خون کے آنسو

سکوت سا لگ رہا تھا جیسے سالوں سے ہوا کا جھونکا نہ آیا ہو۔ آرام سکوں سب تھا۔ کوئی دقت نہیں تھی۔ مگر آج کوئی دن تھا جس کا ہر مہینے مجھے انتظار رہتا تھا اور یاد بھی تھا۔ مگر میں اسے یاد نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ دل کرتا تھا بھول جاؤں۔ یا وہ دن آے ہی نہ۔ مگر پھر وہ آجاتا۔ اپنے وقت پر۔ کیوں آجاتا تھا؟آج ابھی تک وہ نہیں آیا تھا۔ میں منتظر تو تھی لیکن میں دل سے نہیں چاہتی تھی کے وہ آئے۔ شاید میں اپنے اندر ایک تبدیلی کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔ دھیرے سے ہولے سے ایک سانس میرے ساتھ سانس لے۔ ایک نازک سی کونپل مجھ سے پھونٹے۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا؟

Read more

خیر مجھے کیا

کل جو دانے ادھار لیے تھے ختم ہو گئے۔ آج کیا کھاؤں گی؟ میرا مالک گن گن کر دیتا تھا۔ کبھی بھی اتنا نہ ہوا کے جھولی بھر دیتا۔ میں بھی سیر ہو جاتی۔ بھوک عجیب شے ہے جب لگتی ہے تو نہ ثواب دیکھتی ہے نہ گناہ۔ بس لگ جاتی ہے۔ مجھے بھی بھوک لگی تھی۔ مجھے سمجھ نہ آیا آقا سے کیا کہوں۔ مانگوں یا نہیں؟ مجھے مانگنے سے شرم آتی تھی اور شاید اسے دینے سے

میں نے ایک اور دن فاقے سے گزار لیا۔ صبح آنکھ کھلی تو وہ جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ میں نے جلدی جانے کی وجہ پوچھنی چاہی مگر پھر سوچا رہنے دو ہوگا کوئی کام مجھے کیا۔ کوئی نیا منصوبہ ہو گا یا کوئی نئی مصروفیت۔ جلدی جائے یا دیر سے مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ اور اگر میں نے پوچھا تو کون سا مجھے سچ بتایا جائے گا۔ کون سا میں نے پیچھا کر لینا ہے اس لیے جیسا چل رہا ہے چلنے دو

عاطف نے ناشتہ تیار کر لیا تھا۔ باورچی خانے سے آنے والی آوازوں سے ظاہر تھا کچن میں ناشتہ بن رہا ہے۔ میں جان کر لیٹی رہی۔ وہ بچوں سے باتوں میں مصروف تھا۔ چلو کسی کی بھوک کا تو خیال ہے تمہیں۔ میں نے دل میں سوچا۔ نیند پوری ہونے کے باوجود میں بستر سے نہ اٹھی۔ لیٹے لیٹے میں نے گیٹ بند ہونے کی آواز سنی۔ چلو چلا گیا۔ میں نے بستر تو چھوڑ دیا مگر ابھی میرا دماغ وہیں کہیں کھویا ہوا تھا۔ اب یہ سیدھا آفس تو نہیں گیا ہو گا۔ اتنی صبح کون آفس جاتا ہے؟ ہاں اگر کسی کو پک کرنا ہو تو یہ الگ بات ہے۔ یا شاید کسی کے گھر جانا ہو کسی ضروری کام سے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خیر مجھے کیا؟

Read more

میرا ناپاک خون

مجھے محبت نے ڈسا تھا ایک بار نہیں بہت بار۔ آسمان والا خدا کیا جانے زمین کے خدا جب سنگسار کرتے ہیں تو معجزے نہیں ہوا کرتے۔ بس فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ کاش مجَھے بھی سنگسار کر دیا جاتا مگر نہیں۔ زرخیر زمین کو فصل کاٹنے کے بعد ہل سے ایک بار چیرا جاتا ہے۔ مجھے بھی چیرا گیا تاکہ کھیتی تیار کی جا سکے۔

میری پہلی اولاد لڑکی تھی۔ ایک اور عورت۔ مگر شکر ہے وہ میری طرح قسمت کی دیوی کے چرنوں میں نا بیٹھی۔ آزاد پیدا ہوئی اور مر گئی۔ مجھے ڈاکٹر نے بتایا کے تم غذائی کمی کا شکار ہو ابھی بچہ پیدا نا کرو پہلے اپنے آپ کو دیکھو مگر شام کے سائے ہمیشہ لمبے ہوتے ہیں۔

کھیتی کا کام نہیں زرخیزی کا حق مانگنا۔ وہ تو کسان کا کام ہے۔ ہاں مگر ایک نوید ضرور سنائی گئی۔ تم منحوس ہو۔ عورت، عورت جن رہی ہے۔ میں سوچتی رہی میں کیسے جن رہی ہوں۔ میری کھیتی آباد کرنے والا میرا خدا مجھے رسوا کر رہا ہے مگر میری رسوائی کس پیڑ کا پھل ہے؟

Read more

رابعہ الربا اور ڈاکٹر خالد سہیل خدا سے ڈریں

آئیے آج میں آپ کو دو ظالم لوگوں سے ملواتی ہوں، جو ظلم تو کرتے ہیں مگر ایسی سفاکی سے کہ کیا کہیے۔ جس جام میں یہ زہر گھول کر پِلاتے ہیں، وہ ہوش اڑاتی، بے خوابی کی آخری دہلیز تلک لے جاتی ہے۔ ارے ظالمو! ہم دنیا دار لوگ ہیں؛ ہم صبح کاذب کا…

Read more

عورتیں اب بے شرمی سے اپنی فطری خواہش کا اظہار کیوں کرنے لگی ہیں

یہ فحش کہانی ہمیں قبول نہیں۔ ۔ ۔ یہ کیا لکھ دیا آپ نے جناب؟ بھئی یہ سب ان عورتوں کے ڈرامے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب اور کوئی بات نہ ملی تو بہانہ یہ بنایا کہ تم مجھے خوش نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ آوارہ عورتیں آج کل یہی بہانہ بنا رہی…

Read more

میں زندہ ہوں، بابا

آج زینب کی قبر پر ایک باپ مٹی ڈال رہا تھا تو مجھے اپنی اسلامیات کی کتاب کا ایک باب یاد آگیا۔ اس میں ایک شخص اپنی کہانی سناتا ہے کہ کس طرح اس نے اپنی پانچ سالہ بچی کو اپنے ہاتھوں سے زندہ دفنایا تھا، جسے اس کی ماں نے پیدا ہونے کے بعد…

Read more