لفظوں کی کرامات
منیر نیازی کو اپنی محبوبہ سے اظہار محبت کرنے میں کئی برس لگے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی ایک مختصر نظم میں لکھا
’ مجھے تم سے محبت ہے‘
بس اتنی بات کہنے کو
لگے بارہ برس مجھ کو
منیر نیازی کو تو بارہ برس لگے لیکن پہلے انسان کو جس نے اپنے محبوب سے اظہار محبت کیا اسے بارہ ہزار برس لگے کیونکہ اسے اس منزل تک پہنچنے کے لیے بہت سی سخت مقامات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
جب ہم انسانی تاریخ اور ارتقا کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایک وہ دور تھا جب انسان بھی کسی حیوان کی طرح صرف حلق سے آوازیں نکال سکتے تھے اور اشاروں سے ایک دوسرے سے مخاطب ہو سکتے تھے۔
پھر وہ دور آیا جب انسان نے پہاڑوں چٹانوں اور غاروں پر کچھ نقش و نگار بنانے شروع کیے۔ یہ اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اولیں اظہار تھا۔
ان نقوش کی کوکھ سے حروف نے جنم لیا اور انسان نے حروف سے اپنی آوازوں کو جوڑا۔
اس نے حلق سے نکلنے والی ہر آواز کے لیے ایک حرف چنا۔
وہ حرف اس آواز کا نمائندہ بنا۔
با۔ کے لیے ب
پا کے لیے پ
ما کے لیے م
پھر ان حروف کی تکرار اور ان کو جوڑنے سے الفاظ نے جنم لیا۔
اسی لیے ہر نیا بچہ بھی پہلے جو آوازیں اور الفاظ منہ سے نکالتا ہے اور اپنے پیاروں کو بلاتا ہے وہ
ماما۔ بابا۔ پاپا۔ ہی ہوتے ہیں۔
ان الفاظ سے انسان اپنے ابتدائی رشتوں سے جڑتا بھی ہے اور پیاروں سے اپنا دل جوڑتا بھی ہے۔ الفاظ بچے اور اس سے پیار کرنے والوں کے درمیان ایک محبت بھرے پل کا کام کرتے ہیں۔
پھر وہ دور آیا جب انسان نے لفظوں کو جوڑ کر ان کے مصرعے اور جملے بنائے۔ مصرعوں سے شاعری اور جملوں سے نثر نے جنم لیا۔
شاعری میں انسان نے اپنے جذبات و احساسات اور نثر میں انسان نے اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کرنا اور اپنے عزیزوں تک پہنچانا سیکھا۔
اس طرح انسان نے دوسرے انسانوں سے اپنی چاہتوں اور رفاقتوں ’ندامتوں اور رقابتوں کا اظہار سیکھا۔
اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو اردو زبان میں
نہ غزلیں ہوتیں نہ نظمیں
نہ افسانے ہوتے نہ ناول
نہ ڈرامے ہوتے نہ محبت نامے
زبانیں انسانوں کے ارتقا کی آئینہ دار بھی ہیں اور اجتماعی سرمایہ بھی۔
مختلف زبانوں کے مختلف الفاظ اس سماج کی نفسیات اور طرز زندگی کے آئینہ دار ہیں۔ ایک مثال حاضر ہے
انگریزی میں انسانی رشتوں کے لیے
انکل۔ آنٹی۔ گرینڈ مدر۔ گرینڈ فادر ہیں۔
لیکن اردو میں
انکل کے لیے۔ ماموں۔ چچا۔ خالو اور پھوپھا بھی ہیں
آنٹی کے لیے۔ خالہ۔ پھوپھی۔ ممانی اور چچی بھی ہیں
گرینڈ فادر کے لیے۔ دادا۔ نانا
اور
گرینڈ مدر کے لیے۔ نانی۔ دادی بھی ہیں۔
انسانوں کی طرح الفاظ کی بھی شخصیت ہوتی ہے اور وہ بھی مختلف خاندانوں اور قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب عالیہ تخلیق کرنے والے ادیب الفاظ کی نفسیات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ جانتا ہوں کہ جب انسان دل کی گہرائیوں میں چھپے اپنے تکلیف دہ جذبات اور احساسات کا چاہے وہ غصہ ہو ’نفرت ہو یا تلخی کا الفاظ میں اظہار سیکھ جاتا ہے تو وہ اپنے جذباتی زخموں کا اندمال کرنے لگتا ہے اور پھر اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکتا ہے۔
جس طرح ایک ماہر نفسیات الفاظ سے ایک انسان کے جذبات کا اظہار کر کے اس کے دکھوں کو کم کرتا ہے اسی طرح ایک شاعر جب اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے تو اس کی شاعری کی وساطت سے اس کے قاری کو بھی وہ الفاظ مل جاتے ہیں جن سے وہ پہلے آگاہ نہیں تھا اور وہ سمجھنے لگتا ہے
یہ بھی میرے دل کی آواز ہے
یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر ایک مسیحا بن جاتا ہے اور
؎ شاعری جزو ایست از پیغمبری
کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے درمیان الفاظ کے پل تعمیر کرتا ہے اور اس کے اشعار اس کے عہد کی نمائندگی کر کے قارئین اور سامعین اور ناظرین کو نئے خوابوں اور آدرشوں کے تحفے دیتے ہیں۔
شاعر کا تجربہ ’اس کا مشاہدہ‘ اس کا مطالعہ اور اس کا تجزیہ اس کے دور کی ترجمانی کرتا ہے۔
جہاں شاعری کے الفاظ جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں وہیں سائنس دانوں اور فلسفیوں کی نثر کے مضامین اور مقالے اس عہد کے مختلف علوم کے خیالات و نظریات کا اظہار کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ ہم سب کی اجتماعی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گھروں ’سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الفاظ کی اہمیت اور زبانوں کی افادیت سکھائیں تا کہ وہ جان اور سیکھ سکیں کہ الفاظ کس طرح
۔ ہماری خواہشوں اور آرزوؤں ’آدرشوں اور خوابوں کی ترجمانی کرتے ہیں
۔ ہم کس طرح الفاظ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں استعمال کر سکتے ہیں
۔ ہم کس طرح اپنے بزرگوں کی دانائی کے اجتماعی ورثے سے استفادہ کر سکتے ہیں اور
۔ ہم کس طرح انسانی ارتقا میں اپنا ایک فعال کردار ادا کر کے انسانی علم اور تجربے کے ذخیرے میں اضافہ کر سکتے ہیں تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہم سے چند قدم آگے جا سکیں اور انسانی ارتقا کا سفر جاری رہے۔
اس سفر میں وہ ادیب اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ایک زبان کا ادب دوسری زبان میں منتقل کرتے ہیں۔ وہ تراجم سے ایک کلچر اور ایک روایت کی دانائی کو دوسرے کلچر اور روایت میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ مترجم اجتماعی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وہ بچے جو اپنے بچپن میں ایک سے زیادہ زبانیں سیکھتے ہیں ان کے ذہن کشادہ ہوتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر جان جاتے ہیں کہ ایک ہی چیز اور جذبے اور سچ کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔ اس تجربے سے ان کی سوچ میں گرانقدر اضافے ہوتے ہیں اور وہ مختلف زبانوں ’ثقافتوں اور روایتوں کے نمائندوں سے مکالمہ کر کے اپنی شخصیت میں وسعت اور دانائی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ عالمی گاؤں کا حصہ بن سکتے ہیں۔
انسان حیوان ناطق اسی لیے پکارا جاتا ہے کیونکہ وہ گفتگو کرتا ہے اور زبان کو اپنے جذبات ’احساسات‘ خیالات و نظریات کے اظہار کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حیوان ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ مختلف زبانوں کے ہی کمالات اور الفاظ کی ہی کرامات ہیں کہ انسان نے پچھلے چند ہزار سالوں میں مذہب اور ادب ’سائنس اور ٹکنالوجی میں بے حساب ترقی کی اور ارتقا کی منازل طے کیں۔ اگر انسان کے پاس الفاظ نہ ہوتے تو وہ آج بھی بڑے بڑے شہروں کی بلند و بالا عمارات میں رہنے کی بجائے غاروں میں زندگی بسر کر رہا ہوتا اور ہم سب اپنے بزرگوں کی دانائی اور ادب عالیہ سے محروم رہتے اور اپنے محبوب کو کوئی نظم سنا کر اپنی محبت کا اظہار نہ کر پاتے۔
جانے سے پہلے آپ کو اپنی ایک انگریزی نظم کا ترجمہ سناتا چلوں
الفاظ
الفاظ وہ تیر ہیں جو دلوں کو چھلنی کر دیتے ہیں
الفاظ وہ ماچس کی تیلیاں ہیں جو من میں آگ لگا دیتی ہیں
الفاظ وہ آئینے ہیں جو ہمیں ہماری حقیقت سے متعارف کرواتے ہیں
الفاظ وہ دوست ہیں جو ہماری آس بڑھاتے ہیں
الفاظ وہ مسیحا ہیں جو ہمارے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں
الفاظ وہ محبوب ہیں جو ہم سے محبت بھری باتیں کرتے ہیں
کیا آپ نے کبھی الفاظ پر سنجیدگی سے غور کیا ہے؟
کیا آپ نے کبھی الفاظ کو اپنے سینے سے لگایا ہے؟
۔ ۔



Comments are closed.