آئیں بلاول کو اردو سکھائیں


میں ایک ایسے ملک میں رہتی ہوں جہاں تین قومیں بستی ہیں تینوں کی اپنی زبانیں ہیں جو وہ آپس میں بولتے ہیں، تینوں کے مختلف مذاہب ہیں سب اپنے اپنے عقائد کے مطابق خوشی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔ انگریزی وہ واحد زبان ہے جو تینوں ہی بول لیتے ہیں، کچھ بہت اچھی اور کچھ ٹوٹی پھوٹی۔ آئیے میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سناتی ہوں

ابھی کچھ مہینے قبل میں نے اپنا گھر تبدیل کیا۔ یہ گھر ایک خاتون کی ملکیت ہے جس کے ایک کمرے میں وہ خود رہتی ہیں اور باقی تمام کمرے وہ سنگل گرلز کو ماہانہ کرائے پر دیتی ہیں۔ میں نے بھی ایک کمرہ ان سے کرائے پر لے لیا۔ گھر نیا ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ لیکن جو بات سب سے خوبصورت ہے وہ اس گھر کے مکین ہیں۔ چار با اعتماد خواتین جو بہت پر سکون اور سلجھی ہوئی ہیں۔ سب ورکنگ وومن ہیں جو دن میں مختلف دفاتر میں کام کرتی ہیں اور شام کو چھ بجے کے آس پاس کام سے واپس آتی ہیں۔

سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ میرے ساتھ انگریزی میں صرف مالک مکان خاتون ہی بات کر سکتیں ہیں کیونکہ وہ میری یونیورسٹی کے ایڈمن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں اس لئے اچھی انگریزی بول لیتی ہیں باقی دو خواتین انگریزی نہیں بول سکتیں وہ اپنی مقامی زبان میں بات کرتی ہیں جو اب میں کچھ کچھ سمجھنے لگی ہوں لیکن بول نہیں سکتی

جب میں اس گھر میں منتقل ہوئی تو پہلے ہی دن میری ملاقات میری مالک مکان نے ایک خاتون سے کروائی جو گراؤنڈ فلور پر رہتی ہیں۔ شرمیلی سی نہایت ہی نازک اندام اور نرم مزاج، یہ خاتون سرکاری افسر ہیں اور جب صبح اپنی سرکاری وردی پہنتی ہیں تو مجھے اپنا بچپن کا پولیس افسر بننے کا خواب یاد کروا دیتی ہیں۔ مگر پہلے ہی دن مجھے معلوم ہوا یہ انگریزی نہیں بول سکتیں۔ میری مالک مکان نے بتایا ہادیہ یہ کہہ رہیں ہیں ”میں ہادیہ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں لیکن انگلش میں بات نہیں کر سکتی کیا ہادیہ ہماری زبان بول سکتی ہیں“ ۔

مجھے یہ سن کر اس خاتون پر بیشمار پیار آیا اور میں نے کہا میں بول نہیں سکتی لیکن کچھ کچھ سمجھ سکتی ہوں، آپ بات کریں میں سمجھ جاؤں گی۔ وہ کہنے لگی ”اچھا میں انگلش میں بولتی ہوں تمہارے ساتھ تم میری انگلش ٹھیک کر دینا“ ۔ میں نے کہا ہاں کیوں نہیں آپ بولیں میں کوشش کروں گی جتنی مجھے آتی ہے ضرور سکھاؤں گی اور یوں ہماری دوستی کا آغاز ہوا

وہ مجھ سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کرنے لگیں اور میں نے ان کے جملے کو کبھی ٹھیک نہیں کیا۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ میں نے ان کی انگریزی کبھی ٹھیک کیوں نہیں کی؟ کیونکہ اس طرح وہ گھبرا جاتیں اور کبھی بھی سیکھ نہ پاتیں۔ میں بس ایک کام کرتی رہی ان کی غلط انگریزی کا جواب درست انگریزی میں دیتی اور جملے میں ان کی لکھی ہوئی بات کو دوہرا دیتی۔ اس طرح ان کو معلوم ہو جاتا اور اگلی دفع مجھے کاپی کرتے ہوئے وہ درست جملہ لکھتی۔

