قندیل بلوچ اور ظاہر جعفر کے والدین کو سلامِ عقیدت
دنیا کے تمام مذاہب میں والدین کا درجہ بہت بلند ہے۔ ماں کے وجود کو جنت اور باپ کے وجود کو بچوں کے لئے گھنے سائے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ والدین بننا نہ صرف ایک اعزاز بلکہ نہایت شادمانی کا مقام ہوتا ہے مگر ساتھ ہی بچے کی پرورش اور تربیت کے حوالے سے والدین پر بہت بھاری ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے۔ ”کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے۔“ یہ محاورہ والدین کو سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ بچوں کی تربیت و پرورش کیسے کرنی ہے۔
بچے بچیوں کے روئیے پر کڑی نگاہ رکھنے کا عمل یقیناً قابل ستائش ہے۔ لیکن ان والدین کی کیا تعریف کی جائے جو اپنے بیٹوں کو وسیم (قندیل بلوچ کا بھائی) جیسا دلال قاتل اور ظاہر جعفر جیسا ریپسٹ درندہ بننے سے نہ روک سکیں، بہن کی کمائی کھانے والے بے غیرت کو غیرت کے نام پر قتل کرنے سے نہ روک سکیں، بیٹے کو پہلے بدکار اور پھر ریپسٹ قاتل بننے سے نہ روک سکیں؟ چلیں، لڑکی کے ساتھ تعلقات اور بدکاری کو اس لڑکے کا ذاتی معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن لڑکی کی آبروریزی اور اس کا گلا کاٹ دینا۔ ایسے سفاک درندے کے لئے گالیاں چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔ بیشک دلال اور ریپسٹ قاتل کے والدین کے لئے دنیا کی تمام زبانوں کے تعریفی الفاظ بھی جمع کر لیں تو وہ کم ہوں گے۔
ہمارے ہاں بچوں کی تربیت اور پرورش میں نمایاں عنصر بیٹے اور بیٹی کا فرق ہے۔ جو الگ الگ مقام اور حیثیت بیٹے اور بیٹی کو گھر اور معاشرے میں ملتا ہے، وہیں سے مرد اور عورت کے درمیان ایک گہری اور وسیع خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ عورت اور مرد کے معاشرتی مقام میں نمایاں فرق کئی بڑے صنفی اور معاشرتی مسائل پیدا کرتا ہے۔ قندیل بلوچ اور نور مقدم کا قتل، گزشتہ سال چودہ اگست کے موقع پر مینار پاکستان پارک میں پیش آنے والا واقعہ، اور میانوالی میں ایک درندے باپ کے ہاتھوں چند دن کی بچی کا حالیہ قتل اس بات کی نمایاں مثالیں ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت اور مرد کے ساتھ کتنا متضاد رویہ اپنایا جاتا ہے ۔ غیرت کے نام پر اور مرد کی مرضی پر چلنے یا دوستی، شادی سے انکار پر صرف عورت نشانہ بنتی ہے۔ قتل، تشدد، زیادتی و آبروریزی، اور تیزاب گردی کا نشانہ۔
ہر سال ہونے والے عورت مارچ اور یوم نسواں کے موقع پر اس بات کا شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ عورت کو حقوق دینے کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو درندہ بننے سے روکا جائے۔ گھر کی لڑکیوں اور خواتین کی حیا اور کردار کو غیرت اور ناک کا مسئلہ بنانے کی بجائے لڑکوں کو انسانیت اور رحم دلی کا درس دیں۔ اسے عورت کو تکلیف پہنچانے والا نہ بننے دیں بلکہ عورت کو راحت، مسرت، اور تحفظ دینے والا بنائیں، گھر کی اور باہر کی ہر عورت اور لڑکی کے لئے۔
جب تک عورت کو مرد کی ملکیت اور اس کی عزت کی ذمہ دار سمجھا جاتا رہے گا، تب تک کئی درندہ صفت وسیم اور ظاہر جعفر پیدا ہوتے رہیں گے اور کئی قندیل اور نور مقدم ان کی درندگی کا نشانہ بنتی رہیں گی۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے ہاں تو ہر وہ لڑکی اور عورت، مرد کے نشانے پر ہے جو اس کی بدبودار غیرت کی صلیب اٹھانے میں ناکام ہو جائے یا زہریلے مرد کی ملکیت بنے رہنے سے انکار کر دے۔
پہلے ایک دلال بے شرمی سے بہن کی کمائی کھائے، پھر کسی ان بن پر غیرت کا بہانہ کر کے اسے قتل کر دے۔ اور ایک جنگلی پہلے اپنی محبوبہ کے ساتھ تعلقات اور اسے اپنی ملکیت بنائے رکھے، جب غلطی کا احساس ہونے پر وہ لڑکی اس سے تعلق ختم کرنا چاہے تو اس کے ساتھ منہ کالا کر کے گلا کاٹ دے۔ ستم بالائے ستم، ریپسٹ درندے کی پیدائش کا سبب والا بے شرم باپ کہتا تھا، ”غصے میں آ کر قتل کر دیا ہو گا۔“ اور اگر آپ زہریلی زبان والے عورت دشمن اینکر پرسن ہیں تو یہ کہنا مت بھولیں کہ وہ بدچلن تھی، اس کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ نور مقدم کا کردار ایک طرف لیکن ریپسٹ درندے کے گناہ سی سی ٹی کیمرے میں ضرور محفوظ ہو گئے جو ناقابل تردید ہیں۔ زہریلا اینکر پرسن ظاہر جعفر کے گناہوں کا ذکر کرنا دانستہ بھول گیا۔ ظاہر ہے بھائیوں کے گناہوں پر تو پردہ ڈالا جاتا ہے۔
قندیل بلوچ کا باپ مر چکا ہے ورنہ دلال قاتل کا باپ ہونے کے اعزاز کے ساتھ زندہ رہتا۔ عصمت آدم جی اور ذاکر جعفر ایک بدکار، ریپسٹ، اور قاتل درندے کے والدین کے تمغے ساتھ بقیہ زندگی گزاریں گے۔ کاش، عصمت نامی عورت کو نور مقدم کی عصمت اور زندگی کا بھی احساس ہوتا۔ قندیل بلوچ کی ماں پہلے بیٹی کے قتل پر رونا روتی تھی، پھر غیرت مردانہ سے سرشار قاتل بیٹے کو یہ کہہ کر معاف کروا لائی کہ روز روز کی مقدمے بازی بھگتنے کا حوصلہ نہیں ؛ بیٹی تو چلی گئی، کم از کم بیٹے کو ہی بچا لوں۔ قندیل کی ماں ”بیٹی کا گوشت کھانے والی اور خون پینے والی ڈائن“ کے خطاب کی بجا طور پر مستحق ہے۔
یہ شرم و حیا اور غیرت سے عاری والدین کھاتے پیتے، سوتے، اور نارمل طریقے سے زندگی گزارتے ہیں کیونکہ ان کا ضمیر مر چکا ہے۔ اگر ضمیر زندہ ہوتا تو اپنے بدبخت اور بدکار بیٹوں کے ساتھ چلو بھر پانی میں ڈوب جاتے۔ جب تک بیٹی اور بیٹے کے لئے سوچ اور ان کو ملنے والا مقام یکساں نہ ہوں گے تب تک وسیم اور ظاہر جعفر جیسے سیاہ نصیب، بیٹیوں بہنوں اور عورتوں کے قاتل بنتے رہیں گے۔ درندوں کی پیدائش کا خاتمہ ہی عورت کی آبرو اور زندگی کو محفوظ بنانے کا واحد طریقہ ہے۔


