عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد: تلخی کے ماحول میں حکومتی وزرا کے ’مفاہمتی بیانات‘، سنیچر کو بھی سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری
وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مذاکرات سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے‘ جبکہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے ’تلخیاں اور تقسیم کم کرنے‘ کی تجویز دی ہے۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سنیچر کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں۔‘
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے، ہمیں مل بیٹھ کر مذاکرات سے کوئی حل نکالنا چاہیے۔‘
وزیرداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، بہتر یہ ہے کہ الیکشن کی تیاری کریں، اپوزیشن تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرے، یہ نہ ہو آپ دس سال لائن میں لگے رہیں۔‘
https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1502525775039320065?s=20&t=XUoXdeD6tf98N0RAiQXBqQ
انھوں نے کہا کہ ’جمہوریت اتنی انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے اس میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے، سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے۔‘
دوسری جانب سنیچر کو بھی سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
’عمران صاحب کو یہ باتیں سمجھائیں جنھوں نے سیاست کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مصطفٰی نواز کھوکھر نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کو بتایا کہ فواد چوہدری پہلے اپنے اس ٹویٹ کو وزیراعظم کو پڑھ کر سنائیں اگر وزیراعظم مشورے پر عمل کریں گے تو خوشی ہو گی۔
ان کے مطابق جب وزیراعظم ہر جلسے میں نفرت پر مبنی گفتگو کریں گے تو پھر تقسیم تو بڑھے گی۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک صرف وزیر اعظم کی طرف سے ہی نفرت والی گفتگو ہو رہی ہے۔
فواد چوہدری کے ٹویٹ کے ردعمل میں پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے، گالیاں دینے والے غنڈوں اور بدمعاشوں سے نہیں۔‘
انھوں نے فواد چوہدری کے بیان کو حقائق کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ ’جس نے معاشرے میں تقسیم، انتشار، فساد پیدا کیا، اس کا نام عمران خان ہے۔‘
انھوں نے بھی فواد چوہدری کو یہ مشورہ دیا کہ ’عمران صاحب کو یہ باتیں سمجھائیں جنھوں نے سیاست کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔‘
سینیٹر مصفطیٰ کھوکھر کے مطابق ’وزیر اعظم کا نفرت کا بیانیہ دینے کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے، اب یہی ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں تو مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس وقت اپوزیشن کی تمام توجہ صرف تحریک عدم اعتماد پر ہے کیونکہ ہمارے پاس مطوبہ تعداد موجود ہے اور ایک دو دن میں حکومت کے اتحادی بھی اپنا فیصلہ کر دیں گے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریں رحمان نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو گالی اور دھمکیاں دو، سزائے موت کی چکیوں میں ڈالو، بیٹیوں اور بہنوں کو جیلوں میں ڈالو، بے بنیاد الزامات لگاﺅ، پھر بات چیت کے لیکچر؟
ان کے مطابق ’سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالا ہوا ہے اور اس گندگی اور غلاظت کو صاف کرکے معاشرے میں پھیلے تعفن اور گھٹن کو ختم کریں گے، ان شااللہ۔۔ عدم اعتماد معاشرے سے غلاظت کے اس ڈھیر اور عدم برداشت کے منبعے کو ہٹانے کے لیے لائی جارہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اجلاس، ملاقاتیں، اور دعوے: اسلام آباد اور لاہور میں آخر ہو کیا رہا ہے
فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، افواہیں نہ پھیلائی جائیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
عمران خان کی ’ان سوئنگ یارکر‘ کی دھمکی، اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل، الیکشن کمیشن اِن ایکشن
’تصادم کی فضا بن چکی ہے، حکومت کو ہی پہلا قدم اٹھانا چاہیے‘
جیو نیوز سے وابستہ صحافی مظہر عباس نے بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیغامات اچھے ہیں مگر انھیں ایکشن میں تبدیل ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’صلح اور تلخیاں کم کرنے کی بات میں کوئی برائی نہیں مگر محظ ٹویٹ اور بیانات کافی نہیں۔ اگر حکومت واقعی بات چیت میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے وزیرِاعظم کو چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیں اور مذاکرات کی دعوت وزیروں کے لیول پر نہیں دی جاتیں بلکہ وزیرِاعظم کی جانب سے دی جاتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس بات چیت یا مذاکرات میں تمام پہلوؤں کا احاطہ ہونا چاہیے اور اپوزیشن کی تحفظات کا حل نکالا جانے چاہیے۔‘
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ ’سنہ 1977 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا اور وہ ایک بڑی تحریک تھی مگر اس کے بعد پھر مذاکرات سے ہی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن جب مذاکرات حل گئے تو مارشل لا لگ گیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس وقت واقعی تصادم کی فضا بن چکی ہے اور حکومت کو ہی پہلا قدم اٹھانا چاہیے۔
'جیسا کہ وزیرِاعظم نے ڈی چوک پر جلسے کی بات ہے، انھیں چاہیے اسے واپس لے لیں اور سپیکر کا روکنا ٹھیک نہیں، اس بات کا اختیار ممبران پر چھوڑ دیں کہ وہ جسے ووٹ دینا چاہتے ہیں اسے دے سکیں۔'
تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’بعد میں حکومت اپنے ان اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دے سکتی ہے۔‘
مظہر عباس کا کہنا ہے یہ سارا ماحول حکومت نے بنانا ہے، اور اگر حکومت کی طرف سے اچھا قدم لیا جائے گا تو ظاہر ہے جواب میں تلخی کم ہو گی مگر اس کی ابتدا وزیِر اعظم کی طرف سے ہونی چاہیے، اگر حکومت اپوزیشن کے خلاف استعمال کی جانے والی زبان پر پابندی عائد کرے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ایسا ہی جواب آئے گا اور آنا بھی چاہیے۔
‘اگر بیانات دینے کے تھوڑی دیر بعد وزرا اور دوسری طرف کے افراد نے وہی زبان استعمال کرنی ہے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔’
وہ کہتے ہیں کہ عدم اعتماد ایک عمل ہے جو پارلیمان کے اندر ہوتا ہے لیکن موجود صورتحال میں باہر کی اس کشیدگی اور تناؤ کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
‘ظاہر ہے عدم اعتماد کی تحریک ایک آئینی راستہ ہے اور اپوزیشن کو اس آئینی راستے کو استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب اگر حکومت کے اراکین اور اتحادی ٹوٹ کر جا رہے ہیں تو انھیں روکنا حکومت کا کام ہے۔‘