اب وہ سارا دن مجھ سے واٹس ایپ پر انگریزی میں باتیں کرتی ہیں اور شام کو گھر آ کر بھی۔ اور روز مجھے کہتی ہیں تم سمجھ جاتی ہو نا میری بات؟ تو میں جواب میں کہتی ہوں بالکل آپ بہت اچھی انگلش بولتی ہیں۔ کل انہوں نے مجھے حیران کر دیا اتنی اچھی انگلش میں پورا جملہ بالکل درست لکھا جیسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ایسا لگا جیسے میں واقعی اپنی شاگرد کو انگلش سکھانے میں کامیاب ہو گئی

خیر میں اچھی استاد ہوں یا نہیں لیکن ایک چیز جیسے میں نے شدت سے محسوس کیا کہ زبان تو بس ایک طریقہ ہے جس سے ہم ایک دوسرے کی بات کو سمجھ سکتے ہیں۔ ایک سیکھنے والے کے لیے زبان کی گرامر ٹھیک ہونا اہم ہے یا اس کے لیے سیکھنا اور بولنا اہم ہے؟ میری نئی سہیلی نے پچھلے مہینوں میں بیشمار غلط جملے بولے اور لکھے۔ بہت بار ایسا ہوا کہ مجھے اس کی بات سمجھنے کے لیے دو یا تین بار جملے کو پڑھنا پڑا لیکن اس سے میرے دل میں اس کی محبت اور پیار مزید بڑھ گیا۔

کہ وہ کیسے اتنی محنت سے لکھتی ہے بولتی ہے۔ ہر بار جب وہ غلط جملہ لکھتی ہے تو مجھے لگتا ہے شاید یہ میں ہی تو ہوں، آج سے بہت سال پہلے جب میں اسکول میں داخل ہوئی تھی تب شاید میں بھی ایسے ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بولتی ہوں گی اور میری ٹیچر مجھے ٹھیک کرتی ہوں گی بس اس سہیلی اور مجھ میں کچھ سالوں کا فرق ہی تو ہے میں نے کچھ سال پہلے سیکھ لیا اور وہ آج سیکھ رہی ہے

انسان تمام عمر سیکھتا ہے اور جب وہ سیکھنا چھوڑ دیتا ہے تب وہ مر جاتا۔ بس اتنا سا فرق ہے زندہ اور مردہ میں۔ انسان کی طرح قومیں بھی جسم کی طرح ہوتی ہیں جو سیکھتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ کیا ہمارے قومی جسم نے سیکھنا چھوڑ دیا ہے یا ہم نے سیکھنے والے کی تضحیک کو اپنا شیوا بنا لیا ہے؟ ہم ہنستے ہیں ہر اس انسان پر جو ہماری طرح بول نہ سکے چاہے وہ کوئی زبان ہو کبھی ہم غلط اردو بولنے والے پر ہنستے ہیں کبھی غلط انگریزی بولنے والے پر۔ کیا ہم اتنے بڑے عالم بن گئے ہیں کہ دوسرے پر تنقید کر سکیں؟ شاید اس ملک کے بہت سے لوگ بہت باعلم ہیں تبھی وہ اتنی بہادری سے دوسرے پر ہنستے ہیں۔ کاش مجھ کم علم کی بھی اتنی بساط ہوتی

آخر میں بس اپنے آپ سے کچھ سوال : ”کیا ہمارا مزاح صرف دوسرے کی تضحیک سے ہی وابستہ ہے؟ زبان میں غلطی کرنا بڑا جرم ہے یا کسی کی تضحیک کرنا غیر اخلاقی ہے؟ کیا ایک ملک کے سربراہ کو اخلاقیات تمام کی حدود سے بالاتر سمجھا جانا چاہیے یا اس کی اخلاقیات کا اثر بادل نخواستہ عوام پر بھی منتقل ہوتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Facebook Comments HS