پیپلز پارٹی کا مارچ: جیسے میں نے دیکھا


میں ایک رپورٹر ہوں اور میں نے بلاول بھٹو زرداری کے کراچی سے لے کر اسلام آباد تک مارچ کے ساتھ سفر کیا، جو چیزیں میرے مشاہدے میں آئیں میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

ویسے تو لانگ مارچ کے کئی پہلو ہیں لیکن دو تین باتیں ایسی ہیں جن کا ذکر کرنا بہت ہی ضروری ہے۔

جیسا کہ مارچ جب خانیوال پہنچا تو وہاں پر آصفہ بھٹو زرداری بھی بلاول بھٹو کے ہمراہ اس ٹرک پر موجود تھیں جس ٹرک سے بلاول بھٹو اور دیگر قائدین مارچ کے شرکا سے خطاب کر رہے تھے، اس دوران محترمہ آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود کارکنان کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں اور تالیاں بجا کر ہجوم کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی تھیں۔ اچانک سے ایک ڈرون کیمرہ آگے تیزی سے محترمہ آصفہ بھٹو کی طرف بڑھتا ہے اور انہیں ہٹ کرتا ہے۔

یقیناً آصفہ بھٹو زرداری نے اس ڈرون سے بچنے کے لئے ہاتھ اوپر کیا لیکن ڈرون اپنا کام کرچکا تھا اور اس نے ان کی کنپٹی کو ہٹ کیا۔ زخم اتنا گہرا تھا کہ اس کے دماغ کی ہڈی بھی نظر آ رہی تھی۔ اس دوران حملے کی وجہ سے محترمہ آصفہ بھٹو زرداری تھوڑا سا لڑکھڑائیں اور ایک اسٹیپ نیچے آ گئیں، اسی دوران جب یہ واقعہ ہوا تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جو کہ ٹرک میں ان کے ساتھ ہی کھڑے تھے ان کی حیرت کا عالم نہ رہا انہوں نے فوری طور پر اپنی بہن کو سنبھالا اور یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ کیا ہوا؟ اس دوران بلاول بھٹو زرداری کی پریشانی اور غصے کا عالم دیکھنے والا تھا۔

انہوں نے اپنی بہن کے زخموں پر فوری طور پر اپنے گلے میں لٹکا ہوا اجرک باندھا اور انہیں کنٹینر کے اندر لے گئے جہاں پر فوری طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آصفہ کے زخم کو ٹھیک کرنے کے لئے ٹانکے لگائے جائیں لیکن آصفہ بھٹو اپنے بھائی بلاول کو بھاؤ کہہ کر کے مخاطب ہو کر کہتی رہیں کہ کوئی بات نہیں بینڈیج کر لیں میں دوبارہ اسٹیج پر واپس جانا چاہتی ہوں۔

لیکن بھائی کے اصرار کے بعد انہیں فوری طور ملتان شفٹ کیا گیا۔ جہاں انہیں پانچ ٹانکے لگے۔ اب یہاں مارچ کا عالم یہ تھا کہ کارکنان بلاول بھٹو کا خطاب سننے کے لئے موجود تھے اور اچانک سے یہ واقعہ ہو گیا اس دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپنے آپ کو سنبھالا، غم اور غصے کو ملا کر پی گئے، پانی کا گلاس پینے کے بعد وہ واپس اسٹیج پر آئے اور انہوں نے کارکنان سے خطاب کرنا شروع کر دیا کہ شہد بے نظیر کی بیٹی اتنی بہادر ہے کہ زخمی ہونے کے باوجود وہ دوبارہ اسٹیج پر واپس آنا چاہتی تھی لیکن ہم نے کہا نہیں بی بی آپ آرام کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ تھا یہ اتفاق لیکن ہم ایسے واقعات سے ڈرنے والے نہیں اسی خطاب کے دوران وہ آب دیدہ بھی ہو گئے۔ اس لانگ مارچ کے دوران میں نے دس دن بلاول بھٹو زرداری کو جو قریب سے دیکھا تو ان کے سرزنش کرنے کا عمل ہوبہو میر مرتضی بھٹو جیسا تھا۔ ان کے چہرے کا عکس شاہنواز بھٹو جیسا لگ رہا تھا۔ وہ بہادری، رحم دلی، فقیرانہ طبیعت، اور درگزر میں بالکل اپنی امی شہید محترمہ بے نظیر جیسے لگے۔ وہ دانش میں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو جیسے اور مسکراہٹ میں اپنے والد آصف علی زرداری جیسے لگے۔

