”بابائے لبیک“ بابو شفقت قریشی
بابو شفقت قریشی کو ہم سے رخصت ہوئے 10 سال ہو گئے ہیں۔ جہاں کہیں حجاج کا اجتماع ہو یا ان کی تربیتی تقریب تو فضا ”لبیک اللھم لبیک“ کے بابو شفقت قریشی سے گونج اٹھتی اور پھر وہ ”لبیک اللھم لبیک“ کے نعرے لگاتے ہوئے ابدی نیند سو گیا۔ میں پچھلے 32 سال سے زائد وزارت مذہبی امور کور کرتا رہا ہوں میں ان سے زیادہ حجاج کے مسئلہ پر کسی کو پریشان نہیں دیکھا حجاج کی بے لوث خدمت ان کا طرح امتیاز تھا۔ ان کا تعلق موضع سہام سے تھا جو میرے گاؤں مصریال سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔
ان کا شمار سہام کے چند پڑھے لکھے افراد میں ہوتا تھا۔ اس لئے لوگ انہیں ”بابو“ کہہ کر پکارتے تھے جو بعد ازاں ان کے نام کا حصہ بن گیا دراصل دور حاضر کے ولی تھا جس کا اوڑھنا بچھونا حج کے سوا کچھ نہ تھا۔ پورا سال اللہ کے مہمانوں کو حرم پاک اور مسجد نبوی میں حاضری کے آداب، منیٰ، مزدلفہ اور میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے طور طریقے سکھانے میں مصروف رہتا نصف صدی سے ان کا اوڑھنا بچھونا حجاج کرام ہی تھے۔
وہ پیرانہ سالی میں بھی ہر سال گلگت و بلتستان کے پہاڑوں سے لے پنجاب کے میدانوں تک حجاج کی تربیتی مجالس سجاتے، تربیتی ورکشاپ ہو یا حجاج کا طیارہ محو پرواز، میدان عرفات ہو ان کی ”لبیک اللھم لبیک“ کی آواز کی گونج سنائی دیتی تھی۔ وہ کچھ اس طرح گرجدار آواز میں ”لبیک اللھم لبیک“ بلند کرتے کہ لوگوں نے ان کا نام ہی ”بابائے لبیک“ رکھ دیا اگرچہ وہ سہام کے قریشی قبیلے سے تھا لیکن اس حلقہ احباب ”حجاج“ تھے وہ حجاج کی محافل میں خوشی خوشی شرکت کرتے انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ”سی سی ایم اے“ میں حساب دان کی حیثیت سے کیا لیکن ملازمت کے دوران ان کا دین کی طرف رجحان ان کا سی سی ایم اے کے ”حساب کتاب“ میں دل نہ لگتا وہ اپنے فرصت کے لمحات دیندار لوگوں میں گزارتے سارا وقت حجاج کی فلاح و بہبود کی سوچ میں گزار دیتے انہوں پوری زندگی جہاں حجاج کی فلاح و بہبود کے لئے ہر پیلٹ فارم پر آواز اٹھائی وہاں ان کے مسائل کے حل کے لئے قلم کو ایسا اٹھایا کہ دبستان تحریر کر دیے شاید کسی شخص نے اتنی بڑی تعداد میں حجاج کے مسائل پر مضامین اور مراسلے تحریر کیے ہوں جتنے ان کے قلم نے لکھے گئے ہیں۔
درویش صفت بابو شفقت رات کو اپنا قلم اٹھاتا اور نماز فجر تک حجاج کے بارے میں ہی لکھتا رہتا سہام کا ارب پتی ہونے باوجود طویل عرصے تک سائیکل اور پھر سکوٹر ان کی سواری رہی ان کے سکوٹر کی دوسری سواری میاں اقبال ہی تھی۔ دونوں کی رشتہ داری پر ”دوستی“ حاوی ہو گئی انہوں نے سب سے زیادہ وقت اپنے دوست میاں اقبال کے ساتھ گزارا عمر کے آخری حصے میں خرابیٔ صحت کے باعث موٹر کار کے استعمال آمادہ ہو گئے 80 سالہ بابو شفقت قریشی سہام کی انتھک شخصیت تھی۔
وہ اپنے نام کی طرح شفیق تھے۔ ہی انہوں نے اپنے پورے گھرانے کو حجاج کی خدمت میں لگا دیا ان کے تینوں صاحبزادے انجم قریشی، قیصر قریشی اور عمران قریشی ہمہ وقت اپنے عظیم والد کے حجاج کی خدمت کے مشن میں معاون رہتے جب کہ ان کی اہلیہ محترمہ عجائب سلطانہ اور بہو اور بیٹیاں بھی خواتین حجاج کی تربیت کا فریضہ انجام دیتی رہیں اور عملی طور پر ان کے پورے گھرانے نے اپنے آپ کو حجاج کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اس وقت ان کے صاحبزادے بابو عمران قریشی عملی طور اپنے عظیم والد بابو شفقت قریشی کا نام روشن کر رہے ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیشتر لوگوں نے حج کو کاروبار بنالیا ہے اور اس کام سے وابستہ افراد فوائد حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن بابو شفقت قریشی کی سرشت ہی کچھ اور تھی۔ وہ اپنی کمائی ہوئی دولت اس کار خیر میں خرچ کرتے ہر سال حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے اپنی جیب خاص سے ایک لاکھ سے زائد کتابچے طبع کرا کر حجاج میں مفت تقسیم کرتے اللہ تعالیٰ نے انہیں 1979 ء سے وفات تک ہر سال مسلسل حج کی سعادت نصیب کی دل کے آپریشن کے باوجود نہ صرف حج کی سعادت حاصل کی بلکہ عازمین حج کی تربیت میں بھی مصروف رہے لیکن عمر رسیدہ ہونے کی پروا کیے بغیر جوانوں کی طرح سرد گرم موسم میں سرگرم عمل رہنے کے باعث وہ ہسپتال میں ایسے گئے کہ وہاں سے ان کی موت کی ہی خبر آئی مرحوم بابو صاحب کم و بیش ایک ماہ تک موت سے لڑتے رہے بالآخر وہ موت سے شکست کھا گئے اور پھر وہ اس جہاں میں چلے گئے جہاں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا بابو شفقت کا میرے ساتھ پیار کا بڑا رشتہ تھا۔
