیر ترین کا کیریئر قربان کیا گیا ہے اور اس میں عمران خان صاحب کی رضامندی بھی شامل تھی۔ چلیں اپوزیشن رہنماؤں کے متعلق فرض کر لیتے ہیں کہ وہ امریکہ اور مغرب کے ایجنڈے پر ہیں کیونکہ ان کی جائیداد اور اولاد باہر ہے۔

لیکن تحریک انصاف کی اندرونی بغاوت کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ کس عالمی طاقت کا یہ کیا دھرا تھا کہ چینی اسکینڈل کے تمام کردار بچ نکلے اور صرف جہانگیر ترین عتاب کا نشانہ بن گئے۔ جہانگیر ترین اگر قصوروار تھے تو ان کے خلاف کارروائی بنتی ہے لیکن ان کے اہلخانہ اور ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ جہانگیر ترین کے خاندان اور گھر کی جاسوسی کیا سی آئی اے اور موساد کرا رہی تھیں۔ پچھلے ساڑھے تین سال سے یہی سلوک علیم خان کے ساتھ جاری ہے اور اس کی وجوہات بھی وہی ہیں جو جہانگیر ترین کو نشانہ بنانے کی تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے لوگ جن کے اشارے پر تحریک انصاف کے آنگن میں اترے اور اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے کے باوجود تین سال تضحیک برداشت کرتے رہے انہی کے ہشکارے پر واپس اڑان بھر رہے ہیں۔

امریکی جنگ کی شروع دن سے مخالفت والی بات کی حقیقت بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کب شروع ہوئی اور اس جنگ کو اپنے گھر لانے والے جنرل مشرف کے نا جائز اقتدار کو طول دینے کے لیے جناب ریفرنڈم کی حمایت کرتے رہے لہذا یہ چورن نہیں بکنے والا۔ ہر کوئی جانتا ہے حکومت کی مشکلات کا اصل سبب کیا ہے؟ تین سال تک ہر سوال کے جواب میں ایک پیج کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اب دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ کچھ ہوا تو خطرناک ہو جائیں گے۔ یہ بھی بتا دیں کس طرح خطرناک ہوں گے، جن کی مہربانی حاصل تھی ان سے تو بگاڑ لی، باقی رہ گئے عوام تو ان کے لیے کیا کارنامہ انجام دیا؟

موجودہ حکومت کو ریاستی اداروں کی جتنی سپورٹ حاصل رہی کسی حکومت کو نہیں ملی۔ اس کے باوجود اس حکومت نے نہ صرف خارجہ محاذ پر ناکامیاں سمیٹیں بلکہ اقتصادی تنزلی، بازاروں کی ویرانی، افراط زر اور ملکی کرنسی کی بے توقیری کے ریکارڈ قائم کر دیے۔ حکومت یہ سپورٹ اور اپنی توانائی انتقامی نفسیات کی تسکین کی بجائے کسی مثبت سرگرمی میں خرچ کرتی تو آج اتنی بے بسی کی حالت نہ ہوتی۔ حکومت نے اپنی انتقامی نفسیات سے ملک کو معاشی طور پر نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی عوام کی نظروں میں متنازعہ بنا دی تھی۔ اب جتنی بھی گالیاں اور دھمکیاں دی جائیں دو ہزار چودہ میں شروع ہونے والا منصوبہ عارضی طور ہی سہی روکنا ضرور پڑے گا۔

Facebook Comments HS