اس لانگ مارچ کی تخلیق، کمانڈ، سوچ اور ڈسپلن سب کا سہرا فقط ہی فقط بلاول بھٹو زرداری کے سر جا تا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اس لانگ مارچ میں کئی بار ناپسندیدگی کا اظہار اور درگزر بھی کرتے رہے، لانگ مارچ کے دوران بلاول بھٹو کی ہر چیز پر نظر کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پنجاب کے ایک علاقے سے رات کے وقت ان کے ٹرک کا گزر ہو رہا تھا کہ ایک خاتون پھولوں کا ہار لیے کھڑی تھی کہ ٹرک کا وہاں سے تیزی سے گزر گیا لیکن بلاول بھٹو کی اس خاتون پر نظر پڑ گئی۔ بلاول اس بات پر دکھی ہو گئے کہ کاش میرا ٹرک وہیں رک جاتا اور وہ بوڑھی اماں وہ ہار مجھے اپنے ہاتھوں سے پہناتی۔ جب ایسا نہ ہو سکا تو انہوں نے سکیورٹی چیف کو فوری ہدایت کی کہ پیچھے آنے والی گاڑی رک کر اس اماں سے وہ ہار لے کر آئے۔ حالانکہ وہ ہار مصنوعی پھولوں کا تھا لیکن بلاول نے وہ ہار منگوایا اور گلے میں پہن لیا۔

میری اطلاعات کے مطابق وہ ہار ابھی تک بلاول بھٹو کی گاڑی میں پڑا ہوا ہے، بتایا یہ جاتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری غریب کارکن کی دی ہوئی ہر چیز کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے کو مخصوص بھی کر رکھا ہے۔ اور جب ان کا دل چاہتا ہے ان میں سے کوئی ایک چیز پہن لیتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اس لانگ مارچ کے دوران اپنے کارکنان کے کھانے، پینے، رہنے اور سفر کے دوران محفوظ طریقے سے چلنے کے لئے فکرمند رہتے تھے، وہ میڈیا ٹیم سے لے کر ٹرک کے اوپر، اندر اور مارچ کی پوری موومنٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ کوئی گاڑی رش یا ٹریفک جام کی وجہ سے رانگ سائیڈ پکڑ لیتی تو بلاول صاحب اس پر تشویش کا اظہار کرتے اور یہ ہدایات جاری کرتے رہے کہ قافلے کی کوئی بھی گاڑی رانگ سائڈ سے نہ گزرے، خدانخواستہ حادثہ نہ ہو جائے۔

بلاول اس بات کی بھی خبر رکھتے کہ میڈیا کو کون سے ٹکر، خبر، فوٹو اور ویڈیو کلپس جا رہے ہیں۔ وہ اس دوران خاص طور پر لاہور پہنچ کر تمام منتخب اراکین کو یہ ہدایات جاری کرتے رہے کہ وہ ٹرک پر سوار ہونے کے بجائے اپنے علاقے کے کارکنان کے ہمراہ رہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب بھی ایسا موقعہ آیا کہ منتخب نمائندے کارکنان کے بجائے ٹرک پر سوار ہوتے تو بلاول بھٹو ان کو یہ پیغام دیتے کہ آپ کارکنان کے ساتھ رہیں۔ مارچ کے دوران بلاول بھٹو ان عارضی خیمہ بستیاں جہاں کارکنان کے رہنے سہنے کا بندوبست کیا گیا، کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لیتے رہے، وہ اس بات کے لیے فکرمند تھے کہ مارچ کے شرکا، خصوصاً کارکنوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