وہ اخبارات میں حج سے متعلق کوئی خبر شائع نہ ہونے پر گلہ کرتے تو میں ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ سارا سال حج کی خبریں ہی شائع نہیں ہوا کرتیں تو وہ ناراض ہو جاتے اور اس بات پر اصرار کرتے کہ حجاج کا بھی اخبار پر حق ہے۔ وہ حج کے دوران کسی حاجی کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے تو بے چین ہو جایا کرتے وہ ہر سال وفاقی وزارت مذہبی امور کو حج پالیسی سے متعلق تجاویز پیش کرتے ان کی کئی تجاویز پر عمل درآمد بھی ہوتا اگر یہ کہا جائے کہ ہر سال حج پالیسی کی تیاری میں ان کا بڑا عمل دخل ہوتا تھا تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گا۔ آج ان کے صاحبزادے بابو عمران تنویر قریشی یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ انہیں ایک بار حجاج کی خدمات پر وفاقی وزارت مذہبی امور میں مشیر کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے سرکاری عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی اور کہا کہ وہ حجاج کی خدمت کے بدلے سرکار سے کوئی انعام نہیں لینا چاہتے۔
مجھے حج سے متعلق امور پر ہمیشہ ان کی رہنمائی حاصل رہی ان سے حج کے بارے میں کوئی انفارمیشن حاصل کرنی ہو تووہ ہر وقت فراہم کرنے کے لئے تیار ہوتے وہ دراصل ”حج ڈائریکٹری“ تھے انہوں نے وفاقی وزارت مذہبی امور میں اپنے اثر و رسوخ کو کبھی ذاتی منفعت کے لئے استعمال کیا اور نہ ہی حج کو کاروبار بنایا انہیں حج سے متعلق امور پر اس حد دسترس تھی کہ وہ ایسی نپی تلی خبر بناتے کہ اس کی ایک سطر بھی کاٹنے کی گنجائش نہیں ہوتی ان کے استاد ڈاکٹر ریاض مرحوم تھے جنہوں نے ان کو حجاج کی تربیت کی طرف راغب کیا لیکن بابو شفقت قریشی تو اپنے شاگردوں کی تعداد میں خود کفیل تھے۔
انہوں نے حجاج کی تربیت کے لئے ایک پورا قافلہ تیار کیا جس کے ارکان مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے رفیق حجاج کمیٹی قائم کی جس کا تاحیات جنرل سیکریٹری میاں محمد اقبال کو بنایا جو عمر بھر ان کے دست راست رہے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی حجاج کی تربیت کے لئے اپنا جانشین عمران قریشی کی صورت میں تیار کر دیا جو ان کی موجودگی میں بارہا حجاج کی تربیت کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ بابو شفقت قریشی نے صرف حجاج کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا قلم استعمال نہیں کیا بلکہ علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے بھی کوشاں رہے سابق صدر ضیاء الحق نے ان ہی کی کوششوں سے مدینۃ الحجاج اسلام آباد تعمیر کرایا ان کے آخری سفر جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت کی وجہ سے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا جس کی تعمیر میں انہوں نے دن رات دلچسپی لی
بابو شفقت میموریل سوسائٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن تاحال یہ سوسائٹی قائم ہوئی اور نہ ہی بابو شفقت میموریل ٹرسٹ قائم کیا جا سکا سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے مدینٹ الحجاج اسلام آباد کے ہال کو بابو شفقت کو نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا لیکن بیورو کریسی آڑے آ گئی تاحال وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی کوئی شاہراہ بھی ان کے نام سے منسوب کی گئی اور نہ ہی ان کی وفات کے بعد ان کے لئے سول ایوارڈ کا اعلان کیا گیا مدینۃ الحجاج کا کوئی گوشہ کو ہی بابو شفقت کے لئے منسوب کر دیا جائے جہاں ان کی لبیک اللھم لبیک کی آواز گونجتی تھی۔