میں نے اسلام آباد میں یہ بھی دیکھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو کارکنان سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ وہ پارٹی کارکنان کو ہونے والی کسی بھی تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مارچ کے دوران منتخب نمائندوں کی بجائے کارکنان کے لئے زیادہ فکرمند تھے۔ اس مارچ کے دوران بلاول بھٹو زرداری کی ایک کمزوری بھی نظر آئی وہ کسی بھی غریب کارکن یا عوام کا دکھ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی عام غریب آدمی یا کارکن رو کر اپنا دکھ بیان کرتا تو وہ اسے فوری طور پر اسے دلاسا دیتے۔ کبھی کبھار ایسا ہوا کہ نرم دلی کی وجہ سے اپنی آنکھیں بھی بھر آتی۔

میں نے سنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بلاول بھٹو تک یہ سارے بھٹوز عوام کے عاشق ہیں۔ اور وہ جب بھی کارکنان کو دیکھتے ہیں اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھ سکتے اور وہ ہر صورت میں جان جوکھم میں ڈال کر جمع ہونے والے لوگوں کو اپنے نعروں، ہاتھ لہرا کر اور تقاریر سے رسپانس دیتے ہیں۔ یہ ہی جھلک بلاول بھٹو زرداری میں مارچ کے دوران نظر آئی، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام آباد سے پہلے کوئی بھی ایسا شہر نہ تھا جہاں انہوں نے دو مرتبہ خطاب کیا ہو لیکن اوکاڑہ کے عوام، کارکنان، خواتین، مرد، بچوں اور ہر عمر کے شخص نے بلاول کو اوکاڑہ شہر میں دو مرتبہ خطاب کرنے پر مجبور کیا۔

بلاول بھٹو کا ویسے تو ہر شہر میں والہانہ پرتپاک استقبال ہوا، بلاول پنجاب کے ان علاقوں میں بھی پہنچے خصوصاً سینٹرل پنجاب جہاں یہ تاثر تھا کہ پیپلز پارٹی وینٹیلیٹر پر ہے لیکن بلاول بھٹو نے پارٹی کو نہ صرف وہاں کھڑا کیا بلکہ وہاں سے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ سینٹرل پنجاب میں پیپلز پارٹی وجود رکھتی ہے اور عام انتخابات میں اس کا اظہار بھی ہو جائے گا۔ بلاول کے اس مارچ کے دوران ایک پارٹی ترانہ بھی چلا جو پنجابی زبان میں تھا۔ ”بھٹو دے نعرے وجن دے“ ۔ جب بھی وہ ترانہ چلتا تو وہ جھوم اٹھتے تھے، خوشی کا اظہار کرتے تھے، مسکراہٹ اور فاتحانہ انداز ان کے چہرے پر آ جاتا تھا۔ وہ تالیاں بجا کر دونوں ہاتھوں کے مکے بھی لہراتے رہے جس سے مارچ کے شرکا بھی جھوم اٹھتے تھے جیسے کسی میں کرنٹ آ جاتا ہو، اس مارچ کی تخلیق اور اس کی کامیابی کا سہرا فقط ہی فقط بلاول بھٹو کے سر جاتا ہے لیکن مارچ میں شامل کارکنان نے بھی کمال کر دیا۔

پیپلز پارٹی کی تاریخ کا سب سے کامیاب، منظم، قوت سے بھرپور یہ مارچ تھا اس مارچ میں پیپلز پارٹی کے کارکنان میں جو نظم ضبط دکھایا اس کی مثال خود پیپلز پارٹی کے اندر نہیں ملتی۔ بلاول کے مارچ کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ دس دنوں کے سفر کے دوران انہوں نے 35 شہروں میں خطاب کر کے پیپلز پارٹی کو ایک منظم اور طاقتور قوت کے طور پر سامنے لا کر دکھایا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس دوران 40 کے لگ بھگ میڈیا ہاؤسز کو انٹرویوز دیے۔ بلاول نے تقاریر کے دوران پارٹی کے خلاف ہونے والی ماضی کی سازشوں کو بھی کھل کر بیان کیا اور عوام کو یہ اعتماد دلایا کہ بھٹو ازم نہ مرتا ہے نہ بکتا ہے، بلکہ زندہ ہے۔

Facebook Comments HS